<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی وبا کے 5 سال بعد کیا گھر سے کام کرنا اب بھی قابلِ عمل ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274820/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کووڈ 19 وبا کے دوران ناگزیر بننے والا گھر سے کام کرنے کا رجحان، پانچ سال بعد بھی کئی کمپنیوں میں قائم ہے جبکہ کچھ ادارے ہائبرڈ ماڈل اپنائے ہوئے ہیں اور دیگر نے اسے مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر سے کام کرنا — یا نہ کرنا — اب کارپوریٹ دنیا میں ایک متنازع موضوع بن چکا ہے۔ ”دی اکنامسٹ“ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مینیجرز کا ماننا ہے کہ ملازمین کا دفتر میں موجود ہونا کمپنی کی ثقافت کے لیے فائدہ مند ہے۔ دفتر میں اتفاقیہ ملاقاتیں اور گفتگو نئی تخلیقی آئیڈیاز کا باعث بنتی ہیں جو گھر سے کام کرنے میں کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تعاون (کولیبریشن) پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں مائیکروسافٹ کے 61,000 ملازمین پر کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ 2020 کے پہلے نصف میں دور دراز سے کام کرنے کی وجہ سے کمپنی زیادہ ”جزوی“ اور کم ”متحرک“ ہو گئی تھی۔ نئے ملازمین کو کمپنی کے نظام میں شامل کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود تقریباً تمام ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم کچھ دن گھر سے کام کرنا پسند کریں گے اور کمپنیاں ان ضروریات کے مطابق لچکدار رویہ اپنانے کی پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر سے کام کرنا کس حد تک ممکن اور قابلِ عمل ہے، یہ کئی عوامل پر منحصر ہے، جیسے کہ کارپوریٹ ثقافت، جو ہر ملک میں مختلف ہوتی ہے اور اس کا انحصار مقامی قوانین، روایات، پرائیویسی کا احترام، ذاتی سہولت، میرٹ، اور سب سے بڑھ کر منظم ترقی اور انعامات کے نظام پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معاملے میں کئی کمپنیوں کا روایتی رویہ ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو مشکل حالات میں بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتیں، جس سے ملازمین پر دباؤ بڑھتا ہے اور ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اور علاقائی ماہر ڈاکٹر محمود الحسن خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کارپوریٹ کمپنیاں تیزی، موثریت، مشترکہ کام اور وقت پر کسی مخصوص کام یا پروجیکٹ کی تکمیل چاہتی ہیں کیونکہ ہر فرد اور شعبہ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا اور انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر سے کام صرف تبھی کامیاب ہوتا ہے جب نظم و ضبط، ٹیم ورک، معلومات کا تبادلہ اور کام کی نوعیت متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستانی بینکنگ صنعت کی ایچ آر پالیسیاں خاص طور پر بڑے پیمانے پر اصلاحات کی مستحق ہیں۔ صنعت کے سربراہان عام طور پر گھر سے کام کی اجازت نہیں دیتے، چاہے ضرورت حقیقی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ اور دیگر شعبوں میں باس کو ایک اعلیٰ حکمران کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے جن کے اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، جیسے تقرری، ترقی، انعامات اور چھٹیوں کی منظوری، جو اکثر پیداواری صلاحیت اور حوصلے میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صورتوں میں، کمپنیاں خواتین کے گھر سے کام کرنے کی درخواستوں کے حوالے سے زیادہ نرم رویہ رکھتی ہیں کیونکہ معاشرتی طور پر یہ تصور ہے کہ خواتین کو گھر اور کام دونوں سنبھالنا پڑتا ہے۔ لیکن کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ تمام ملازمین کی نظم و ضبط، پابندی وقت، پیداواری صلاحیت اور شرکت کو برابر پرکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ماڈل چار روزہ ہفتہ وار کام کا ہے۔ 2022 میں بیلجیم نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ملازمین اپنے پورے کام کے گھنٹوں کو 4 طویل  کام کے دنوں ( ورکنگ ڈیز) میں مکمل کر سکتے ہیں اور انہیں مکمل تنخواہ دی جاتی ہے۔ آجر ابھی بھی انکار کر سکتے ہیں مگر انہیں اس کی تحریری اور معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی نے 2023 سے 2024 کے دوران تقریباً 41 سے 45 کمپنیوں پر مشتمل 6 ماہ کا ایک تجربہ کیا جس میں کم دنوں کے ہفتہ وار کام کے ماڈل کو مکمل تنخواہ کے ساتھ آزمایا گیا، جس میں 73 فیصد نے کہا کہ وہ اس ماڈل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دیگر یورپی ممالک کے علاوہ جنوبی افریقہ، برازیل، برطانیہ اور امریکہ میں بھی ایسے تجربات کامیاب ثابت ہوئے ہیں، جو اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں کہ ملازمین کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے اور پھر پیداواری صلاحیت خود بخود بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کووڈ 19 وبا کے دوران ناگزیر بننے والا گھر سے کام کرنے کا رجحان، پانچ سال بعد بھی کئی کمپنیوں میں قائم ہے جبکہ کچھ ادارے ہائبرڈ ماڈل اپنائے ہوئے ہیں اور دیگر نے اسے مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>گھر سے کام کرنا — یا نہ کرنا — اب کارپوریٹ دنیا میں ایک متنازع موضوع بن چکا ہے۔ ”دی اکنامسٹ“ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مینیجرز کا ماننا ہے کہ ملازمین کا دفتر میں موجود ہونا کمپنی کی ثقافت کے لیے فائدہ مند ہے۔ دفتر میں اتفاقیہ ملاقاتیں اور گفتگو نئی تخلیقی آئیڈیاز کا باعث بنتی ہیں جو گھر سے کام کرنے میں کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تعاون (کولیبریشن) پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>2021 میں مائیکروسافٹ کے 61,000 ملازمین پر کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ 2020 کے پہلے نصف میں دور دراز سے کام کرنے کی وجہ سے کمپنی زیادہ ”جزوی“ اور کم ”متحرک“ ہو گئی تھی۔ نئے ملازمین کو کمپنی کے نظام میں شامل کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔</p>
<p>اس کے باوجود تقریباً تمام ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم کچھ دن گھر سے کام کرنا پسند کریں گے اور کمپنیاں ان ضروریات کے مطابق لچکدار رویہ اپنانے کی پابند ہیں۔</p>
<p>گھر سے کام کرنا کس حد تک ممکن اور قابلِ عمل ہے، یہ کئی عوامل پر منحصر ہے، جیسے کہ کارپوریٹ ثقافت، جو ہر ملک میں مختلف ہوتی ہے اور اس کا انحصار مقامی قوانین، روایات، پرائیویسی کا احترام، ذاتی سہولت، میرٹ، اور سب سے بڑھ کر منظم ترقی اور انعامات کے نظام پر ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے معاملے میں کئی کمپنیوں کا روایتی رویہ ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو مشکل حالات میں بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتیں، جس سے ملازمین پر دباؤ بڑھتا ہے اور ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>معاشی اور علاقائی ماہر ڈاکٹر محمود الحسن خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کارپوریٹ کمپنیاں تیزی، موثریت، مشترکہ کام اور وقت پر کسی مخصوص کام یا پروجیکٹ کی تکمیل چاہتی ہیں کیونکہ ہر فرد اور شعبہ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا اور انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>گھر سے کام صرف تبھی کامیاب ہوتا ہے جب نظم و ضبط، ٹیم ورک، معلومات کا تبادلہ اور کام کی نوعیت متاثر نہ ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستانی بینکنگ صنعت کی ایچ آر پالیسیاں خاص طور پر بڑے پیمانے پر اصلاحات کی مستحق ہیں۔ صنعت کے سربراہان عام طور پر گھر سے کام کی اجازت نہیں دیتے، چاہے ضرورت حقیقی ہو۔</p>
<p>بینکنگ اور دیگر شعبوں میں باس کو ایک اعلیٰ حکمران کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے جن کے اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، جیسے تقرری، ترقی، انعامات اور چھٹیوں کی منظوری، جو اکثر پیداواری صلاحیت اور حوصلے میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p>کچھ صورتوں میں، کمپنیاں خواتین کے گھر سے کام کرنے کی درخواستوں کے حوالے سے زیادہ نرم رویہ رکھتی ہیں کیونکہ معاشرتی طور پر یہ تصور ہے کہ خواتین کو گھر اور کام دونوں سنبھالنا پڑتا ہے۔ لیکن کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ تمام ملازمین کی نظم و ضبط، پابندی وقت، پیداواری صلاحیت اور شرکت کو برابر پرکھیں۔</p>
<p>ایک اور ماڈل چار روزہ ہفتہ وار کام کا ہے۔ 2022 میں بیلجیم نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ملازمین اپنے پورے کام کے گھنٹوں کو 4 طویل  کام کے دنوں ( ورکنگ ڈیز) میں مکمل کر سکتے ہیں اور انہیں مکمل تنخواہ دی جاتی ہے۔ آجر ابھی بھی انکار کر سکتے ہیں مگر انہیں اس کی تحریری اور معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔</p>
<p>جرمنی نے 2023 سے 2024 کے دوران تقریباً 41 سے 45 کمپنیوں پر مشتمل 6 ماہ کا ایک تجربہ کیا جس میں کم دنوں کے ہفتہ وار کام کے ماڈل کو مکمل تنخواہ کے ساتھ آزمایا گیا، جس میں 73 فیصد نے کہا کہ وہ اس ماڈل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>کئی دیگر یورپی ممالک کے علاوہ جنوبی افریقہ، برازیل، برطانیہ اور امریکہ میں بھی ایسے تجربات کامیاب ثابت ہوئے ہیں، جو اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں کہ ملازمین کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے اور پھر پیداواری صلاحیت خود بخود بڑھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274820</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 17:52:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/18173105a24bb9d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="432" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/18173105a24bb9d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
