<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال کے بعد 2.1 ارب ڈالر سرپلس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274816/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال خسارے میں رہنے کے بعد مالی سال 2025 میں سرپلس رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 25-2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2.1 ارب ڈالر سے سرپلس رہا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 24 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2.07 ارب ڈالر خسارے میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے کے ڈی سیکیورٹیز کے مطابق یہ گزشتہ 14 سال میں پہلا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرپلس مالی سال 2024-25 کے دوران ترسیلات زر میں نمایاں اضافے کی بدولت حاصل ہوا جو 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — یہ سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ  سرپلس کا سب سے اہم سبب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جون 2025 میں  کرنٹ اکاؤنٹ 328 ملین ڈالر سے سرپلس رہا جب کہ گزشتہ ماہ (نظرثانی شدہ) 84 ملین ڈالر کا خسارہ اور جون 2024 میں 500 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس برآمدات میں نمایاں اضافے کی بدولت ممکن ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بریک ڈاؤن&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 میں ملک کی مجموعی برآمدات (اشیاء و خدمات) 3.33 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کی 3.09 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جون 2025 کے دوران ملک کی مجموعی درآمدات 5.84 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 میں ترسیلات زر 3.41 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سست معاشی نمو اور بلند مہنگائی نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو محدود کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ برآمدات میں بہتری نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی ہے۔ بلند شرح سود — جو حالیہ مہینوں میں کسی حد تک کم ہوئی ہے — اور درآمدات پر عائد بعض پابندیاں بھی پالیسی سازوں کے اس ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوئی ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم سے کم رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال خسارے میں رہنے کے بعد مالی سال 2025 میں سرپلس رہا۔</strong></p>
<p>مالی سال 25-2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2.1 ارب ڈالر سے سرپلس رہا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 24 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2.07 ارب ڈالر خسارے میں تھا۔</p>
<p>اے کے ڈی سیکیورٹیز کے مطابق یہ گزشتہ 14 سال میں پہلا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے۔</p>
<p>یہ سرپلس مالی سال 2024-25 کے دوران ترسیلات زر میں نمایاں اضافے کی بدولت حاصل ہوا جو 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — یہ سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ  سرپلس کا سب سے اہم سبب رہا۔</p>
<p>دریں اثنا جون 2025 میں  کرنٹ اکاؤنٹ 328 ملین ڈالر سے سرپلس رہا جب کہ گزشتہ ماہ (نظرثانی شدہ) 84 ملین ڈالر کا خسارہ اور جون 2024 میں 500 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس برآمدات میں نمایاں اضافے کی بدولت ممکن ہوا ہے۔</p>
<p><strong>بریک ڈاؤن</strong></p>
<p>جون 2025 میں ملک کی مجموعی برآمدات (اشیاء و خدمات) 3.33 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کی 3.09 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جون 2025 کے دوران ملک کی مجموعی درآمدات 5.84 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>جون 2025 میں ترسیلات زر 3.41 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>سست معاشی نمو اور بلند مہنگائی نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو محدود کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ برآمدات میں بہتری نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی ہے۔ بلند شرح سود — جو حالیہ مہینوں میں کسی حد تک کم ہوئی ہے — اور درآمدات پر عائد بعض پابندیاں بھی پالیسی سازوں کے اس ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوئی ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم سے کم رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274816</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 22:24:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/181606372ae431c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/181606372ae431c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
