<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:56:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:56:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گاڑیوں پر نئی انرجی وہیکل لیوی نافذ، نوٹیفکیشن جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274815/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نیو انرجی وہیکل (این ای وی) اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے انٹرنل کمبسشن انجن (ئی سی ای) والی مقامی طور پر تیار یا اسمبل شدہ اور درآمد شدہ گاڑیوں پر لیوی کی شرح کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ٹیکس نظام کا بنیادی مقصد روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے الیکٹرک اور توانائی بچانے والی متبادل گاڑیوں کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ کے پہلے شیڈول کے مطابق پاکستان میں تیار یا اسمبل کی جانے والی تمام آئی سی ای موٹر گاڑیوں پر، جن کی انجن کی گنجائش 1300 سی سی سے کم ہے، مینوفیکچرر کو انوائس قیمت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 1 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس شخص کی جانب سے انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) والی موٹر گاڑی درآمد کی جائے گی، اسے ان تمام گاڑیوں پر — جن کی انجن گنجائش 1300 سی سی سے کم ہو — تخمینہ شدہ مالیت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 1 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ وہ مینوفیکچرر جو پاکستان میں 1300 سی سی سے 1800 سی سی انجن رکھنے والی آئی سی ای گاڑیاں تیار یا اسمبل کرے گا، اُسے انوائس قیمت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 2 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وہ شخص جو پاکستان میں 1300 سی سی سے 1800 سی سی انجن گنجائش والی انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) موٹر گاڑی درآمد کرے گا، اُسے تخمینہ شدہ مالیت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 2 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مینوفیکچرر جو پاکستان میں 1800 سی سی سے زائد انجن گنجائش والی انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) موٹر گاڑیاں تیار یا اسمبل کرے گا، اُسے انوائس قیمت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 3 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ 1800 سی سی سے زائد انجن گنجائش والی تمام درآمد شدہ آئی سی ای موٹر گاڑیوں پر بھی تخمینہ شدہ مالیت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 3 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لیوی ان افراد پر لاگو ہوگی جو انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) والی موٹر گاڑیاں درآمد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، کمبسشن انجن والے درآمد شدہ بسوں اور ٹرکوں پر بھی 1 فیصد لیوی عائد کی جائے گی جبکہ مقامی طور پر اسمبل شدہ بسوں اور ٹرکوں پر بھی 1 فیصد لیوی لاگو ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نیو انرجی وہیکل (این ای وی) اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے انٹرنل کمبسشن انجن (ئی سی ای) والی مقامی طور پر تیار یا اسمبل شدہ اور درآمد شدہ گاڑیوں پر لیوی کی شرح کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔</p>
<p>نئے ٹیکس نظام کا بنیادی مقصد روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے الیکٹرک اور توانائی بچانے والی متبادل گاڑیوں کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>فنانس ایکٹ کے پہلے شیڈول کے مطابق پاکستان میں تیار یا اسمبل کی جانے والی تمام آئی سی ای موٹر گاڑیوں پر، جن کی انجن کی گنجائش 1300 سی سی سے کم ہے، مینوفیکچرر کو انوائس قیمت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 1 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>جس شخص کی جانب سے انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) والی موٹر گاڑی درآمد کی جائے گی، اسے ان تمام گاڑیوں پر — جن کی انجن گنجائش 1300 سی سی سے کم ہو — تخمینہ شدہ مالیت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 1 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>جبکہ وہ مینوفیکچرر جو پاکستان میں 1300 سی سی سے 1800 سی سی انجن رکھنے والی آئی سی ای گاڑیاں تیار یا اسمبل کرے گا، اُسے انوائس قیمت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 2 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>دریں اثنا وہ شخص جو پاکستان میں 1300 سی سی سے 1800 سی سی انجن گنجائش والی انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) موٹر گاڑی درآمد کرے گا، اُسے تخمینہ شدہ مالیت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 2 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>وہ مینوفیکچرر جو پاکستان میں 1800 سی سی سے زائد انجن گنجائش والی انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) موٹر گاڑیاں تیار یا اسمبل کرے گا، اُسے انوائس قیمت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 3 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>جبکہ 1800 سی سی سے زائد انجن گنجائش والی تمام درآمد شدہ آئی سی ای موٹر گاڑیوں پر بھی تخمینہ شدہ مالیت (ڈیوٹی اور ٹیکسز سمیت) کا 3 فیصد ایڈ ویلیورم لیوی لاگو ہوگا۔</p>
<p>یہ لیوی ان افراد پر لاگو ہوگی جو انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) والی موٹر گاڑیاں درآمد کریں گے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، کمبسشن انجن والے درآمد شدہ بسوں اور ٹرکوں پر بھی 1 فیصد لیوی عائد کی جائے گی جبکہ مقامی طور پر اسمبل شدہ بسوں اور ٹرکوں پر بھی 1 فیصد لیوی لاگو ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274815</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 15:46:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1815301878e07f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1815301878e07f4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
