<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قدرتی جھیلوں کے تحفظ کیلئے بڑا اقدام، شمالی علاقوں میں نئے ہوٹلوں کی تعمیر پر پانچ سالہ پابندی عائد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274810/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے شمالی علاقہ جات کی دلکش جھیلوں کے گرد نئے ہوٹلوں کی تعمیر پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں سیاح فطری مناظر سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ سرکاری ادارے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی نظام کو مزید بگاڑ سے بچانا اور خطے کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان جو تقریباً 13,000 گلیشیئرز کا مسکن ہے — اور قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز رکھنے والا خطہ ہے — یہاں بے قابو ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر سے شدید ماحولیاتی خدشات جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ علاقہ اپنی قدرتی عظمت، بلند و بالا پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں، چیری کے باغات اور گلیشیئرز کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ قدیم شاہراہِ ریشم کے ساتھ جڑی یہ سرزمین ایک اہم سیاحتی مقام بن چکی ہے، جہاں ایک مرکزی شاہراہ سیاحوں کو فطری نظاروں کے بیچ سفر کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، حالیہ برسوں میں علاقے سے باہر کی تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے تیزی سے ہوٹلوں کی تعمیر کے باعث پانی اور بجلی کے وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ فضلہ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان انوائرمینٹل پروٹیکشن اتھارٹی کے سینئر افسر خادم حسین نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اسی رفتار سے ہوٹل تعمیر ہونے دیے تو یہاں کنکریٹ کا جنگل بن جائے گا۔ لوگ یہاں سیمنٹ اور اینٹیں دیکھنے نہیں، بلکہ قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ایک غیر ملکی سیاح کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ایک ہوٹل عطا آباد جھیل میں گندا پانی خارج کررہا ہے۔ یہ جھیل ہنزہ کے لیے تازہ پانی کا اہم ذریعہ ہے۔ واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے ہوٹل پر 5,000 ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنزہ کے سیاسی کارکن آصف سخی نے پابندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے سیاحت اور ترقی کے نام پر تیزی سے تبدیلیاں دیکھی ہیں جو ہماری قدرتی جھیلوں اور دریاؤں کو تباہ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی کے ایک اور مقامی رہائشی اور ہوٹل منیجر شاہ نواز نے بھی اس پابندی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے شمالی علاقہ جات کی دلکش جھیلوں کے گرد نئے ہوٹلوں کی تعمیر پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں سیاح فطری مناظر سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ سرکاری ادارے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی نظام کو مزید بگاڑ سے بچانا اور خطے کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھنا ہے۔</strong></p>
<p>گلگت بلتستان جو تقریباً 13,000 گلیشیئرز کا مسکن ہے — اور قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز رکھنے والا خطہ ہے — یہاں بے قابو ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر سے شدید ماحولیاتی خدشات جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>یہ علاقہ اپنی قدرتی عظمت، بلند و بالا پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں، چیری کے باغات اور گلیشیئرز کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ قدیم شاہراہِ ریشم کے ساتھ جڑی یہ سرزمین ایک اہم سیاحتی مقام بن چکی ہے، جہاں ایک مرکزی شاہراہ سیاحوں کو فطری نظاروں کے بیچ سفر کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم، حالیہ برسوں میں علاقے سے باہر کی تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے تیزی سے ہوٹلوں کی تعمیر کے باعث پانی اور بجلی کے وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ فضلہ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>گلگت بلتستان انوائرمینٹل پروٹیکشن اتھارٹی کے سینئر افسر خادم حسین نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اسی رفتار سے ہوٹل تعمیر ہونے دیے تو یہاں کنکریٹ کا جنگل بن جائے گا۔ لوگ یہاں سیمنٹ اور اینٹیں دیکھنے نہیں، بلکہ قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔“</p>
<p>گزشتہ ماہ ایک غیر ملکی سیاح کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ایک ہوٹل عطا آباد جھیل میں گندا پانی خارج کررہا ہے۔ یہ جھیل ہنزہ کے لیے تازہ پانی کا اہم ذریعہ ہے۔ واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے ہوٹل پر 5,000 ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا۔</p>
<p>ہنزہ کے سیاسی کارکن آصف سخی نے پابندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے سیاحت اور ترقی کے نام پر تیزی سے تبدیلیاں دیکھی ہیں جو ہماری قدرتی جھیلوں اور دریاؤں کو تباہ کر رہی ہیں۔</p>
<p>وادی کے ایک اور مقامی رہائشی اور ہوٹل منیجر شاہ نواز نے بھی اس پابندی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274810</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 14:42:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1814375601f52b8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1814375601f52b8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
