<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 02:02:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 02:02:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ایس جی سی نے جے جے وی ایل کو گیس فراہمی بحالی کا معاہدہ منظور کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور قدرتی گیس مائعات (این ایل جی) نکالنے کے لیے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) کے ساتھ ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی، جو سندھ اور بلوچستان میں قدرتی گیس کی ترسیل اور تقسیم میں مصروف ہے، نے یہ پیشرفت جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ
ایس ایس جی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز  نے اپنی 17 جولائی 2025 کو ایس ایس جی سی ہیڈ آفس میں ہونے والی میٹنگ میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ  اور جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ  کے درمیان ایل پی جی اور این جی ایل نکالنے کے لیے ابتدائی معاہدے کی منظوری دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی نے بتایا کہ یہ معاہدہ فریقین کے درمیان طے شدہ شرائط و ضوابط کی بنیاد پر پہلے ہی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے توثیق اور منظوری حاصل کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے اور جے جے وی ایل پلانٹ کو گیس کی فراہمی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ، وفاقی حکومت کے ادارے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی ایجنسی ایس آئی ایف سی نے ایس ایس جی سی اور جے جے وی ایل کے درمیان معاہدے کی باضابطہ توثیق کی تھی تاکہ ریونیو شیئرنگ فارمولے کی بنیاد پر جے جے وی ایل ایل پی جی-این جی ایل پلانٹ کو فعال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی ایف سی نے اس ڈیل کی منظوری 66:34 ریونیو تقسیم (ایس ایس جی سی: جے جے وی ایل) اور ایس ایس جی سی کے لیے اوگرا سے نوٹیفائیڈ قیمت پر 25 فیصد ایل پی جی شیئر کے ساتھ دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور قدرتی گیس مائعات (این ایل جی) نکالنے کے لیے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) کے ساتھ ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>ایس ایس جی سی، جو سندھ اور بلوچستان میں قدرتی گیس کی ترسیل اور تقسیم میں مصروف ہے، نے یہ پیشرفت جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں بتائی۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ
ایس ایس جی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز  نے اپنی 17 جولائی 2025 کو ایس ایس جی سی ہیڈ آفس میں ہونے والی میٹنگ میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ  اور جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ  کے درمیان ایل پی جی اور این جی ایل نکالنے کے لیے ابتدائی معاہدے کی منظوری دی ہے۔</p>
<p>ایس ایس جی سی نے بتایا کہ یہ معاہدہ فریقین کے درمیان طے شدہ شرائط و ضوابط کی بنیاد پر پہلے ہی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے توثیق اور منظوری حاصل کر چکا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے اور جے جے وی ایل پلانٹ کو گیس کی فراہمی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ، وفاقی حکومت کے ادارے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی ایجنسی ایس آئی ایف سی نے ایس ایس جی سی اور جے جے وی ایل کے درمیان معاہدے کی باضابطہ توثیق کی تھی تاکہ ریونیو شیئرنگ فارمولے کی بنیاد پر جے جے وی ایل ایل پی جی-این جی ایل پلانٹ کو فعال کیا جا سکے۔</p>
<p>ایس آئی ایف سی نے اس ڈیل کی منظوری 66:34 ریونیو تقسیم (ایس ایس جی سی: جے جے وی ایل) اور ایس ایس جی سی کے لیے اوگرا سے نوٹیفائیڈ قیمت پر 25 فیصد ایل پی جی شیئر کے ساتھ دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274797</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 10:55:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/181042591168e29.png" type="image/png" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/181042591168e29.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
