<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 07:40:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 07:40:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ: 100 انڈیکس ریکارڈ حد عبور کرنے کے بعد ہموار سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274793/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس ہفتے کے آخری کاروباری روز تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے ہموار سطح پر بند ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے جمعے کے روز پہلی بار 140,000 پوائنٹس کی سطح عبور ہونے کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 انڈیکس نے جمعہ کے روز کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ کیا اور انٹرا ڈے کے دوران نئی ریکارڈ بلند ترین سطح  140,585.39 پوائنٹس کو چھو لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار کے آخری گھنٹوں میں منافع خوری کا رجحان غالب آیا جس کے باعث انڈیکس کی ابتدائی تیزی ختم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 138,597.36 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 68.14 پوائنٹس یا 0.05 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور مقامی اداروں کی خریداری کے باعث انڈیکس میں 1,920 پوائنٹس (1.38 فیصد) تک اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ کے مطابق کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں منافع سمیٹنے کا رجحان دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے ہفتے کے اختتام سے قبل منافع بک کرانا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انڈیکس میں سب سے مثبت کردار ایف ایف سی، یو بی ایل، اینگرو ایچ، پی ایس ای ایل، پی اے بی سی اور ایفرٹ نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر 1,052 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایس وائے ایس، ایم ای بی ایل، حبکو، این بی پی اور ماری کی قدر میں کمی نے انڈیکس پر 345 پوائنٹس کا منفی دباؤ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے اپنی تیزی کو جاری رکھتے ہوئے کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,285 پوائنٹس یا 1.68 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا اور انڈیکس نئی بلند ترین بندش 138,665.50 پوائنٹس پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بتایا ہے کہ ہفتہ وار بنیاد پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ مقامی میوچل فنڈز کی جانب سے جاری خریداری کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے ماہرین نے کہا کہ مثبت اقتصادی اشاریوں کی بنیاد پر اس حوصلہ افزائی کا رجحان مستقبل میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے دن کے آغاز میں بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے رزلٹ سیزن میں تیزی کی رفتار جاری رہنے کی توقع ہے، تاہم جیسے جیسے مارکیٹ کے استحکام کی جانب بڑھے گی، منافع کے حصول کے لیے وقفے وقفے سے فروخت دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ArifHabibLtd/status/1946066174112072104?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1946066174112072104%7Ctwgr%5E333ad94a694f8f1e88fd5a1f7bb17796497e556a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40373282"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی مارکیٹس نے جمعہ کو وال اسٹریٹ کی پیروی میں تیزی دکھائی، کیونکہ مضبوط امریکی معاشی ڈیٹا اور کارپوریٹ نتائج نے ٹیرف سے متعلق خدشات کو متوازن کر دیا، جبکہ ین جاپان کے ایوانِ بالا کے انتخابات سے قبل دوسری مسلسل ہفتہ وار گراوٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شب، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک نے ایک بار پھر ریکارڈ سطحوں پر اختتام کیا، کیونکہ امریکی ڈیٹا، بشمول ریٹیل سیلز اور جاب لیس کلیمز، توقعات سے بہتر رہا، جو معیشت میں معمولی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے اور فیڈرل ریزرو کو امریکی ٹیرف میں اضافے سے پیدا ہونے والے افراطِ زر کے اثرات کا جائزہ لینے کا وقت دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ فلکس نے دوسری سہ ماہی کی آمدنی میں وال اسٹریٹ کی توقعات سے بہتر نتائج پیش کیے، جزوی طور پر کمزور امریکی ڈالر کی وجہ سے۔ تاہم، اس کے شیئرز کی قیمت آفٹر آورز ٹریڈنگ میں 1.8 فیصد کم ہو گئی، کیونکہ تجزیہ کاروں کے مطابق زیادہ تر ترقی پہلے ہی قیمت میں شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کا وسیع انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.8 فیصد بڑھ کر اواخر 2021 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس سے ہفتہ وار اضافہ 1.7 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جاپان کا نکئی انڈیکس 0.2 فیصد گر گیا، جبکہ ین 148.54 فی ڈالر پر آیا، جو اس ہفتے تقریباً 0.7 فیصد نیچے ہے، کیونکہ رائے عامہ کے سرویز نے ظاہر کیا کہ وزیراعظم شیگیرُو اشیبا کا اتحاد اتوار کے انتخابات میں اپنی اکثریت کھو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو 0.04 فیصد کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 284.87 کی سطح پر بند ہوا، جو کہ 10 پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم بھی کم ہو کر 609.44 ملین رہ گیا، جو پچھلے بندش کے 780.01 ملین سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 31.62 ارب روپے رہ گئی، جو کہ پچھلے سیشن میں 39.97 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل بلک نے 53.11 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ حجم کا ریکارڈ قائم کیا، اس کے بعد فرسٹ داؤد پراپرٹی کے 42.00 ملین اور غنی کیم ورلڈ کے 31.78 ملین شیئرز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو 478 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 120 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 331 میں کمی، جبکہ 27 میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/181931423bc8bfa.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس ہفتے کے آخری کاروباری روز تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے ہموار سطح پر بند ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے جمعے کے روز پہلی بار 140,000 پوائنٹس کی سطح عبور ہونے کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔</strong></p>
<p>کے ایس ای 100 انڈیکس نے جمعہ کے روز کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ کیا اور انٹرا ڈے کے دوران نئی ریکارڈ بلند ترین سطح  140,585.39 پوائنٹس کو چھو لیا۔</p>
<p>تاہم کاروبار کے آخری گھنٹوں میں منافع خوری کا رجحان غالب آیا جس کے باعث انڈیکس کی ابتدائی تیزی ختم ہو گئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 138,597.36 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 68.14 پوائنٹس یا 0.05 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور مقامی اداروں کی خریداری کے باعث انڈیکس میں 1,920 پوائنٹس (1.38 فیصد) تک اضافہ ہوا۔</p>
<p>تاہم رپورٹ کے مطابق کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں منافع سمیٹنے کا رجحان دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے ہفتے کے اختتام سے قبل منافع بک کرانا شروع کر دیا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انڈیکس میں سب سے مثبت کردار ایف ایف سی، یو بی ایل، اینگرو ایچ، پی ایس ای ایل، پی اے بی سی اور ایفرٹ نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر 1,052 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایس وائے ایس، ایم ای بی ایل، حبکو، این بی پی اور ماری کی قدر میں کمی نے انڈیکس پر 345 پوائنٹس کا منفی دباؤ ڈالا۔</p>
<p>جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے اپنی تیزی کو جاری رکھتے ہوئے کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,285 پوائنٹس یا 1.68 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا اور انڈیکس نئی بلند ترین بندش 138,665.50 پوائنٹس پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بتایا ہے کہ ہفتہ وار بنیاد پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ مقامی میوچل فنڈز کی جانب سے جاری خریداری کو قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کے ماہرین نے کہا کہ مثبت اقتصادی اشاریوں کی بنیاد پر اس حوصلہ افزائی کا رجحان مستقبل میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے دن کے آغاز میں بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے رزلٹ سیزن میں تیزی کی رفتار جاری رہنے کی توقع ہے، تاہم جیسے جیسے مارکیٹ کے استحکام کی جانب بڑھے گی، منافع کے حصول کے لیے وقفے وقفے سے فروخت دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ArifHabibLtd/status/1946066174112072104?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1946066174112072104%7Ctwgr%5E333ad94a694f8f1e88fd5a1f7bb17796497e556a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40373282"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی مارکیٹس نے جمعہ کو وال اسٹریٹ کی پیروی میں تیزی دکھائی، کیونکہ مضبوط امریکی معاشی ڈیٹا اور کارپوریٹ نتائج نے ٹیرف سے متعلق خدشات کو متوازن کر دیا، جبکہ ین جاپان کے ایوانِ بالا کے انتخابات سے قبل دوسری مسلسل ہفتہ وار گراوٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔</p>
<p>گزشتہ شب، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک نے ایک بار پھر ریکارڈ سطحوں پر اختتام کیا، کیونکہ امریکی ڈیٹا، بشمول ریٹیل سیلز اور جاب لیس کلیمز، توقعات سے بہتر رہا، جو معیشت میں معمولی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے اور فیڈرل ریزرو کو امریکی ٹیرف میں اضافے سے پیدا ہونے والے افراطِ زر کے اثرات کا جائزہ لینے کا وقت دے سکتا ہے۔</p>
<p>نیٹ فلکس نے دوسری سہ ماہی کی آمدنی میں وال اسٹریٹ کی توقعات سے بہتر نتائج پیش کیے، جزوی طور پر کمزور امریکی ڈالر کی وجہ سے۔ تاہم، اس کے شیئرز کی قیمت آفٹر آورز ٹریڈنگ میں 1.8 فیصد کم ہو گئی، کیونکہ تجزیہ کاروں کے مطابق زیادہ تر ترقی پہلے ہی قیمت میں شامل تھی۔</p>
<p>جمعہ کو ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کا وسیع انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.8 فیصد بڑھ کر اواخر 2021 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس سے ہفتہ وار اضافہ 1.7 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>تاہم جاپان کا نکئی انڈیکس 0.2 فیصد گر گیا، جبکہ ین 148.54 فی ڈالر پر آیا، جو اس ہفتے تقریباً 0.7 فیصد نیچے ہے، کیونکہ رائے عامہ کے سرویز نے ظاہر کیا کہ وزیراعظم شیگیرُو اشیبا کا اتحاد اتوار کے انتخابات میں اپنی اکثریت کھو سکتا ہے۔</p>
<p>دریں اثناء پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو 0.04 فیصد کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 284.87 کی سطح پر بند ہوا، جو کہ 10 پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم بھی کم ہو کر 609.44 ملین رہ گیا، جو پچھلے بندش کے 780.01 ملین سے کم ہے۔</p>
<p>شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 31.62 ارب روپے رہ گئی، جو کہ پچھلے سیشن میں 39.97 ارب روپے تھی۔</p>
<p>پاکستان انٹرنیشنل بلک نے 53.11 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ حجم کا ریکارڈ قائم کیا، اس کے بعد فرسٹ داؤد پراپرٹی کے 42.00 ملین اور غنی کیم ورلڈ کے 31.78 ملین شیئرز رہے۔</p>
<p>جمعہ کو 478 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 120 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 331 میں کمی، جبکہ 27 میں استحکام رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/181931423bc8bfa.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274793</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 20:41:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/181006334695cda.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/181006334695cda.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
