<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:22:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:22:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریستورانوں کیلئے ڈیجیٹل ادائیگی اسکیم، پی ٹی بی اے کا سندھ ریونیو بورڈ پر امتیازی رویے کا الزام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274791/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) پر ریستورانوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے مراعاتی پروگرام میں غیر منصفانہ تفریق پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کاروباروں کے ساتھ جانبدارانہ رویہ صوبے کی وسیع ٹیکس ڈاکیومنٹیشن مہم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آر بی کے چیئرمین ڈاکٹر واصف علی میمن کو لکھے گئے ایک خط میں پی ٹی بی اے نے سوال اٹھایا کہ ریونیو اتھارٹی نے 73 ریستورانوں کو کس بنیاد پر یہ خصوصی رعایت دی ہے کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بھی 15 فیصد معیاری سیلز ٹیکس وصول کرتے رہیں، جبکہ دیگر ریستورانوں کے لیے کارڈ اور موبائل والیٹ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس سال 25-2024 کے لیے ایس آر بی نے صوبے بھر میں ریستورانوں پر سیلز ٹیکس کے نظام کو از سر نو ترتیب دیتے ہوئے شرح کو 13 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا اور خود کو ایک ترقی پسند ریونیو اتھارٹی کے طور پر پیش کیا جو ڈیجیٹل ڈاکیومنٹیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے دوہری ٹیکس شرح کا نظام متعارف کرایا تاکہ الیکٹرانک ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس اسکیم کے تحت ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، موبائل والیٹ یا کیو آر کوڈ اسکیننگ کے ذریعے ادائیگی کرنے والے صارفین سے صرف 8 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ نقد ادائیگیوں پر مکمل 15 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایس آر بی نے پہلے سے پی او ایس انٹیگریٹڈ ریستورانوں اور کیفے کو خصوصی رعایت دی کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بھی 15 فیصد معیاری شرح برقرار رکھتے ہوئے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کر سکیں تاکہ قیمتیں متوازن رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ خصوصی رعایت نہایت متنازعہ ثابت ہوئی ہے کیونکہ مراعات یافتہ ریستورانوں کی فہرست کو وسعت نہیں دی گئی، چاہے دانستہ ہو یا نادانستہ، جس سے مارکیٹ میں غیر مساوی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں کچھ ریستوران ترجیحی سلوک سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ دیگر مقابل نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آر بی کے اس فیصلے نے کہ کچھ اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگی مراعاتی اسکیم سے مستثنیٰ کرتے ہوئے بھی ان پٹ ٹیکس فوائد لینے کی اجازت دی جائے، ریستوران سیکٹر میں جانبداری اور امتیازی سلوک کے الزامات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) پر ریستورانوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے مراعاتی پروگرام میں غیر منصفانہ تفریق پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کاروباروں کے ساتھ جانبدارانہ رویہ صوبے کی وسیع ٹیکس ڈاکیومنٹیشن مہم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایس آر بی کے چیئرمین ڈاکٹر واصف علی میمن کو لکھے گئے ایک خط میں پی ٹی بی اے نے سوال اٹھایا کہ ریونیو اتھارٹی نے 73 ریستورانوں کو کس بنیاد پر یہ خصوصی رعایت دی ہے کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بھی 15 فیصد معیاری سیلز ٹیکس وصول کرتے رہیں، جبکہ دیگر ریستورانوں کے لیے کارڈ اور موبائل والیٹ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>ٹیکس سال 25-2024 کے لیے ایس آر بی نے صوبے بھر میں ریستورانوں پر سیلز ٹیکس کے نظام کو از سر نو ترتیب دیتے ہوئے شرح کو 13 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا اور خود کو ایک ترقی پسند ریونیو اتھارٹی کے طور پر پیش کیا جو ڈیجیٹل ڈاکیومنٹیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے دوہری ٹیکس شرح کا نظام متعارف کرایا تاکہ الیکٹرانک ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس اسکیم کے تحت ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، موبائل والیٹ یا کیو آر کوڈ اسکیننگ کے ذریعے ادائیگی کرنے والے صارفین سے صرف 8 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ نقد ادائیگیوں پر مکمل 15 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ایس آر بی نے پہلے سے پی او ایس انٹیگریٹڈ ریستورانوں اور کیفے کو خصوصی رعایت دی کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بھی 15 فیصد معیاری شرح برقرار رکھتے ہوئے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کر سکیں تاکہ قیمتیں متوازن رہیں۔</p>
<p>تاہم یہ خصوصی رعایت نہایت متنازعہ ثابت ہوئی ہے کیونکہ مراعات یافتہ ریستورانوں کی فہرست کو وسعت نہیں دی گئی، چاہے دانستہ ہو یا نادانستہ، جس سے مارکیٹ میں غیر مساوی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں کچھ ریستوران ترجیحی سلوک سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ دیگر مقابل نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایس آر بی کے اس فیصلے نے کہ کچھ اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگی مراعاتی اسکیم سے مستثنیٰ کرتے ہوئے بھی ان پٹ ٹیکس فوائد لینے کی اجازت دی جائے، ریستوران سیکٹر میں جانبداری اور امتیازی سلوک کے الزامات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274791</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 09:46:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/18094432fb64b6c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/18094432fb64b6c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
