<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہونڈا اٹلس کو پاکستان سے گاڑیوں کی برآمدات میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274771/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگرچہ ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ (ایچ سی اے آر) نے کامیابی سے محدود تعداد میں ہونڈا سٹی یونٹس جاپان کو برآمد کیے ہیں، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب بھی دیگر ایشیائی ذیلی کمپنیوں کے مقابلے میں برآمدی لحاظ سے پسماندہ ہے، اور بڑے پیمانے پر برآمدات فی الحال ممکن نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات 16 جولائی 2025 کو منعقدہ ایک کارپوریٹ بریفنگ کے دوران بتائی گئی، جس میں عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے شرکت کی، اور جس کی رپورٹ بدھ کے روز جاری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی برآمدات کے حوالے سے ہونڈا نے تصدیق کی کہ ہونڈا سٹی 1.2ایل کی 38 یونٹس جاپان کو برآمد کی گئیں۔ تاہم، کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات دوست حکومتی پالیسیوں کی کمی اور بلند پیداواری لاگت کے باعث پاکستان کو دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ حکومت سے بات چیت جاری ہے، تاہم بڑے پیمانے پر برآمدات فی الحال ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں، ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ، جو کہ ہونڈا موٹر کمپنی کی ذیلی کمپنی ہے، نے کمپلیٹلی بلٹ یونٹس (سی بی یوز) کی برآمدات کا باضابطہ آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا آٹو سیکٹر، جس میں زیادہ حصہ ٹویوٹا انڈس موٹرز، ہونڈا ایٹلس اور پاک سوزوکی کے پاس ہے، اب بھی درآمد شدہ پرزوں پر انحصار کرتا ہے اور عموماً صرف اسمبلنگ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، حالیہ برسوں میں چند کمپنیوں نے پاکستان کو ایک برآمدی مرکز بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2024 میں، انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی ایم سی) نے کچھ گاڑیوں کی ٹویوٹا کی دیگر ذیلی کمپنیوں کو برآمدات شروع کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کے باوجود، پاکستان کا آٹو سیکٹر اب بھی بلند پیداواری لاگت، سپلائی چین مسائل اور غیر مستحکم زر مبادلہ کی شرحوں جیسے کئی چیلنجز میں گھرا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران، ہونڈا اٹلس کی انتظامیہ نے بریفنگ میں بتایا کہ کمپنی نے 14 جولائی 2025 کو ایچ آر- وی ہائبرڈ لانچ کر دی ہے اور اس کے ٹیسٹ ڈرائیو یونٹس ملک بھر میں دستیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی صارفین کا ردعمل مثبت رہا ہے اور کمپنی کو ماہانہ 400 سے 500 یونٹس فروخت کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے اثرات کے حوالے سے کمپنی نے بتایا کہ ان میں سے تقریباً 90 فیصد گاڑیاں 1000 سی سی کیٹیگری میں آتی ہیں اور یہ ہونڈا سٹی کے سیگمنٹ پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق، وہ ستمبر میں متوقع حکومتی پالیسی اپ ڈیٹ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ اس کے اثرات کا تجزیہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگرچہ ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ (ایچ سی اے آر) نے کامیابی سے محدود تعداد میں ہونڈا سٹی یونٹس جاپان کو برآمد کیے ہیں، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب بھی دیگر ایشیائی ذیلی کمپنیوں کے مقابلے میں برآمدی لحاظ سے پسماندہ ہے، اور بڑے پیمانے پر برآمدات فی الحال ممکن نہیں۔</strong></p>
<p>یہ بات 16 جولائی 2025 کو منعقدہ ایک کارپوریٹ بریفنگ کے دوران بتائی گئی، جس میں عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے شرکت کی، اور جس کی رپورٹ بدھ کے روز جاری کی گئی۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی برآمدات کے حوالے سے ہونڈا نے تصدیق کی کہ ہونڈا سٹی 1.2ایل کی 38 یونٹس جاپان کو برآمد کی گئیں۔ تاہم، کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات دوست حکومتی پالیسیوں کی کمی اور بلند پیداواری لاگت کے باعث پاکستان کو دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ حکومت سے بات چیت جاری ہے، تاہم بڑے پیمانے پر برآمدات فی الحال ممکن نہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں، ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ، جو کہ ہونڈا موٹر کمپنی کی ذیلی کمپنی ہے، نے کمپلیٹلی بلٹ یونٹس (سی بی یوز) کی برآمدات کا باضابطہ آغاز کیا تھا۔</p>
<p>پاکستان کا آٹو سیکٹر، جس میں زیادہ حصہ ٹویوٹا انڈس موٹرز، ہونڈا ایٹلس اور پاک سوزوکی کے پاس ہے، اب بھی درآمد شدہ پرزوں پر انحصار کرتا ہے اور عموماً صرف اسمبلنگ کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم، حالیہ برسوں میں چند کمپنیوں نے پاکستان کو ایک برآمدی مرکز بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>جولائی 2024 میں، انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی ایم سی) نے کچھ گاڑیوں کی ٹویوٹا کی دیگر ذیلی کمپنیوں کو برآمدات شروع کی تھیں۔</p>
<p>لیکن اس کے باوجود، پاکستان کا آٹو سیکٹر اب بھی بلند پیداواری لاگت، سپلائی چین مسائل اور غیر مستحکم زر مبادلہ کی شرحوں جیسے کئی چیلنجز میں گھرا ہوا ہے۔</p>
<p>اس دوران، ہونڈا اٹلس کی انتظامیہ نے بریفنگ میں بتایا کہ کمپنی نے 14 جولائی 2025 کو ایچ آر- وی ہائبرڈ لانچ کر دی ہے اور اس کے ٹیسٹ ڈرائیو یونٹس ملک بھر میں دستیاب ہیں۔</p>
<p>عارف حبیب کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی صارفین کا ردعمل مثبت رہا ہے اور کمپنی کو ماہانہ 400 سے 500 یونٹس فروخت کی توقع ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے اثرات کے حوالے سے کمپنی نے بتایا کہ ان میں سے تقریباً 90 فیصد گاڑیاں 1000 سی سی کیٹیگری میں آتی ہیں اور یہ ہونڈا سٹی کے سیگمنٹ پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق، وہ ستمبر میں متوقع حکومتی پالیسی اپ ڈیٹ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ اس کے اثرات کا تجزیہ کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274771</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Jul 2025 15:32:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1714465090a55a8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1714465090a55a8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
