<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ینگو، اِن ڈرائیو اور گو ایزی: کریم کے انخلاء سے کون فائدہ اٹھائے گا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274732/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کریم آئندہ دو روز میں پاکستان میں اپنی سروسز کو باضابطہ طور پر بند کر دے گی۔ یہ ملک بھر کے اُن لاکھوں مسافروں کے لیے افسوسناک لمحہ ہے جو روزمرہ آمد و رفت کے لیے اس پر انحصار کرتے تھے اور اُن لوگوں کے لیے بھی ایک دھچکا ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی، خاص طور پر اسٹارٹ اپس اور ای کامرس کے شعبے، کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم نے ”یونی کارن“ کا درجہ حاصل کیا، یعنی اس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسے دنیا کے بڑے رائیڈ ہیلنگ ادارے ”اوبر“ نے 3.1 ارب ڈالر میں خرید لیا ہے۔ اگرچہ یہ کمپنی دبئی میں قائم ہوئی تھی لیکن اس کی بنیاد ایک پاکستانی نے رکھی اور پاکستانی عوام اسے ملک کے لیے ایک اعزاز سمجھتے تھے۔ لیکن کیا ہم اب بھی اسے ”اپنا“ کہہ سکتے ہیں، جب وہ یہاں کام ہی نہیں کر رہی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی تجزیہ نگاروں نے اپنی اپنی رائے دی ہے کہ کریم نے پاکستان میں اپنی سروسز کیوں بند کیں، جن میں ناقابلِ برداشت آپریشنل اخراجات، سخت مقابلہ اور صارفین کے بار بار پلیٹ فارم چھوڑنے جیسے چیلنجز شامل ہیں، جن سے کمپنی کا منافع‌ متاثر ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب وقت ہے کہ ہم مستقبل کی طرف دیکھیں: کون کریم کے انخلاء سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ دو نام فوراً ذہن میں آتے ہیں: ان ڈرائیو اور ینگو
اور ایک اور کھلاڑی بھی میدان میں ہے: گو ایزی، جو شٹل سروس فراہم کر رہا ہے اور اسے لاجسٹکس کمپنی پی ٹی این کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے سوول (ایس ڈبلیو وی ایل) کا صارفین کا ڈیٹا بیس حاصل کر لیا ہے، وہی سوول جو 2022 میں پاکستان سے نکل گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر نے ان تینوں کمپنیوں سے رابطہ کیا تاکہ ان کے مستقبل کے منصوبے اور وہ اقدامات جان سکیں جو وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کر رہے ہیں کہ ان کا انجام کریم جیسا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1۔ ان ڈرائیو: ”ہم چاہتے ہیں کہ پائی (مارکیٹ) بڑی ہو“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ڈرائیو نے اپنی رائیڈ ہیلنگ ایپ 2013 میں روس میں لانچ کی، جس کا آغاز 2012 کے آخر میں ایک کمیونٹی پر مبنی نظریے کے طور پر ہوا تھا۔ یہ پاکستان میں 2021 میں آیا، جہاں اس کا منفرد ”اپنا کرایہ خود مقرر کریں اور اپنا ڈرائیور منتخب کریں“ ماڈل مقبول ہوا۔ دو سال بعد اس نے کورئیر سروسز کا آغاز کیا۔ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے رپورٹ کیا ہے کہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں ان کے کورئیر پارٹنرز کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کریم کے انخلاء سے پیدا ہونے والی خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ہے، تو کنٹری ہیڈ اویس سعید نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ”بالکل، تاہم ہمارا مقصد صرف خلا کو پُر کرنا نہیں بلکہ مارکیٹ کو بڑھانا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم پائی (مارکیٹ) کو بڑا کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ صرف اس میں سے بڑا حصہ لینا۔ پاکستان میں رائیڈ ہیلنگ کا استعمال بہت کم ہے، اس وقت صرف 2 فیصد، جبکہ زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ یہاں ابھی بہت زیادہ ترقی کی گنجائش موجود ہے جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ان ڈرائیو مسافروں اور ڈرائیوروں دونوں کے لیے اپنی خدمات میں توسیع کر رہا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں، وہ ”زیادہ پریمیم رائیڈ آپشنز“ کے لیے ایک نئی کیٹیگری لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اسی دوران، ہم دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہے ہیں، جہاں قابل اعتماد نقل و حمل کی سہولت ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ ہم نے اپنی کسٹمر سپورٹ کی صلاحیت بھی بڑھائی ہے اور ڈرائیور کمیونٹی کے ساتھ مل کر ایک زیادہ حساس اور انسان دوست تجربہ بنانے پر کام کر رہے ہیں،“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس سعید نے کہا کہ ”کریم نے ایک نئی کیٹیگری میں اعتماد قائم کرنے اور صنعت کو بنیاد سے بنانے میں حیرت انگیز کام کیا ہے۔ ہم کریم کے ساتھیوں کے اثر و رسوخ کا بہت احترام کرتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے موبلٹی سیکٹر کو منفرد چیلنجز درپیش ہیں ، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال، صارفین کی بدلتی توقعات، اور معاشی حالات کی مشکلات۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یہ عوامل روایتی اور سخت قیمتوں کے ماڈلز کے لیے طویل مدتی ترقی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ یہ ایک مشکل بازار ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو ان ڈرائیو ان مشکلات سے کیسے بچنے کا ارادہ رکھتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعید نے کہا کہ ”ہمارا طریقہ کار بنیادی طور پر مختلف ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ان ڈرائیو کا پیئر ٹو پیئر (پی ٹو پی) قیمت طے کرنے والا ماڈل ڈرائیور اور مسافر کو براہ راست منصفانہ کرایہ طے کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے انہیں زیادہ کنٹرول اور لچک ملتی ہے، خاص طور پر غیر مستحکم معاشی حالات میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ”ہم سرج پرائسنگ یا سخت الگورتھمز پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں سب سے کم کمیشن کی بدولت، ہمارے ڈرائیور پارٹنرز اپنی کمائی کا زیادہ حصہ گھر لے جاتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ“ان ڈرائیو کا طریقہ کار منصفانہ انتخاب اور مسافروں و ڈرائیوروں کی اقتصادی خودمختاری پر مبنی ہے۔ یہ اقدار ہمیں زیادہ سننے، تیزی سے ڈھلنے اور ایک ایسا ماڈل بنانے میں مدد دیتی ہیں جو ہماری کمیونٹی کے لیے معنی خیز ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2۔ ینگو کارپوریٹ کلائنٹس کو ہدف بنانا چاہتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ینگو ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جس کا صدر دفتر دبئی میں واقع ہے، اور یہ پاکستان میں ایک نسبتاً نیا کھلاڑی ہے، اس نے 2023 میں رائیڈ ہیلنگ سروس کے ساتھ ملک میں قدم رکھا اور ایک سال بعد کورئیر سروس کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میرال شریف، کنٹری ہیڈ ینگو پاکستان کا بیان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم سمجھتے ہیں کہ کریم کے انخلاء سے خاص طور پر کارپوریٹ کلائنٹس کے لیے ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے، وہ ادارے جو اپنے ملازمین اور شراکت داروں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نقل و حمل پر انحصار کرتے ہیں۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے، ہم ایک مخصوص کارپوریٹ رائیڈ سروس متعارف کروانے کے لیے پُرجوش ہیں، جو اداروں کو زیادہ شفافیت، بھروسے اور لاگت میں مؤثریت کے ساتھ اپنی ٹرانسپورٹیشن ضروریات کو بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد دے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ینگو کی بڑی ”سپر ایپ“ حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے، ”جس کے تحت ہم موبیلیٹی، ڈیلیوری، شاپنگ اور دیگر روزمرہ سہولیات پر مشتمل ایک مربوط ڈیجیٹل نظام فراہم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔“ چند دن قبل ہی ینگو نے اپنی ایپ میں گروسری ڈیلیوری کی سہولت شامل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کریم کی ”ایوری تھنگ ایپ“ حکمتِ عملی، جس میں مختلف سروسز ایک ہی پلیٹ فارم پر مہیا کی جاتی ہیں، اب بھی پاکستان میں ہی ڈویلپ کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم اپنے صارفین کے لیے سہولت اور انتخاب کو بڑھانے کی بے پناہ گنجائش دیکھتے ہیں، اور ساتھ ہی مقامی شراکت داریوں اور معیشت میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  کریم نے پاکستان میں رائیڈ ہیلنگ مارکیٹ میں طویل عرصے تک موثر کردار ادا کیا ہے، اور ہم ان کی خدمات کا احترام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم کے انخلاء کی وجوہات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ینگو اس عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ ”ایک جیسا ماڈل ہر مارکیٹ کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم مقامی شراکت داری، ٹیکنالوجی کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے اور لچکدار قیمتوں کے نظام پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی مارکیٹ کے مخصوص تقاضوں سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا ہے کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرائیورز، صارفین اور مستقبل کے کارپوریٹ کلائنٹس کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنا ہمیں ایک متحرک ماحول میں لچکدار اور پائیدار بنائے رکھتا ہے۔ ہم آپریشنز کی موثریت اور مضبوط کمپلائنس فریم ورک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ ہماری موجودگی طویل مدتی ہو سکے۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی جیسے عوامل کاروبار پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں اور ہم ان بیرونی دباؤ کے ساتھ ذمے داری سے مطابقت پیدا کرتے رہیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ گو ایزی: ملک کی بڑی لاجسٹکس کمپنی کی پشت پناہی کے ساتھ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گو ایزی ایک خاندانی کاروبار ہے جو لاجسٹکس کمپنی پی ٹی این کی ملکیت ہے، اور یہ کمپنی 1986 میں قائم ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ینگو کی طرح، گو ایزی بھی سمجھتا ہے کہ کریم کے انخلاء کے بعد کارپوریٹ کلائنٹس ایک خلا کا سامنا کریں گے، اور وہ اسی خلا کو پُر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم  گو ایزی کو جو چیز منفرد بناتی ہے وہ ہے پی ٹی این کے پہلے سے موجود وسائل، جیسے اس کا فلیٹ، کلائنٹ لسٹ اور نیٹ ورک — جن تک اسے براہ راست رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر صلاح الدین حمید نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پی ٹی این کے پاس پاکستان میں منظم انداز میں کام کرنے والے سب سے بڑے فلیٹس میں سے ایک ہے، جو پیپشی، کوکا کولا اور ڈاؤلینس جیسے بین الاقوامی برانڈز کو لاجسٹکس سروسز فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وبا( کورونا) کے بعد کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے دستیاب وسائل کو شٹل سروس کے لیے استعمال کرے گی۔ آج گو ایزی کے صارفین کی فہرست میں تقریباً 30 ادارے شامل ہیں، جن میں پیکجز گروپ، ٹاٹا ٹیکسٹائل، اور ہمدرد جیسے معروف نام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ میدان ہے جہاں گو ایزی، مصر کی کمپنی سوول ( ایس ڈبلیو وی ایل) کے ساتھ مقابلہ کر رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سوول نے 2022 میں پاکستان سے اپنا کاروبار بند کیا، تو پی ٹی این نے 50 ملین روپے کا معاہدہ کیا، جس کے تحت سوول کے 60 فیصد بی ٹو بی کلائنٹس کا کنٹرول پی ٹی این کو مل گیا اور سوول کے کچھ ملازمین بھی گو ایزی میں شامل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنی اس وقت کراچی اور لاہور میں اپنی شٹل سروس فراہم کر رہی ہے، اور اب اس کا اگلا ہدف آئندہ آٹھ سے نو ماہ میں ایک ایپ متعارف کروانا ہے، جس کے ذریعے یہ سروس عام افراد کے لیے بھی دستیاب ہو جائے گی۔ آئندہ پانچ سال میں گو ایزی کا ارادہ بین الاضلاعی ( انٹر سٹی) سفر کی سہولت فراہم کرنے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ منصوبے کریم کے انخلاء سے پہلے ہی موجود تھے، لیکن صلاح الدین حمید کا ماننا ہے کہ گو ایزی کو اب اس سے فائدہ ضرور پہنچے گا۔ ان کے بقول کریم کے کئی شٹل کلائنٹس پہلے ہی ان سے رابطہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کریم صارفین کے تیزی سے چھوڑنے (صارفین کا اخراج) اور مالی مسائل کا شکار تھا لیکن پی ٹی این کو اس کا سامنا نہیں،
”کیونکہ ہم پاکستانی مارکیٹ کو بخوبی سمجھتے ہیں، ہم یہاں گزشتہ 35 سال سے کام کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، چونکہ گو ایزی کے پاس اپنا فلیٹ اور اپنے ڈرائیورز ہیں، اس لیے اس کا کاروباری ماڈل کریم، ان ڈرائیو یا ینگو سے بالکل مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گو ایزی نے ابتدا سے ہی منافع کی راہ پر قدم رکھا، کیونکہ پی ٹی این گروپ کا وژن یہی تھا کہ صرف مناسب مارجن پر کام کیا جائے، نہ کہ نقصان میں جا کر مارکیٹ خریدی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”اس کے برعکس سوول ( ایس ڈبلیو وی ایل) سرمایہ جلانے ( نقصان میں کاروبار کرنے) کے ماڈل پر کام کر رہا تھا اور صرف ریونیو بڑھانے پر توجہ دے رہا تھا، اصل منافع (باٹم لائن) پر نہیں۔ جب سرمایہ کار پیچھے ہٹنے لگے تو انہیں اُن تمام مارکیٹس سے نکلنا پڑا جہاں وہ نقصان میں جا رہے تھے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ گو ایزی کی سب سے بڑی خاصیت اس کی ”مربوط اور کنٹرولڈ گروتھ“ ہے۔ ”ضرورت سے زیادہ تیز ترقی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں کریم تب پیچھے ہٹ گیا جب انہوں نے ہائپر گروتھ کا راستہ اپنایا۔ سوول بھی یہی کر رہا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم اس وقت کنٹرولڈ گروتھ پر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے کراچی سے آغاز کیا، پھر لاہور میں کام بڑھایا اور اب ہمارا آئندہ ہدف اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کریم آئندہ دو روز میں پاکستان میں اپنی سروسز کو باضابطہ طور پر بند کر دے گی۔ یہ ملک بھر کے اُن لاکھوں مسافروں کے لیے افسوسناک لمحہ ہے جو روزمرہ آمد و رفت کے لیے اس پر انحصار کرتے تھے اور اُن لوگوں کے لیے بھی ایک دھچکا ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی، خاص طور پر اسٹارٹ اپس اور ای کامرس کے شعبے، کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔</strong></p>
<p>کریم نے ”یونی کارن“ کا درجہ حاصل کیا، یعنی اس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسے دنیا کے بڑے رائیڈ ہیلنگ ادارے ”اوبر“ نے 3.1 ارب ڈالر میں خرید لیا ہے۔ اگرچہ یہ کمپنی دبئی میں قائم ہوئی تھی لیکن اس کی بنیاد ایک پاکستانی نے رکھی اور پاکستانی عوام اسے ملک کے لیے ایک اعزاز سمجھتے تھے۔ لیکن کیا ہم اب بھی اسے ”اپنا“ کہہ سکتے ہیں، جب وہ یہاں کام ہی نہیں کر رہی؟</p>
<p>کئی تجزیہ نگاروں نے اپنی اپنی رائے دی ہے کہ کریم نے پاکستان میں اپنی سروسز کیوں بند کیں، جن میں ناقابلِ برداشت آپریشنل اخراجات، سخت مقابلہ اور صارفین کے بار بار پلیٹ فارم چھوڑنے جیسے چیلنجز شامل ہیں، جن سے کمپنی کا منافع‌ متاثر ہو رہا تھا۔</p>
<p>اب وقت ہے کہ ہم مستقبل کی طرف دیکھیں: کون کریم کے انخلاء سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ دو نام فوراً ذہن میں آتے ہیں: ان ڈرائیو اور ینگو
اور ایک اور کھلاڑی بھی میدان میں ہے: گو ایزی، جو شٹل سروس فراہم کر رہا ہے اور اسے لاجسٹکس کمپنی پی ٹی این کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے سوول (ایس ڈبلیو وی ایل) کا صارفین کا ڈیٹا بیس حاصل کر لیا ہے، وہی سوول جو 2022 میں پاکستان سے نکل گیا تھا۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر نے ان تینوں کمپنیوں سے رابطہ کیا تاکہ ان کے مستقبل کے منصوبے اور وہ اقدامات جان سکیں جو وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کر رہے ہیں کہ ان کا انجام کریم جیسا نہ ہو۔</p>
<p><strong>1۔ ان ڈرائیو: ”ہم چاہتے ہیں کہ پائی (مارکیٹ) بڑی ہو“</strong></p>
<p>ان ڈرائیو نے اپنی رائیڈ ہیلنگ ایپ 2013 میں روس میں لانچ کی، جس کا آغاز 2012 کے آخر میں ایک کمیونٹی پر مبنی نظریے کے طور پر ہوا تھا۔ یہ پاکستان میں 2021 میں آیا، جہاں اس کا منفرد ”اپنا کرایہ خود مقرر کریں اور اپنا ڈرائیور منتخب کریں“ ماڈل مقبول ہوا۔ دو سال بعد اس نے کورئیر سروسز کا آغاز کیا۔ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے رپورٹ کیا ہے کہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں ان کے کورئیر پارٹنرز کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کریم کے انخلاء سے پیدا ہونے والی خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ہے، تو کنٹری ہیڈ اویس سعید نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ”بالکل، تاہم ہمارا مقصد صرف خلا کو پُر کرنا نہیں بلکہ مارکیٹ کو بڑھانا ہے۔“</p>
<p>”ہم پائی (مارکیٹ) کو بڑا کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ صرف اس میں سے بڑا حصہ لینا۔ پاکستان میں رائیڈ ہیلنگ کا استعمال بہت کم ہے، اس وقت صرف 2 فیصد، جبکہ زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ یہاں ابھی بہت زیادہ ترقی کی گنجائش موجود ہے جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ان ڈرائیو مسافروں اور ڈرائیوروں دونوں کے لیے اپنی خدمات میں توسیع کر رہا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں، وہ ”زیادہ پریمیم رائیڈ آپشنز“ کے لیے ایک نئی کیٹیگری لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اسی دوران، ہم دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہے ہیں، جہاں قابل اعتماد نقل و حمل کی سہولت ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ ہم نے اپنی کسٹمر سپورٹ کی صلاحیت بھی بڑھائی ہے اور ڈرائیور کمیونٹی کے ساتھ مل کر ایک زیادہ حساس اور انسان دوست تجربہ بنانے پر کام کر رہے ہیں،“</p>
<p>کریم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس سعید نے کہا کہ ”کریم نے ایک نئی کیٹیگری میں اعتماد قائم کرنے اور صنعت کو بنیاد سے بنانے میں حیرت انگیز کام کیا ہے۔ ہم کریم کے ساتھیوں کے اثر و رسوخ کا بہت احترام کرتے ہیں۔“</p>
<p>تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے موبلٹی سیکٹر کو منفرد چیلنجز درپیش ہیں ، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال، صارفین کی بدلتی توقعات، اور معاشی حالات کی مشکلات۔</p>
<p>”یہ عوامل روایتی اور سخت قیمتوں کے ماڈلز کے لیے طویل مدتی ترقی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ یہ ایک مشکل بازار ہے۔“</p>
<p>تو ان ڈرائیو ان مشکلات سے کیسے بچنے کا ارادہ رکھتا ہے؟</p>
<p>سعید نے کہا کہ ”ہمارا طریقہ کار بنیادی طور پر مختلف ہے“۔</p>
<p>ان کے مطابق ان ڈرائیو کا پیئر ٹو پیئر (پی ٹو پی) قیمت طے کرنے والا ماڈل ڈرائیور اور مسافر کو براہ راست منصفانہ کرایہ طے کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے انہیں زیادہ کنٹرول اور لچک ملتی ہے، خاص طور پر غیر مستحکم معاشی حالات میں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ”ہم سرج پرائسنگ یا سخت الگورتھمز پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں سب سے کم کمیشن کی بدولت، ہمارے ڈرائیور پارٹنرز اپنی کمائی کا زیادہ حصہ گھر لے جاتے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ“ان ڈرائیو کا طریقہ کار منصفانہ انتخاب اور مسافروں و ڈرائیوروں کی اقتصادی خودمختاری پر مبنی ہے۔ یہ اقدار ہمیں زیادہ سننے، تیزی سے ڈھلنے اور ایک ایسا ماڈل بنانے میں مدد دیتی ہیں جو ہماری کمیونٹی کے لیے معنی خیز ہو۔“</p>
<p><strong>2۔ ینگو کارپوریٹ کلائنٹس کو ہدف بنانا چاہتا ہے</strong></p>
<p>ینگو ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جس کا صدر دفتر دبئی میں واقع ہے، اور یہ پاکستان میں ایک نسبتاً نیا کھلاڑی ہے، اس نے 2023 میں رائیڈ ہیلنگ سروس کے ساتھ ملک میں قدم رکھا اور ایک سال بعد کورئیر سروس کا آغاز کیا۔</p>
<p><strong>میرال شریف، کنٹری ہیڈ ینگو پاکستان کا بیان</strong></p>
<p>”ہم سمجھتے ہیں کہ کریم کے انخلاء سے خاص طور پر کارپوریٹ کلائنٹس کے لیے ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے، وہ ادارے جو اپنے ملازمین اور شراکت داروں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نقل و حمل پر انحصار کرتے ہیں۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے، ہم ایک مخصوص کارپوریٹ رائیڈ سروس متعارف کروانے کے لیے پُرجوش ہیں، جو اداروں کو زیادہ شفافیت، بھروسے اور لاگت میں مؤثریت کے ساتھ اپنی ٹرانسپورٹیشن ضروریات کو بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد دے گی۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ینگو کی بڑی ”سپر ایپ“ حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے، ”جس کے تحت ہم موبیلیٹی، ڈیلیوری، شاپنگ اور دیگر روزمرہ سہولیات پر مشتمل ایک مربوط ڈیجیٹل نظام فراہم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔“ چند دن قبل ہی ینگو نے اپنی ایپ میں گروسری ڈیلیوری کی سہولت شامل کی ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کریم کی ”ایوری تھنگ ایپ“ حکمتِ عملی، جس میں مختلف سروسز ایک ہی پلیٹ فارم پر مہیا کی جاتی ہیں، اب بھی پاکستان میں ہی ڈویلپ کی جا رہی ہے۔</p>
<p>”ہم اپنے صارفین کے لیے سہولت اور انتخاب کو بڑھانے کی بے پناہ گنجائش دیکھتے ہیں، اور ساتھ ہی مقامی شراکت داریوں اور معیشت میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔“</p>
<p>کریم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  کریم نے پاکستان میں رائیڈ ہیلنگ مارکیٹ میں طویل عرصے تک موثر کردار ادا کیا ہے، اور ہم ان کی خدمات کا احترام کرتے ہیں۔</p>
<p>کریم کے انخلاء کی وجوہات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ینگو اس عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ ”ایک جیسا ماڈل ہر مارکیٹ کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم مقامی شراکت داری، ٹیکنالوجی کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے اور لچکدار قیمتوں کے نظام پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی مارکیٹ کے مخصوص تقاضوں سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکیں۔“</p>
<p>ان کا مزید کہنا ہے کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرائیورز، صارفین اور مستقبل کے کارپوریٹ کلائنٹس کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنا ہمیں ایک متحرک ماحول میں لچکدار اور پائیدار بنائے رکھتا ہے۔ ہم آپریشنز کی موثریت اور مضبوط کمپلائنس فریم ورک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ ہماری موجودگی طویل مدتی ہو سکے۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی جیسے عوامل کاروبار پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں اور ہم ان بیرونی دباؤ کے ساتھ ذمے داری سے مطابقت پیدا کرتے رہیں گے۔“</p>
<p><strong>3۔ گو ایزی: ملک کی بڑی لاجسٹکس کمپنی کی پشت پناہی کے ساتھ</strong></p>
<p>گو ایزی ایک خاندانی کاروبار ہے جو لاجسٹکس کمپنی پی ٹی این کی ملکیت ہے، اور یہ کمپنی 1986 میں قائم ہوئی تھی۔</p>
<p>ینگو کی طرح، گو ایزی بھی سمجھتا ہے کہ کریم کے انخلاء کے بعد کارپوریٹ کلائنٹس ایک خلا کا سامنا کریں گے، اور وہ اسی خلا کو پُر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم  گو ایزی کو جو چیز منفرد بناتی ہے وہ ہے پی ٹی این کے پہلے سے موجود وسائل، جیسے اس کا فلیٹ، کلائنٹ لسٹ اور نیٹ ورک — جن تک اسے براہ راست رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>ڈائریکٹر صلاح الدین حمید نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پی ٹی این کے پاس پاکستان میں منظم انداز میں کام کرنے والے سب سے بڑے فلیٹس میں سے ایک ہے، جو پیپشی، کوکا کولا اور ڈاؤلینس جیسے بین الاقوامی برانڈز کو لاجسٹکس سروسز فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>وبا( کورونا) کے بعد کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے دستیاب وسائل کو شٹل سروس کے لیے استعمال کرے گی۔ آج گو ایزی کے صارفین کی فہرست میں تقریباً 30 ادارے شامل ہیں، جن میں پیکجز گروپ، ٹاٹا ٹیکسٹائل، اور ہمدرد جیسے معروف نام شامل ہیں۔</p>
<p>یہ وہ میدان ہے جہاں گو ایزی، مصر کی کمپنی سوول ( ایس ڈبلیو وی ایل) کے ساتھ مقابلہ کر رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سوول نے 2022 میں پاکستان سے اپنا کاروبار بند کیا، تو پی ٹی این نے 50 ملین روپے کا معاہدہ کیا، جس کے تحت سوول کے 60 فیصد بی ٹو بی کلائنٹس کا کنٹرول پی ٹی این کو مل گیا اور سوول کے کچھ ملازمین بھی گو ایزی میں شامل ہو گئے۔</p>
<p>یہ کمپنی اس وقت کراچی اور لاہور میں اپنی شٹل سروس فراہم کر رہی ہے، اور اب اس کا اگلا ہدف آئندہ آٹھ سے نو ماہ میں ایک ایپ متعارف کروانا ہے، جس کے ذریعے یہ سروس عام افراد کے لیے بھی دستیاب ہو جائے گی۔ آئندہ پانچ سال میں گو ایزی کا ارادہ بین الاضلاعی ( انٹر سٹی) سفر کی سہولت فراہم کرنے کا ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ منصوبے کریم کے انخلاء سے پہلے ہی موجود تھے، لیکن صلاح الدین حمید کا ماننا ہے کہ گو ایزی کو اب اس سے فائدہ ضرور پہنچے گا۔ ان کے بقول کریم کے کئی شٹل کلائنٹس پہلے ہی ان سے رابطہ کر چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کریم صارفین کے تیزی سے چھوڑنے (صارفین کا اخراج) اور مالی مسائل کا شکار تھا لیکن پی ٹی این کو اس کا سامنا نہیں،
”کیونکہ ہم پاکستانی مارکیٹ کو بخوبی سمجھتے ہیں، ہم یہاں گزشتہ 35 سال سے کام کر رہے ہیں۔“</p>
<p>مزید برآں، چونکہ گو ایزی کے پاس اپنا فلیٹ اور اپنے ڈرائیورز ہیں، اس لیے اس کا کاروباری ماڈل کریم، ان ڈرائیو یا ینگو سے بالکل مختلف ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گو ایزی نے ابتدا سے ہی منافع کی راہ پر قدم رکھا، کیونکہ پی ٹی این گروپ کا وژن یہی تھا کہ صرف مناسب مارجن پر کام کیا جائے، نہ کہ نقصان میں جا کر مارکیٹ خریدی جائے۔</p>
<p>”اس کے برعکس سوول ( ایس ڈبلیو وی ایل) سرمایہ جلانے ( نقصان میں کاروبار کرنے) کے ماڈل پر کام کر رہا تھا اور صرف ریونیو بڑھانے پر توجہ دے رہا تھا، اصل منافع (باٹم لائن) پر نہیں۔ جب سرمایہ کار پیچھے ہٹنے لگے تو انہیں اُن تمام مارکیٹس سے نکلنا پڑا جہاں وہ نقصان میں جا رہے تھے۔“</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ گو ایزی کی سب سے بڑی خاصیت اس کی ”مربوط اور کنٹرولڈ گروتھ“ ہے۔ ”ضرورت سے زیادہ تیز ترقی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں کریم تب پیچھے ہٹ گیا جب انہوں نے ہائپر گروتھ کا راستہ اپنایا۔ سوول بھی یہی کر رہا تھا۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم اس وقت کنٹرولڈ گروتھ پر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے کراچی سے آغاز کیا، پھر لاہور میں کام بڑھایا اور اب ہمارا آئندہ ہدف اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274732</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 19:04:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/16165115ba4e1b8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/16165115ba4e1b8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
