<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مون سون بارش پانی کے بحران کا حل بن سکتی ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں، جہاں کچھ علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرے علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں آتے ہیں، وہاں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا عمل  ایک غیر استعمال شدہ نجات دہندہ ہے، جو مون سون کے موسم کو ایک مصیبت سے ایک قیمتی وسیلہ میں بدل سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے یا ضائع ہونے سے پہلے اسے جمع اور ذخیرہ کر لیا جائے۔ یہ عمل گھروں میں چھتوں سے پانی کے ذخائر، کمیونٹی اور زرعی علاقوں میں بڑے زیرِ زمین ٹینکوں کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے، تاکہ یہ پانی آبپاشی، دھلائی، مویشیوں کے استعمال، اور بنیادی فلٹریشن کے بعد پینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں مون سون کے دوران اچانک آنے والے سیلاب تباہی مچا دیتے ہیں، حالانکہ یہی پانی زمین دوز پانی کی سطح کو بہتر بنانے یا کئی مہینوں کے لیے صاف پانی مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہی پاکستان میں، خاص طور پر تھرپارکر، چولستان اور بلوچستان جیسے خشک علاقوں میں، جہاں بارش بہت کم لیکن شدید ہوتی ہے، وہاں بارش کا پانی محفوظ کرنے کے نظام زندگی اور موت کا فرق بن سکتے ہیں۔ ان علاقوں کو کمیونٹی کی سطح پر پانی کے ٹینک، کنویں، اور قدرتی ندی نالوں کی بحالی جیسے اقدامات کی سخت ضرورت ہے، جنہیں کم لاگت اور مقامی وسائل سے پورا کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق، ہر سال 29 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) سے زائد بارش کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ مقدار اتنی ہے کہ ہر پاکستانی کی سال بھر کی پینے اور گھریلو ضروریات پوری ہو سکتی ہیں، مگر یہ پانی محض بہہ جاتا ہے۔ ڈیم خشک ہو رہے ہیں، زمین کے اندر پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، اور ماحولیاتی تبدیلی اپنا شکنجہ کس رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ شہری علاقے زمین کے اندر پانی کو ناقابلِ برداشت حد تک نکال رہے ہیں، جس کے باعث پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں زمین کے اندر پانی کی کمی بحران کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جو نہ صرف پینے کے پانی بلکہ خوراک کی پیداوار کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پاکستان ایک اور سال غیر یقینی بارشوں، سوکھے کھیتوں، اور کم ہوتے پانی کے ذخائر کا سامنا کر رہا ہے، تو ایک صدیوں پرانا حل آسمان سے دستک دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش کا پانی محفوظ کرنا – جو کبھی دیہی علاقوں میں ایک عام رواج تھا مگر اب شہروں کی توسیع اور بد انتظام آبی نظاموں کے باعث فراموش کر دیا گیا ہے – اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ زرعی یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آسیہ اکبر پنہور نے کہا کہ
پاکستان اب دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو پانی کی کمی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ فی کس پانی کی دستیابی 900 مکعب میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے، جو کہ پانی کی قلت کی حد سے نیچے ہے۔ اور پھر بھی، ہر سال اربوں لیٹر قیمتی بارش کا پانی چھتوں سے بہہ کر، سڑکوں پر جمع ہو کر یا بخارات بن کر ضائع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ بھارت اور آسٹریلیا جیسے ممالک پہلے ہی اس کو اپنی قومی آبی پالیسی کا حصہ بنا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر پنہور نے درج ذیل اقدامات کی سفارش کی
تمام نئی عمارتوں اور ہاؤسنگ اسکیموں میں بارش کا پانی جمع کرنے کے نظام کو لازمی قرار دیا جائے؛
پانی کی قلت والے علاقوں میں کمیونٹی سطح کے ٹینک اور پانی جذب کرنے والے گڑھے  بنائے جائیں؛
کسانوں، ٹھیکیداروں اور مقامی حکومتوں کے لیے تربیتی اور آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں؛
اس نظام کو اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے؛
اور اس کے فروغ کے لیے حکومتی سبسڈی اور تکنیکی تعاون فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انتباہ کیا کہ
جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی بڑھ رہی ہے اور بارش غیر متوقع ہو رہی ہے، ہمیں فوری اقدام کرنا ہو گا، ورنہ ہم ایک اور زیادہ خشک، زیادہ منقسم مستقبل کی طرف بڑھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش کا پانی محفوظ کرنا ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے: یہ نہ صرف سیلاب کے خطرے کو کم کرتا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے، زراعت کو سہارا دینے، اور آبی خود کفالت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہمیں بارش کو صرف ایک گزر جانے والا طوفان سمجھنے کے بجائے، اسے ایک قیمتی تحفہ سمجھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ-پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان واٹر، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو میں کام کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر احمد گادھی نے کہا:
پاکستان کو سالانہ اوسطاً 137 بلین مکعب میٹر بارش حاصل ہوتی ہے، جو کہ 111 ایم اے ایف کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ناکافی بنیادی ڈھانچے، ناقص شہری منصوبہ بندی، اور مؤثر آبی ذخیرہ نظام کی عدم موجودگی کے باعث، پاکستان میں سالانہ بارش کا 60 سے 70 فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے—یا تو نالیوں میں بہہ جاتا ہے یا بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر تنویر احمد گادھی نے کہا کہ اگر سالانہ بارش کے صرف 30 فیصد حصے کو مؤثر طریقے سے محفوظ کیا جائے—چھتوں پر نصب نظام، شہری سطح پر پانی جذب کرنے کی اسکیموں، اور چھوٹے چیک ڈیمز کے ذریعے—تو پاکستان ہر سال تقریباً 33 سے 35 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی، یعنی روزانہ 90 ارب لیٹر سے زائد، محفوظ کر سکتا ہے۔ یہ مقدار پاکستان کی پینے کے پانی کی قومی ضرورت سے چار گنا زیادہ ہے، اور کل زرعی پانی کے استعمال کا تقریباً 15 فیصد بنتی ہے—جو خشک سالی کے دوران ایک قابلِ ذکر سہارا فراہم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے لیے صرف چھتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام بھی بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ جیسے شہروں میں سالانہ بارش کا اوسط 150 ملی میٹر سے 500 ملی میٹر کے درمیان ہے۔ ایک 1,000 مربع فٹ چھت سالانہ 50,000 لیٹر تک پانی جمع کر سکتی ہے، اور اگر یہ نظام شہری مکانات میں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے تو میونسپل پانی کی کمی پر نمایاں قابو پایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، پنجاب اور بلوچستان کے بارانی علاقوں میں مقامی سطح پر بارش کا پانی محفوظ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے نظام کے ذریعے زرعی پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، شہری مراکز میں شدید حد تک کم ہو چکی زیرِ زمین پانی کی سطح کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے، اگر بارش کا پانی پہنچنے والے گڑھوں  اور آبی تہہ میں داخل کرنے والے کنوؤں  کے ذریعے زیرِ زمین بھیجا جائے۔ اسلام آباد اور لاہور کے کچھ علاقوں میں ایسے تجرباتی نظام پہلے ہی کامیاب نتائج دے چکے ہیں، جنہوں نے مون سون کے بعد کم گہرائی والے آبی ذخائر کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قلت سے پائیداری تک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کہ ان نظاموں میں بے پناہ امکانات ہیں، پاکستان میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا عمل اب بھی نظر انداز کیا گیا ہے، جس کی وجہ کمزور پالیسی حمایت، عوامی آگاہی کی کمی، اور ادارہ جاتی سطح پر بکھرا ہوا اختیار ہے۔ بھارت جیسے ممالک میں کئی ریاستوں میں چھتوں پر پانی جمع کرنے کے نظام کو قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا ہے، لیکن پاکستان میں یہ کوششیں اب تک زیادہ تر تجرباتی منصوبوں یا ڈونر اداروں کی امداد تک محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر تنویر گادھی نے کہا کہ سالانہ بارش کے صرف ایک حصے کو منظم طریقے سے محفوظ کر لینے سے بھی پاکستان کے آبی مستقبل کو قلت سے نکال کر پائیداری کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ پانی کی موجودگی کا نہیں، بلکہ ارادے، منصوبہ بندی، اور عمل کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک اور ایف اے او کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کو اپنی قومی ضروریات (پینے، گھریلو استعمال، مویشیوں اور زراعت) کو پورا کرنے کے لیے یومیہ 922 ارب لیٹر، یعنی سالانہ 236 ایم اے ایف پانی درکار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس طلب کی تقسیم ایک واضح عدم توازن کی عکاسی کرتی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن محفوظ پینے کے پانی اور بنیادی گھریلو ضروریات کے لیے پانی کی کل طلب صرف یومیہ 36 ارب لیٹر ہے، جو کہ کل استعمال کا محض 4 فیصد بنتی ہے۔ اس میں پینے اور صفائی کے لیے تقریباً 12 ارب لیٹر (یعنی فی کس 50 لیٹر/یومیہ) اور گھریلو استعمال کے لیے 24 ارب لیٹر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، صرف زرعی شعبہ روزانہ تقریباً 880 ارب لیٹر پانی استعمال کرتا ہے، جو کہ پاکستان کے کل آبی استعمال کا 93 فیصد سے زائد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بڑی حد تک ناقص آبپاشی کے طریقوں اور چاول اور گنے جیسی پانی خور فصلوں کی کاشت کی وجہ سے ہے۔ جبکہ قریب 20 کروڑ جانوروں پر مشتمل مویشی شعبہ بھی روزانہ 6 ارب لیٹر پانی طلب کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں بلکہ نظام کی خرابی، بدانتظامی، اور ترجیحات کے فقدان کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محفوظ پینے کے پانی کی طلب بہت کم ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور آلودگی کی وجہ سے یہ ضرورت بھی ملک کے کئی علاقوں میں پوری نہیں ہو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا پانی کا بحران صرف قلت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر گورننس، استعداد، اور ترجیحات کی غلطی کا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فوری پالیسی اصلاحات نہ کی گئیں—جیسے منصفانہ تقسیم، پائیدار آبپاشی کے طریقے، اور پانی کے علاج و صفائی کے نظاموں میں سرمایہ کاری—تو پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ کاغذی طور پر کافی پانی کی موجودگی کے باوجود مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں، جہاں کچھ علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرے علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں آتے ہیں، وہاں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا عمل  ایک غیر استعمال شدہ نجات دہندہ ہے، جو مون سون کے موسم کو ایک مصیبت سے ایک قیمتی وسیلہ میں بدل سکتا ہے۔</strong></p>
<p>بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے یا ضائع ہونے سے پہلے اسے جمع اور ذخیرہ کر لیا جائے۔ یہ عمل گھروں میں چھتوں سے پانی کے ذخائر، کمیونٹی اور زرعی علاقوں میں بڑے زیرِ زمین ٹینکوں کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے، تاکہ یہ پانی آبپاشی، دھلائی، مویشیوں کے استعمال، اور بنیادی فلٹریشن کے بعد پینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں مون سون کے دوران اچانک آنے والے سیلاب تباہی مچا دیتے ہیں، حالانکہ یہی پانی زمین دوز پانی کی سطح کو بہتر بنانے یا کئی مہینوں کے لیے صاف پانی مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>دیہی پاکستان میں، خاص طور پر تھرپارکر، چولستان اور بلوچستان جیسے خشک علاقوں میں، جہاں بارش بہت کم لیکن شدید ہوتی ہے، وہاں بارش کا پانی محفوظ کرنے کے نظام زندگی اور موت کا فرق بن سکتے ہیں۔ ان علاقوں کو کمیونٹی کی سطح پر پانی کے ٹینک، کنویں، اور قدرتی ندی نالوں کی بحالی جیسے اقدامات کی سخت ضرورت ہے، جنہیں کم لاگت اور مقامی وسائل سے پورا کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق، ہر سال 29 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) سے زائد بارش کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ مقدار اتنی ہے کہ ہر پاکستانی کی سال بھر کی پینے اور گھریلو ضروریات پوری ہو سکتی ہیں، مگر یہ پانی محض بہہ جاتا ہے۔ ڈیم خشک ہو رہے ہیں، زمین کے اندر پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، اور ماحولیاتی تبدیلی اپنا شکنجہ کس رہی ہے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ شہری علاقے زمین کے اندر پانی کو ناقابلِ برداشت حد تک نکال رہے ہیں، جس کے باعث پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں زمین کے اندر پانی کی کمی بحران کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جو نہ صرف پینے کے پانی بلکہ خوراک کی پیداوار کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔</p>
<p>جب پاکستان ایک اور سال غیر یقینی بارشوں، سوکھے کھیتوں، اور کم ہوتے پانی کے ذخائر کا سامنا کر رہا ہے، تو ایک صدیوں پرانا حل آسمان سے دستک دے رہا ہے۔</p>
<p>بارش کا پانی محفوظ کرنا – جو کبھی دیہی علاقوں میں ایک عام رواج تھا مگر اب شہروں کی توسیع اور بد انتظام آبی نظاموں کے باعث فراموش کر دیا گیا ہے – اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p><strong>یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں</strong></p>
<p>سندھ زرعی یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آسیہ اکبر پنہور نے کہا کہ
پاکستان اب دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو پانی کی کمی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ فی کس پانی کی دستیابی 900 مکعب میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے، جو کہ پانی کی قلت کی حد سے نیچے ہے۔ اور پھر بھی، ہر سال اربوں لیٹر قیمتی بارش کا پانی چھتوں سے بہہ کر، سڑکوں پر جمع ہو کر یا بخارات بن کر ضائع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ بھارت اور آسٹریلیا جیسے ممالک پہلے ہی اس کو اپنی قومی آبی پالیسی کا حصہ بنا چکے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر پنہور نے درج ذیل اقدامات کی سفارش کی
تمام نئی عمارتوں اور ہاؤسنگ اسکیموں میں بارش کا پانی جمع کرنے کے نظام کو لازمی قرار دیا جائے؛
پانی کی قلت والے علاقوں میں کمیونٹی سطح کے ٹینک اور پانی جذب کرنے والے گڑھے  بنائے جائیں؛
کسانوں، ٹھیکیداروں اور مقامی حکومتوں کے لیے تربیتی اور آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں؛
اس نظام کو اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے؛
اور اس کے فروغ کے لیے حکومتی سبسڈی اور تکنیکی تعاون فراہم کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے انتباہ کیا کہ
جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی بڑھ رہی ہے اور بارش غیر متوقع ہو رہی ہے، ہمیں فوری اقدام کرنا ہو گا، ورنہ ہم ایک اور زیادہ خشک، زیادہ منقسم مستقبل کی طرف بڑھیں گے۔</p>
<p>بارش کا پانی محفوظ کرنا ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے: یہ نہ صرف سیلاب کے خطرے کو کم کرتا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے، زراعت کو سہارا دینے، اور آبی خود کفالت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہمیں بارش کو صرف ایک گزر جانے والا طوفان سمجھنے کے بجائے، اسے ایک قیمتی تحفہ سمجھنا ہوگا۔</p>
<p>امریکہ-پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان واٹر، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو میں کام کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر احمد گادھی نے کہا:
پاکستان کو سالانہ اوسطاً 137 بلین مکعب میٹر بارش حاصل ہوتی ہے، جو کہ 111 ایم اے ایف کے برابر ہے۔</p>
<p>تاہم، ناکافی بنیادی ڈھانچے، ناقص شہری منصوبہ بندی، اور مؤثر آبی ذخیرہ نظام کی عدم موجودگی کے باعث، پاکستان میں سالانہ بارش کا 60 سے 70 فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے—یا تو نالیوں میں بہہ جاتا ہے یا بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر تنویر احمد گادھی نے کہا کہ اگر سالانہ بارش کے صرف 30 فیصد حصے کو مؤثر طریقے سے محفوظ کیا جائے—چھتوں پر نصب نظام، شہری سطح پر پانی جذب کرنے کی اسکیموں، اور چھوٹے چیک ڈیمز کے ذریعے—تو پاکستان ہر سال تقریباً 33 سے 35 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی، یعنی روزانہ 90 ارب لیٹر سے زائد، محفوظ کر سکتا ہے۔ یہ مقدار پاکستان کی پینے کے پانی کی قومی ضرورت سے چار گنا زیادہ ہے، اور کل زرعی پانی کے استعمال کا تقریباً 15 فیصد بنتی ہے—جو خشک سالی کے دوران ایک قابلِ ذکر سہارا فراہم کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے لیے صرف چھتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام بھی بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ جیسے شہروں میں سالانہ بارش کا اوسط 150 ملی میٹر سے 500 ملی میٹر کے درمیان ہے۔ ایک 1,000 مربع فٹ چھت سالانہ 50,000 لیٹر تک پانی جمع کر سکتی ہے، اور اگر یہ نظام شہری مکانات میں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے تو میونسپل پانی کی کمی پر نمایاں قابو پایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح، پنجاب اور بلوچستان کے بارانی علاقوں میں مقامی سطح پر بارش کا پانی محفوظ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے نظام کے ذریعے زرعی پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، شہری مراکز میں شدید حد تک کم ہو چکی زیرِ زمین پانی کی سطح کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے، اگر بارش کا پانی پہنچنے والے گڑھوں  اور آبی تہہ میں داخل کرنے والے کنوؤں  کے ذریعے زیرِ زمین بھیجا جائے۔ اسلام آباد اور لاہور کے کچھ علاقوں میں ایسے تجرباتی نظام پہلے ہی کامیاب نتائج دے چکے ہیں، جنہوں نے مون سون کے بعد کم گہرائی والے آبی ذخائر کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔</p>
<p><strong>قلت سے پائیداری تک</strong></p>
<p>اس کے باوجود کہ ان نظاموں میں بے پناہ امکانات ہیں، پاکستان میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا عمل اب بھی نظر انداز کیا گیا ہے، جس کی وجہ کمزور پالیسی حمایت، عوامی آگاہی کی کمی، اور ادارہ جاتی سطح پر بکھرا ہوا اختیار ہے۔ بھارت جیسے ممالک میں کئی ریاستوں میں چھتوں پر پانی جمع کرنے کے نظام کو قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا ہے، لیکن پاکستان میں یہ کوششیں اب تک زیادہ تر تجرباتی منصوبوں یا ڈونر اداروں کی امداد تک محدود ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر تنویر گادھی نے کہا کہ سالانہ بارش کے صرف ایک حصے کو منظم طریقے سے محفوظ کر لینے سے بھی پاکستان کے آبی مستقبل کو قلت سے نکال کر پائیداری کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ پانی کی موجودگی کا نہیں، بلکہ ارادے، منصوبہ بندی، اور عمل کا ہے۔</p>
<p>ورلڈ بینک اور ایف اے او کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کو اپنی قومی ضروریات (پینے، گھریلو استعمال، مویشیوں اور زراعت) کو پورا کرنے کے لیے یومیہ 922 ارب لیٹر، یعنی سالانہ 236 ایم اے ایف پانی درکار ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم، اس طلب کی تقسیم ایک واضح عدم توازن کی عکاسی کرتی ہے:</p>
<p>پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن محفوظ پینے کے پانی اور بنیادی گھریلو ضروریات کے لیے پانی کی کل طلب صرف یومیہ 36 ارب لیٹر ہے، جو کہ کل استعمال کا محض 4 فیصد بنتی ہے۔ اس میں پینے اور صفائی کے لیے تقریباً 12 ارب لیٹر (یعنی فی کس 50 لیٹر/یومیہ) اور گھریلو استعمال کے لیے 24 ارب لیٹر شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس، صرف زرعی شعبہ روزانہ تقریباً 880 ارب لیٹر پانی استعمال کرتا ہے، جو کہ پاکستان کے کل آبی استعمال کا 93 فیصد سے زائد بنتا ہے۔</p>
<p>یہ بڑی حد تک ناقص آبپاشی کے طریقوں اور چاول اور گنے جیسی پانی خور فصلوں کی کاشت کی وجہ سے ہے۔ جبکہ قریب 20 کروڑ جانوروں پر مشتمل مویشی شعبہ بھی روزانہ 6 ارب لیٹر پانی طلب کرتا ہے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں بلکہ نظام کی خرابی، بدانتظامی، اور ترجیحات کے فقدان کا ہے۔</p>
<p>محفوظ پینے کے پانی کی طلب بہت کم ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور آلودگی کی وجہ سے یہ ضرورت بھی ملک کے کئی علاقوں میں پوری نہیں ہو رہی۔</p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا پانی کا بحران صرف قلت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر گورننس، استعداد، اور ترجیحات کی غلطی کا مسئلہ ہے۔</p>
<p>اگر فوری پالیسی اصلاحات نہ کی گئیں—جیسے منصفانہ تقسیم، پائیدار آبپاشی کے طریقے، اور پانی کے علاج و صفائی کے نظاموں میں سرمایہ کاری—تو پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ کاغذی طور پر کافی پانی کی موجودگی کے باوجود مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274728</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 15:47:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1615452133c8614.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1615452133c8614.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
