<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی صدر سے روسی وزیرخارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون مضبوط بنانے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274718/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی صدر شی جن پنگ نے روس کے اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بیان بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ طویل عرصے سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو نیٹو جیسے مغرب کی قیادت والے بلاکس کے توازن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے 10 ارکان کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لیے زور دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سفارتکار کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس کے لیے بیجنگ پہنچ چکے ہیں جن میں روس کے سرگئی لاوروف، بھارت کے سبھرمتی جے شنکر اور ایران کے عباس عراقچی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی دارالحکومت بیجنگ میں سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران، صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو کثیر الجہتی فورمز پر باہمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں صدر ولادیمیر پوتن کے چین کے دورے کی تیاریاں بھی شامل تھیں جو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور عالمی جنگ دوم کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی صدر شی جن پنگ نے روس کے اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔</strong></p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بیان بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر دیا گیا۔</p>
<p>بیجنگ طویل عرصے سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو نیٹو جیسے مغرب کی قیادت والے بلاکس کے توازن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے 10 ارکان کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لیے زور دے رہا ہے۔</p>
<p>شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سفارتکار کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس کے لیے بیجنگ پہنچ چکے ہیں جن میں روس کے سرگئی لاوروف، بھارت کے سبھرمتی جے شنکر اور ایران کے عباس عراقچی شامل ہیں۔</p>
<p>چینی دارالحکومت بیجنگ میں سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران، صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو کثیر الجہتی فورمز پر باہمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے۔</p>
<p>ان میں صدر ولادیمیر پوتن کے چین کے دورے کی تیاریاں بھی شامل تھیں جو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور عالمی جنگ دوم کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274718</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 12:05:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/161159442a96352.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/161159442a96352.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
