<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا شرح سود کی کم ترین سطح قریب ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274712/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مئی 2025 میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد تک کم کیے جانے کے بعد، مالی سال 2026 کے لیے دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا شرح سود میں کمی  کا یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اور کیا مالی سال 2026 پالیسی ریٹ کے لحاظ سے ایک ”کم ترین“  سال ثابت ہو گا، یا مزید کمی یا سختی  آنے والے وقت میں متوقع مہنگائی کی شرح 7 سے 8 فیصد کے پیش نظر دیکھنے کو ملے گی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب کسی پیش گوئی پر مبنی ذریعہ  سے لینے کے بجائے، گزشتہ 10 سالوں کے دوران پالیسی ریٹس کے رجحانات کو دیکھنا زیادہ دلچسپ ہو گا، تاکہ اس سے کچھ مخصوص طرز پر مبنی مشاہدات حاصل کیے جا سکیں یا غیر رسمی مشاہداتی تجزیہ  کے ذریعے کچھ نتائج اخذ کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتداء میں دو اہم وضاحتیں ضروری ہیں: ایک تو یہ کہ شرح سود کے چکروں  میں کسی مستحکم رجحان کو جانچنے کے لیے زیادہ طویل مدت کا ڈیٹا ہونا چاہیے، لیکن اس تجزیے کی حد بندی یہ ہے کہ پالیسی (ہدفی) ریٹ کا آلہ 2015 میں متعارف کرایا گیا۔ دوسرا یہ کہ پالیسی ریٹس کے اعلانات ایک پیچیدہ عمل کے تحت کیے جاتے ہیں، جس میں معیشت کو درپیش موجودہ اور متوقع بیرونی و ساختیاتی/وقتی چیلنجز کی باہمی صورتحال کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجزیے میں صرف افراطِ زر اور روپے/ڈالر  کی شرح تبادلہ میں تبدیلیوں کو جزوی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تجارتی چکروں کا گرافیکل جائزہ اس لنک پر دستیاب ہے: &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tradingeconomics.com/pakistan/interest-rate"&gt;https://tradingeconomics.com/pakistan/interest-rate&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب گزشتہ 10 سالوں میں شرح سود کے دو اہم بلندی کے ادوار  سے آغاز کرتے ہیں۔ پہلا عروج 13.25 فیصد پر جولائی 2019 میں آیا، جو جنوری 2017 میں 6.0 فیصد کی کم ترین سطح سے اٹھ کر آیا تھا۔ اس بلند سطح کی مدت 8 ماہ رہی۔ شرح سود میں کمی کا آغاز فروری 2020 سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 اور 2020 میں سالانہ سی پی آئی افراطِ زر کی شرح بالترتیب 10.58 فیصد اور 9.74 فیصد رہی، جس سے حقیقی شرح سود  تقریباً 3 سے 4 فیصد مثبت رہی۔ اسی دوران مالی سال 19 اور مالی سال 20 میں روپے کی قدر میں بالترتیب 19.3 فیصد اور 13.9 فیصد کمی ہوئی۔ یہ قابلِ ذکر ہے کہ شرح سود کی بلند مدت کا دورانیہ روپے کی گراوٹ کے دورانیے سے کافی مماثل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا عروج 22 فیصد پر جون 2023 میں آیا اور مئی 2024 تک (11 ماہ) جاری رہا۔ شرح سود میں سختی  کا آغاز اگست 2021 میں 7 فیصد کی پالیسی ریٹ سے ہوا تھا۔ اس مدت کے دوران مہنگائی کی شرح (2023/2024) 29 فیصد سے 13 فیصد کے درمیان رہی، جس کی وجہ سے حقیقی شرح منفی اور مثبت کے درمیان متغیر رہی۔  مالی سال 23 اور مالی سال 24 میں روپے کی اوسط گراوٹ بالترتیب 28.5 فیصد اور 12.32 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوسرے عروج میں روپے کی گراوٹ شرح سود کے عروج سے پہلے واقع ہوئی۔ اگر دونوں سختی کے ادوار کا موازنہ کیا جائے، تو پہلا عروج 18 ماہ میں حاصل ہوا جبکہ دوسرا 14 ماہ میں، اگرچہ دونوں کے نچلے درجے ایک جیسے تھے، لیکن دوسرا عروج تقریباً 66 فیصد بلند تھا (22 فیصد بمقابلہ 13.25 فیصد)۔ اگرچہ کوئی حتمی تجرباتی تعلق ثابت نہیں کیا جا رہا، لیکن یہ ممکن ہے کہ مالی سال 22 کے بعد روپے کی زیادہ قدر میں کمی اس کا ایک سبب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ اب تیسرے ممکنہ نچلے درجے  کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، اس لیے پچھلے دو نچلے ادوار سے حاصل شدہ بصیرت پہلے کے دو عروج کے مقابلے میں زیادہ اہم اور بامعنی ہے۔ پہلا نچلا درجہ 5.75 فیصد پر تھا، جو مئی 2016 سے دسمبر 2017 تک 19 ماہ تک برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2016 اور 2017 میں اوسط سی پی آئی افراطِ زر کی شرح بالترتیب 2.3 فیصد اور 3.8 فیصد رہی، جس سے حقیقی شرح سود 2 سے 3 فیصد مثبت رہی۔ اسی عرصے میں مالی سال 16 اور مالی سال 17 میں روپے کی اوسط گراوٹ بالترتیب 2.82 فیصد اور 0.44 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا کم  درجہ 7 فیصد کا تھا، جو جون 2020 سے اگست 2021 تک 14 ماہ جاری رہا۔ اس دوران افراطِ زر کی شرح 2020 اور 2021 میں بالترتیب 9.75 فیصد اور 9.5 فیصد رہی، جس کی وجہ سے حقیقی شرح سود منفی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 19 اور مالی سال 20 میں روپے کی بالترتیب 19.3 اور 13.9 فیصد قدر میں کمی اس نچلی شرح سے پہلے آ چکی تھی، اور اس دوران شرح سود میں سختی  کا کوئی مرحلہ نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک محتاط مفروضہ یہ ہے کہ معیشت کو پالیسی ریٹ کو دیر سے ایڈجسٹ کرنے کی قیمت زیادہ مہنگائی کی صورت میں تین سال تک ادا کرنا پڑی، یعنی 2022 (12.15 فیصد)، 2023 (29.2 فیصد) اور 2024 (13.66 فیصد) میں۔ اگر دونوں نچلے درجوں کے دورانیے کا موازنہ کیا جائے، تو دوسرا نچلا درجہ کم مدت (14 بمقابلہ 22 ماہ) تک رہا اور اس کی سطح بھی زیادہ (7 بمقابلہ 5.75 فیصد) تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو کیا ان دو نچلے درجوں کی مختصر تاریخ ہمیں تیسرے نچلے درجے کے بارے میں کچھ اشارہ دیتی ہے؟ امکان یہی ہے کہ تیسرا نچلا درجہ 7 فیصد سے بلند سطح پر شروع ہو گا، یعنی 9 سے کم از کم 11 فیصد کے درمیان۔ اگر مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات سیاسی طور پر مقبول ”سنگل ڈیجٹ“ سنڈروم اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مبہم بیانیے سے متاثر ہوئے (جو کہ درحقیقت صرف ”کیسینو معیشت“ میں سرمایہ کاری ہے) یا پھر عوامی سرمایہ کاری (مثلاً بڑے انفراسٹرکچر منصوبے)، تو ممکنہ طور پر تیسرا نچلا درجہ جنوری 2026 میں 9 سے 10 فیصد کے درمیان شروع ہوگا اور اس کی مدت 14 ماہ سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور محتاط مشاہدہ جو اس تجزیاتی زاویے سے قومی سطح پر ابھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ شرح سود میں کمی یا سختی کے رجحانات کو مہنگائی کی سابقہ شرح کے بجائے روپے/ڈالر کی متوقع تبدیلی  سے زیادہ مربوط ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان درآمدات پر مبنی، صارف مرکوز معیشت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ، گزشتہ دو ماہ سے روپے کی قدر آہستہ آہستہ کمزور ہو رہی ہے، جو جزوی طور پر ”کیسینو معیشت“ کی مضبوطی کی وجہ سے ہے۔ مثالی طور پر اگلا نچلا درجہ 10 سے 11 فیصد کے درمیان پالیسی ریٹ پر شروع ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ایسے عمومی اقتصادی عوامل بھی ہیں جو پچھلے دونوں نچلے درجوں سے مختلف ہیں اور جو اس ممکنہ منظرنامے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، عالمی تجارتی کشیدگی اور علاقائی جنگوں کی وجہ سے جیو اکنامک غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جس کے باعث سپلائی چینز غیر متوقع ہو چکی ہیں۔ اس سے عالمی مہنگائی کی متوقع شرح پر دباؤ برقرار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر شرح سود میں نرمی کی رفتار محدود ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی سطح پر، داخلی اور خارجی قرضوں کی سطح پچھلے نچلے درجے کے بعد مزید خراب ہو چکی ہے۔ اگر ہم پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ سطح پر لانے کی خواہش میں جلد بازی کریں گے، تو اس کا اثر غیر ملکی مالیاتی بہاؤ پر پڑے گا (مثلاً ٹی بلز کی غیر ملکی ریٹائرمنٹ)، اور ملکی مالیاتی اثاثے خریدنے کی ہماری استعداد بھی مزید کمزور ہو جائے گی، کیونکہ حقیقی معیشت اور ”کیسینو معیشت“ کے درمیان منافع کی خلیج مزید بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کمزور سیکیورٹی صورتحال، توانائی کی بلند لاگت، ادارہ جاتی اور ریگولیٹری رکاوٹیں ایسا ماحول فراہم نہیں کرتیں جہاں پیداواری سرمایہ کاری، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں، حتیٰ کہ شرح سود میں نمایاں کمی پر بھی ردعمل دے۔ پالیسی سازوں کے لیے 10 فیصد سے کم پالیسی ریٹ پر اصل چیلنج یہ ہو گا کہ آیا وہ ”کیسینومعیشت“ (یعنی سطحی ترقی) کو فروغ دینا چاہتے ہیں یا روپے کی قدر اور مہنگائی کے استحکام کو۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مئی 2025 میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد تک کم کیے جانے کے بعد، مالی سال 2026 کے لیے دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا شرح سود میں کمی  کا یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اور کیا مالی سال 2026 پالیسی ریٹ کے لحاظ سے ایک ”کم ترین“  سال ثابت ہو گا، یا مزید کمی یا سختی  آنے والے وقت میں متوقع مہنگائی کی شرح 7 سے 8 فیصد کے پیش نظر دیکھنے کو ملے گی؟</strong></p>
<p>اس کا جواب کسی پیش گوئی پر مبنی ذریعہ  سے لینے کے بجائے، گزشتہ 10 سالوں کے دوران پالیسی ریٹس کے رجحانات کو دیکھنا زیادہ دلچسپ ہو گا، تاکہ اس سے کچھ مخصوص طرز پر مبنی مشاہدات حاصل کیے جا سکیں یا غیر رسمی مشاہداتی تجزیہ  کے ذریعے کچھ نتائج اخذ کیے جا سکیں۔</p>
<p>ابتداء میں دو اہم وضاحتیں ضروری ہیں: ایک تو یہ کہ شرح سود کے چکروں  میں کسی مستحکم رجحان کو جانچنے کے لیے زیادہ طویل مدت کا ڈیٹا ہونا چاہیے، لیکن اس تجزیے کی حد بندی یہ ہے کہ پالیسی (ہدفی) ریٹ کا آلہ 2015 میں متعارف کرایا گیا۔ دوسرا یہ کہ پالیسی ریٹس کے اعلانات ایک پیچیدہ عمل کے تحت کیے جاتے ہیں، جس میں معیشت کو درپیش موجودہ اور متوقع بیرونی و ساختیاتی/وقتی چیلنجز کی باہمی صورتحال کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس تجزیے میں صرف افراطِ زر اور روپے/ڈالر  کی شرح تبادلہ میں تبدیلیوں کو جزوی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تجارتی چکروں کا گرافیکل جائزہ اس لنک پر دستیاب ہے: <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tradingeconomics.com/pakistan/interest-rate">https://tradingeconomics.com/pakistan/interest-rate</a></p>
<p>اب گزشتہ 10 سالوں میں شرح سود کے دو اہم بلندی کے ادوار  سے آغاز کرتے ہیں۔ پہلا عروج 13.25 فیصد پر جولائی 2019 میں آیا، جو جنوری 2017 میں 6.0 فیصد کی کم ترین سطح سے اٹھ کر آیا تھا۔ اس بلند سطح کی مدت 8 ماہ رہی۔ شرح سود میں کمی کا آغاز فروری 2020 سے ہوا۔</p>
<p>2019 اور 2020 میں سالانہ سی پی آئی افراطِ زر کی شرح بالترتیب 10.58 فیصد اور 9.74 فیصد رہی، جس سے حقیقی شرح سود  تقریباً 3 سے 4 فیصد مثبت رہی۔ اسی دوران مالی سال 19 اور مالی سال 20 میں روپے کی قدر میں بالترتیب 19.3 فیصد اور 13.9 فیصد کمی ہوئی۔ یہ قابلِ ذکر ہے کہ شرح سود کی بلند مدت کا دورانیہ روپے کی گراوٹ کے دورانیے سے کافی مماثل تھا۔</p>
<p>دوسرا عروج 22 فیصد پر جون 2023 میں آیا اور مئی 2024 تک (11 ماہ) جاری رہا۔ شرح سود میں سختی  کا آغاز اگست 2021 میں 7 فیصد کی پالیسی ریٹ سے ہوا تھا۔ اس مدت کے دوران مہنگائی کی شرح (2023/2024) 29 فیصد سے 13 فیصد کے درمیان رہی، جس کی وجہ سے حقیقی شرح منفی اور مثبت کے درمیان متغیر رہی۔  مالی سال 23 اور مالی سال 24 میں روپے کی اوسط گراوٹ بالترتیب 28.5 فیصد اور 12.32 فیصد رہی۔</p>
<p>اس دوسرے عروج میں روپے کی گراوٹ شرح سود کے عروج سے پہلے واقع ہوئی۔ اگر دونوں سختی کے ادوار کا موازنہ کیا جائے، تو پہلا عروج 18 ماہ میں حاصل ہوا جبکہ دوسرا 14 ماہ میں، اگرچہ دونوں کے نچلے درجے ایک جیسے تھے، لیکن دوسرا عروج تقریباً 66 فیصد بلند تھا (22 فیصد بمقابلہ 13.25 فیصد)۔ اگرچہ کوئی حتمی تجرباتی تعلق ثابت نہیں کیا جا رہا، لیکن یہ ممکن ہے کہ مالی سال 22 کے بعد روپے کی زیادہ قدر میں کمی اس کا ایک سبب ہو۔</p>
<p>چونکہ اب تیسرے ممکنہ نچلے درجے  کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، اس لیے پچھلے دو نچلے ادوار سے حاصل شدہ بصیرت پہلے کے دو عروج کے مقابلے میں زیادہ اہم اور بامعنی ہے۔ پہلا نچلا درجہ 5.75 فیصد پر تھا، جو مئی 2016 سے دسمبر 2017 تک 19 ماہ تک برقرار رہا۔</p>
<p>سال 2016 اور 2017 میں اوسط سی پی آئی افراطِ زر کی شرح بالترتیب 2.3 فیصد اور 3.8 فیصد رہی، جس سے حقیقی شرح سود 2 سے 3 فیصد مثبت رہی۔ اسی عرصے میں مالی سال 16 اور مالی سال 17 میں روپے کی اوسط گراوٹ بالترتیب 2.82 فیصد اور 0.44 فیصد رہی۔</p>
<p>دوسرا کم  درجہ 7 فیصد کا تھا، جو جون 2020 سے اگست 2021 تک 14 ماہ جاری رہا۔ اس دوران افراطِ زر کی شرح 2020 اور 2021 میں بالترتیب 9.75 فیصد اور 9.5 فیصد رہی، جس کی وجہ سے حقیقی شرح سود منفی تھی۔</p>
<p>مالی سال 19 اور مالی سال 20 میں روپے کی بالترتیب 19.3 اور 13.9 فیصد قدر میں کمی اس نچلی شرح سے پہلے آ چکی تھی، اور اس دوران شرح سود میں سختی  کا کوئی مرحلہ نہیں آیا۔</p>
<p>ایک محتاط مفروضہ یہ ہے کہ معیشت کو پالیسی ریٹ کو دیر سے ایڈجسٹ کرنے کی قیمت زیادہ مہنگائی کی صورت میں تین سال تک ادا کرنا پڑی، یعنی 2022 (12.15 فیصد)، 2023 (29.2 فیصد) اور 2024 (13.66 فیصد) میں۔ اگر دونوں نچلے درجوں کے دورانیے کا موازنہ کیا جائے، تو دوسرا نچلا درجہ کم مدت (14 بمقابلہ 22 ماہ) تک رہا اور اس کی سطح بھی زیادہ (7 بمقابلہ 5.75 فیصد) تھی۔</p>
<p>تو کیا ان دو نچلے درجوں کی مختصر تاریخ ہمیں تیسرے نچلے درجے کے بارے میں کچھ اشارہ دیتی ہے؟ امکان یہی ہے کہ تیسرا نچلا درجہ 7 فیصد سے بلند سطح پر شروع ہو گا، یعنی 9 سے کم از کم 11 فیصد کے درمیان۔ اگر مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات سیاسی طور پر مقبول ”سنگل ڈیجٹ“ سنڈروم اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مبہم بیانیے سے متاثر ہوئے (جو کہ درحقیقت صرف ”کیسینو معیشت“ میں سرمایہ کاری ہے) یا پھر عوامی سرمایہ کاری (مثلاً بڑے انفراسٹرکچر منصوبے)، تو ممکنہ طور پر تیسرا نچلا درجہ جنوری 2026 میں 9 سے 10 فیصد کے درمیان شروع ہوگا اور اس کی مدت 14 ماہ سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ایک اور محتاط مشاہدہ جو اس تجزیاتی زاویے سے قومی سطح پر ابھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ شرح سود میں کمی یا سختی کے رجحانات کو مہنگائی کی سابقہ شرح کے بجائے روپے/ڈالر کی متوقع تبدیلی  سے زیادہ مربوط ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان درآمدات پر مبنی، صارف مرکوز معیشت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ، گزشتہ دو ماہ سے روپے کی قدر آہستہ آہستہ کمزور ہو رہی ہے، جو جزوی طور پر ”کیسینو معیشت“ کی مضبوطی کی وجہ سے ہے۔ مثالی طور پر اگلا نچلا درجہ 10 سے 11 فیصد کے درمیان پالیسی ریٹ پر شروع ہونا چاہیے۔</p>
<p>کچھ ایسے عمومی اقتصادی عوامل بھی ہیں جو پچھلے دونوں نچلے درجوں سے مختلف ہیں اور جو اس ممکنہ منظرنامے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، عالمی تجارتی کشیدگی اور علاقائی جنگوں کی وجہ سے جیو اکنامک غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جس کے باعث سپلائی چینز غیر متوقع ہو چکی ہیں۔ اس سے عالمی مہنگائی کی متوقع شرح پر دباؤ برقرار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر شرح سود میں نرمی کی رفتار محدود ہو چکی ہے۔</p>
<p>ملکی سطح پر، داخلی اور خارجی قرضوں کی سطح پچھلے نچلے درجے کے بعد مزید خراب ہو چکی ہے۔ اگر ہم پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ سطح پر لانے کی خواہش میں جلد بازی کریں گے، تو اس کا اثر غیر ملکی مالیاتی بہاؤ پر پڑے گا (مثلاً ٹی بلز کی غیر ملکی ریٹائرمنٹ)، اور ملکی مالیاتی اثاثے خریدنے کی ہماری استعداد بھی مزید کمزور ہو جائے گی، کیونکہ حقیقی معیشت اور ”کیسینو معیشت“ کے درمیان منافع کی خلیج مزید بڑھ جائے گی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کمزور سیکیورٹی صورتحال، توانائی کی بلند لاگت، ادارہ جاتی اور ریگولیٹری رکاوٹیں ایسا ماحول فراہم نہیں کرتیں جہاں پیداواری سرمایہ کاری، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں، حتیٰ کہ شرح سود میں نمایاں کمی پر بھی ردعمل دے۔ پالیسی سازوں کے لیے 10 فیصد سے کم پالیسی ریٹ پر اصل چیلنج یہ ہو گا کہ آیا وہ ”کیسینومعیشت“ (یعنی سطحی ترقی) کو فروغ دینا چاہتے ہیں یا روپے کی قدر اور مہنگائی کے استحکام کو۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274712</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 11:41:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر سجاد اختر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/16113853714018d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/16113853714018d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
