<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:34:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:34:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس اقدامات کے خلاف ہڑتال کی کال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274711/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کی بڑی تجارتی انجمنوں کی جانب سے 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کی کال، جس کا مقصد فنانس ایکٹ 2025 میں شامل ان ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا ہے جنہیں وہ کاروبار دشمن قرار دے رہی ہیں، ایسے وقت میں آئی ہے جب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے خدشات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ماضی میں تاجروں کی جانب سے کی جانے والی ایسی ہڑتالوں کی کالز عموماً دستاویزی نظام کی مزاحمت اور ٹیکس کی واجب الادا ادائیگی سے گریز کے سبب ہوتی تھیں، تاہم یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس مخصوص احتجاج کے بنیادی حمایتی صنعت کار ہیں — جو کہ عمومی طور پر پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں, لہٰذا ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور حکومت کو انہیں سرسری طور پر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہڑتال کے فیصلے کا سبب فنانس ایکٹ میں شامل کی گئی چند متنازع شقیں بنی ہیں جن میں نقد لین دین پر 2 لاکھ روپے کی حد مقرر کرنا، ٹیکس چوری کے الزامات کی بنیاد پر ایف بی آر حکام کو گرفتاری کے وسیع اختیارات دینا اور ڈیجیٹل انوائسنگ و ای-بلنگ کا لازمی نفاذ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے کہ باقاعدہ (فارمل) شعبہ پہلے ہی بلند ترین ٹیکسز اور ودہولڈنگ شرح میں مسلسل اضافے کے بوجھ تلے دب چکا ہے جو کہ کسی طور بھی معاون ثابت نہیں ہورہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس کے ساتھ ہر سال ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بے رحمانہ اضافے نے صنعتی شعبے کی منافع بخش صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے اور صنعتی شعبے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں شراکت میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2025 میں سروس فراہم کرنے والوں — خصوصاً ٹول مینوفیکچررز — کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بڑے اضافے کی شرط بے شمار کاروباری اداروں، بالخصوص ان صنعتی یونٹس کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے جو ان خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ودہولڈنگ ٹیکس کی عمومی شرح کو بڑھا کر ٹرن اوور کا بھاری بھرکم 15 فیصد کردیا گیا ہے — جس کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کو اپنی مجموعی آمدنی کا 15 فیصد منافع سے قطع نظر حکومت کو دینا ہوگا۔ یہ پچھلی شرح — یعنی کمپنیوں کے لیے 9 فیصد اور افراد یا ایسوسی ایشنز آف پرسنز کے لیے 11 فیصد — کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے، جو باقاعدہ معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات واضح ہے کہ ایسے سخت گیر اقدامات اور دیگر اسی نوعیت کی شقوں کے ذمہ دار یا تو اس بنیادی فہم سے محروم ہیں کہ کاروبار کس طرح چلتے ہیں اور ان کے منافع کی حدود کیا ہوتی ہیں، یا پھر وہ ان مشکلات سے سراسر بے پروا ہیں جو ان پالیسیوں کے نتیجے میں کاروباری اداروں پر مسلط ہورہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتنے کاروبار حقیقت میں 15 فیصد مجموعی آمدن پر ٹیکس برداشت کرکے بھی منافع میں رہ سکتے ہیں؟ ایسے مالیاتی اقدامات نے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے جس کے باعث کاروبار ودہولڈنگ ٹیکس کو ایک لاگت کے جزو کے طور پر لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی واضح ہے: مسلسل مہنگائی، ٹیکس کی عدم ادائیگی میں اضافہ اور غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، کیونکہ کمپنیاں ظالمانہ اور بھتہ خوری جیسے ٹیکس نظام سے بچنے کے لیے غیر رسمی راستے اختیار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینے اور نقد لین دین پر پابندی سے متعلق شقوں کا مقصد بظاہر دستاویزی اور کیش لیس معیشت کو فروغ دینا ہے، تاہم حکام نے شاید اس حقیقت کو نظر انداز کردیا ہے کہ ایسی بڑی تبدیلیوں پر عملدرآمد ایک ایسی مارکیٹ میں آسان نہیں جہاں اب بھی زیادہ تر ادائیگیاں نقدی میں ہوتی ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ حکومت اس بنیادی تبدیلی سے پہلے ایک عبوری مدت متعارف کرائے تاکہ اس سے جڑے عملی مسائل کو کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پالیسی سازی میں صنعت دشمنی کا مستقل مظاہرہ کیا ہے جب کہ معیشت کے دیگر شعبوں، جیسے ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر کے ساتھ نرمی برتی گئی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تاجر طبقہ اکثر دستاویزی نظام کی مزاحمت اور ٹیکس سے بچنے کے لیے شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کا سہارا لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، مینوفیکچرنگ شعبے کے پاس ایسی مزاحمتی کارروائیوں کی گنجائش محدود ہوتی ہے کیونکہ وہ پیداوار کی بندش سے ہونے والے نقصانات برداشت نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس پالیسی میں اس امتیازی سلوک سے عدم مساوات واضح ہوتی ہے جو نہ صرف معیشت کی رسمی حیثیت کو فروغ دینے سے روکتی ہے بلکہ صنعت میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی کرتی ہے، ضروری ہے کہ حکومت صنعتکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور ایک بامعنی مکالمے کا آغاز کرے تاکہ فنانس ایکٹ کی ان شقوں میں مناسب ترامیم کی جا سکیں جنہیں منصفانہ، قابلِ عمل اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے معاون بنانا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کی بڑی تجارتی انجمنوں کی جانب سے 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کی کال، جس کا مقصد فنانس ایکٹ 2025 میں شامل ان ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا ہے جنہیں وہ کاروبار دشمن قرار دے رہی ہیں، ایسے وقت میں آئی ہے جب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے خدشات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ ماضی میں تاجروں کی جانب سے کی جانے والی ایسی ہڑتالوں کی کالز عموماً دستاویزی نظام کی مزاحمت اور ٹیکس کی واجب الادا ادائیگی سے گریز کے سبب ہوتی تھیں، تاہم یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس مخصوص احتجاج کے بنیادی حمایتی صنعت کار ہیں — جو کہ عمومی طور پر پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں, لہٰذا ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور حکومت کو انہیں سرسری طور پر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>ہڑتال کے فیصلے کا سبب فنانس ایکٹ میں شامل کی گئی چند متنازع شقیں بنی ہیں جن میں نقد لین دین پر 2 لاکھ روپے کی حد مقرر کرنا، ٹیکس چوری کے الزامات کی بنیاد پر ایف بی آر حکام کو گرفتاری کے وسیع اختیارات دینا اور ڈیجیٹل انوائسنگ و ای-بلنگ کا لازمی نفاذ شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے کہ باقاعدہ (فارمل) شعبہ پہلے ہی بلند ترین ٹیکسز اور ودہولڈنگ شرح میں مسلسل اضافے کے بوجھ تلے دب چکا ہے جو کہ کسی طور بھی معاون ثابت نہیں ہورہا۔</p>
<p>ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس کے ساتھ ہر سال ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بے رحمانہ اضافے نے صنعتی شعبے کی منافع بخش صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے اور صنعتی شعبے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں شراکت میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2025 میں سروس فراہم کرنے والوں — خصوصاً ٹول مینوفیکچررز — کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بڑے اضافے کی شرط بے شمار کاروباری اداروں، بالخصوص ان صنعتی یونٹس کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے جو ان خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>اب ودہولڈنگ ٹیکس کی عمومی شرح کو بڑھا کر ٹرن اوور کا بھاری بھرکم 15 فیصد کردیا گیا ہے — جس کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کو اپنی مجموعی آمدنی کا 15 فیصد منافع سے قطع نظر حکومت کو دینا ہوگا۔ یہ پچھلی شرح — یعنی کمپنیوں کے لیے 9 فیصد اور افراد یا ایسوسی ایشنز آف پرسنز کے لیے 11 فیصد — کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے، جو باقاعدہ معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>یہ بات واضح ہے کہ ایسے سخت گیر اقدامات اور دیگر اسی نوعیت کی شقوں کے ذمہ دار یا تو اس بنیادی فہم سے محروم ہیں کہ کاروبار کس طرح چلتے ہیں اور ان کے منافع کی حدود کیا ہوتی ہیں، یا پھر وہ ان مشکلات سے سراسر بے پروا ہیں جو ان پالیسیوں کے نتیجے میں کاروباری اداروں پر مسلط ہورہی ہیں۔</p>
<p>کتنے کاروبار حقیقت میں 15 فیصد مجموعی آمدن پر ٹیکس برداشت کرکے بھی منافع میں رہ سکتے ہیں؟ ایسے مالیاتی اقدامات نے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے جس کے باعث کاروبار ودہولڈنگ ٹیکس کو ایک لاگت کے جزو کے طور پر لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی واضح ہے: مسلسل مہنگائی، ٹیکس کی عدم ادائیگی میں اضافہ اور غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، کیونکہ کمپنیاں ظالمانہ اور بھتہ خوری جیسے ٹیکس نظام سے بچنے کے لیے غیر رسمی راستے اختیار کر رہی ہیں۔</p>
<p>ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینے اور نقد لین دین پر پابندی سے متعلق شقوں کا مقصد بظاہر دستاویزی اور کیش لیس معیشت کو فروغ دینا ہے، تاہم حکام نے شاید اس حقیقت کو نظر انداز کردیا ہے کہ ایسی بڑی تبدیلیوں پر عملدرآمد ایک ایسی مارکیٹ میں آسان نہیں جہاں اب بھی زیادہ تر ادائیگیاں نقدی میں ہوتی ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ حکومت اس بنیادی تبدیلی سے پہلے ایک عبوری مدت متعارف کرائے تاکہ اس سے جڑے عملی مسائل کو کم کیا جاسکے۔</p>
<p>یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پالیسی سازی میں صنعت دشمنی کا مستقل مظاہرہ کیا ہے جب کہ معیشت کے دیگر شعبوں، جیسے ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر کے ساتھ نرمی برتی گئی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تاجر طبقہ اکثر دستاویزی نظام کی مزاحمت اور ٹیکس سے بچنے کے لیے شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کا سہارا لیتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، مینوفیکچرنگ شعبے کے پاس ایسی مزاحمتی کارروائیوں کی گنجائش محدود ہوتی ہے کیونکہ وہ پیداوار کی بندش سے ہونے والے نقصانات برداشت نہیں کرسکتا۔</p>
<p>ٹیکس پالیسی میں اس امتیازی سلوک سے عدم مساوات واضح ہوتی ہے جو نہ صرف معیشت کی رسمی حیثیت کو فروغ دینے سے روکتی ہے بلکہ صنعت میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی کرتی ہے، ضروری ہے کہ حکومت صنعتکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور ایک بامعنی مکالمے کا آغاز کرے تاکہ فنانس ایکٹ کی ان شقوں میں مناسب ترامیم کی جا سکیں جنہیں منصفانہ، قابلِ عمل اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے معاون بنانا لازم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274711</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 11:15:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/161112501a8298c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/161112501a8298c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
