<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 16:59:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 16:59:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274709/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں   پاکستانی روپیہ گراوٹ کا شکار ہوگیا جس کی قدر میں 0.10 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 284.96 پر بند ہوا، یعنی اس کی قدر میں 29 پیسے کی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/16190157d803546.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو روپیہ 284.67 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر اور ٹریژری ییلڈز دونوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں جاپانی ین پر دباؤ برقرار رہا۔ اس کی وجہ تازہ ترین امریکی افراطِ زر رپورٹ تھی جس سے اشارہ ملا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات (ٹیرف) قیمتوں پر اثر انداز ہونا شروع ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں کافی، آڈیو آلات اور ڈومیسٹک فرنیچر جیسی مختلف درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا دیا، خاص طور پر ان اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جن کا بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان نے امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈز کو اوپر کی جانب دھکیل دیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کم کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر میں اضافہ سب سے نمایاں طور پر جاپانی ین کے مقابلے میں نظر آیا جہاں اس نے ین کو راتوں رات چار ماہ کی کم ترین سطح 149.03 تک دھکیل دیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈالر 148.90 ین پر ٹریڈ کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یورو اور برطانوی پاؤنڈ بھی پچھلے سیشن میں لگنے والی تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہے جہاں یورو $1.1608 اور پاؤنڈ $1.3394 پر خریدے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈرز اب دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے تقریباً 43 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں نرمی (ایزنگ) کی توقع کررہے ہیں جو کہ ہفتے کے آغاز میں 50 بیسس پوائنٹس سے کچھ زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو امریکی ٹریژری ییلڈز بلند سطح پر برقرار رہیں جبکہ بینچ مارک 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ ایک ماہ کی بلند ترین سطح 4.4950 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال نے امریکی ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں سہارا فراہم کیے رکھا اور یہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 98.60 پر منڈلا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں، جو زرِ مبادلہ کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، بدھ کے روز تقریباً ایک فیصد گر گئیں۔ اگرچہ چین میں خام تیل کی کھپت میں اضافے کے آثار نمایاں ہوئے، تاہم سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی، جو امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیشِ نظر اپنائی گئی، ان مثبت اشاروں پر غالب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند دنوں سے قیمتیں ایک محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ ایک طرف موسمِ گرما میں شمالی نصف کرے میں سفر میں اضافے سے ایندھن کی طلب میں تسلسل دیکھا گیا، تو دوسری جانب یہ خدشہ برقرار ہے کہ امریکی ٹیرف عالمی تجارتی شراکت داروں کی معیشت کو سست کر سکتے ہیں، جس سے ایندھن کی کھپت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کی تازہ ترین صورتحال بدھ کو (عالمی وقت کے مطابق 11 بج کر 50 منٹ) پر برینٹ کروڈ فیوچرز 63 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 68.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 69 سینٹ یا ایک فیصد کمی کے ساتھ 65.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی شرحِ تبادلہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت خرید روپے 284.96&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت فروخت روپے 285.16&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں   پاکستانی روپیہ گراوٹ کا شکار ہوگیا جس کی قدر میں 0.10 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 284.96 پر بند ہوا، یعنی اس کی قدر میں 29 پیسے کی کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/16190157d803546.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو روپیہ 284.67 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر اور ٹریژری ییلڈز دونوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں جاپانی ین پر دباؤ برقرار رہا۔ اس کی وجہ تازہ ترین امریکی افراطِ زر رپورٹ تھی جس سے اشارہ ملا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات (ٹیرف) قیمتوں پر اثر انداز ہونا شروع ہوچکے ہیں۔</p>
<p>جون میں کافی، آڈیو آلات اور ڈومیسٹک فرنیچر جیسی مختلف درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا دیا، خاص طور پر ان اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جن کا بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس رجحان نے امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈز کو اوپر کی جانب دھکیل دیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کم کردیں۔</p>
<p>ڈالر میں اضافہ سب سے نمایاں طور پر جاپانی ین کے مقابلے میں نظر آیا جہاں اس نے ین کو راتوں رات چار ماہ کی کم ترین سطح 149.03 تک دھکیل دیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈالر 148.90 ین پر ٹریڈ کررہا تھا۔</p>
<p>اسی طرح یورو اور برطانوی پاؤنڈ بھی پچھلے سیشن میں لگنے والی تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہے جہاں یورو $1.1608 اور پاؤنڈ $1.3394 پر خریدے جا رہے تھے۔</p>
<p>ٹریڈرز اب دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے تقریباً 43 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں نرمی (ایزنگ) کی توقع کررہے ہیں جو کہ ہفتے کے آغاز میں 50 بیسس پوائنٹس سے کچھ زیادہ تھی۔</p>
<p>بدھ کو امریکی ٹریژری ییلڈز بلند سطح پر برقرار رہیں جبکہ بینچ مارک 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ ایک ماہ کی بلند ترین سطح 4.4950 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اس صورتِ حال نے امریکی ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں سہارا فراہم کیے رکھا اور یہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 98.60 پر منڈلا رہا تھا۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں، جو زرِ مبادلہ کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، بدھ کے روز تقریباً ایک فیصد گر گئیں۔ اگرچہ چین میں خام تیل کی کھپت میں اضافے کے آثار نمایاں ہوئے، تاہم سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی، جو امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیشِ نظر اپنائی گئی، ان مثبت اشاروں پر غالب رہی۔</p>
<p>گزشتہ چند دنوں سے قیمتیں ایک محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ ایک طرف موسمِ گرما میں شمالی نصف کرے میں سفر میں اضافے سے ایندھن کی طلب میں تسلسل دیکھا گیا، تو دوسری جانب یہ خدشہ برقرار ہے کہ امریکی ٹیرف عالمی تجارتی شراکت داروں کی معیشت کو سست کر سکتے ہیں، جس سے ایندھن کی کھپت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>قیمتوں کی تازہ ترین صورتحال بدھ کو (عالمی وقت کے مطابق 11 بج کر 50 منٹ) پر برینٹ کروڈ فیوچرز 63 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 68.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئیں۔</p>
<p>ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 69 سینٹ یا ایک فیصد کمی کے ساتھ 65.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>بدھ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی شرحِ تبادلہ:</p>
<p>قیمت خرید روپے 284.96</p>
<p>قیمت فروخت روپے 285.16</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274709</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 19:21:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1610540483c1c64.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1610540483c1c64.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
