<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا توانائی شعبہ کیپٹیو پاور کے شکنجے سے نکل رہا ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274704/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے پیچیدہ توانائی کے شعبے میں ایک خاموش جنگ جاری ہے، جس میں حکومت اور صنعتیں آمنے سامنے ہیں۔ یہ جنگ ایسے وقت میں چھڑی جب قومی گرڈ معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور صنعتیں اپنی بجلی خود پیدا کرنے والے کیپٹیو پاور پلانٹس (سی پی پیز) پر انحصار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی نظر میں بھی آیا اور کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان صنعتوں نے، جو سستی قدرتی گیس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سی پی پیز لگا چکی ہیں، اب ایسے سرچارجز کا سامنا کیا ہے جنہوں نے بعض صورتوں میں سی پی پیز کو گرڈ سے زیادہ مہنگا بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پیز پر چلنے والی صنعتیں قومی گرڈ سے منسلک ہونے سے گریز کرتی رہی ہیں، حالانکہ قومی گرڈ پہلے ہی اضافی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے فی یونٹ فکسڈ لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ پہلے سے ہی دباؤ کا شکار بجلی کے نظام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آف-گرڈ بجلی پیدا کرنے والے یونٹس طویل عرصے سے قومی سطح پر توانائی کی منصوبہ بندی سے باہر رہے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے پاکستان کا گرڈ کم استعمال کے باعث مالی دباؤ، کیپیسٹی پیمنٹس میں اضافے اور طلب میں کمی کا شکار ہے — مالی سال 2024 میں بجلی کی طلب میں 5 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی — سی پی پیز پر پالیسی سازوں کی توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹیو پاور اور قومی گرڈ کے درمیان یہ کشمکش صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اعتماد، معیشت اور بقا سے جڑا معاملہ ہے۔ ماضی میں جب لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صنعتی پیداوار بند ہو جاتی تھی، تو صنعتوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تقریباً 1,180 کیپٹیو پلانٹس میں سے زیادہ تر صرف مخصوص صنعتی استعمال کے لیے بجلی پیدا کرتے ہیں، جبکہ بہت کم پلانٹس اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرتے ہیں۔ قومی گرڈ، جو 45,000 میگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، صرف سی پی پیز کی وجہ سے تقریباً 3,000 میگاواٹ طلب کی کمی کا سامنا کر رہا ہے — یہ نیپرا کا تخمینہ ہے۔ اس بنا پر سی پی پیز ملک میں بجلی کی سب سے بڑی غیر رسمی ذرائع میں شامل ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سی پی پیز صنعتوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، لیکن ان کی غیر منظم ترقی وسیع تر توانائی کے نظام کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ حکومت اور نیپرا سی پی پیز کے حوالے سے مسلسل تنقیدی مؤقف اختیار کر رہے ہیں، خاص طور پر موجودہ اضافی بجلی کی صلاحیت اور کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، ناقص کارکردگی اور زیادہ گیس کھپت بھی توانائی کے شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ جب ان غیر مؤثر سی پی پیز کو گیس فراہم کی جاتی ہے، تو زیادہ مؤثر گرڈ پلانٹس کو گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں مہنگی آر ایل این جی  پر انحصار کرنا پڑتا ہے — اور یوں بجلی کا ٹیرف مزید بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر سی پی پیز کی کارکردگی 30 فیصد کے آس پاس ہے، جبکہ جدید گرڈ سے منسلک پاور پلانٹس 50 فیصد یا اس سے زیادہ کی کارکردگی رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سی پی پیز فی یونٹ زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں، اور یوں قیمتی قدرتی وسائل کا غیر ضروری زیاں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال دو طرفہ مسائل کی وجہ سے بگڑتی گئی۔ ابتدا میں پالیسی سازوں نے سی پی پیز کو نظر انداز کیا، کیونکہ اس سے صنعتی شکایات میں کمی ہوئی اور معیشت کو توانائی فراہم ہوتی رہی۔ دوسری طرف، پالیسی سازوں نے بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھائی، اس توقع پر کہ طلب میں اضافہ ہوگا — لیکن چونکہ صنعتی صارفین پہلے ہی سی پی پیز پر انحصار کر رہے تھے، اس لیے وہ گرڈ سے بجلی لینے ہی نہ آئے۔ یہ صورتحال ایک خطرناک چکر میں تبدیل ہو گئی، جس نے گرڈ کے لیے مزید مسائل پیدا کیے — اور بدقسمتی سے یہی غلطیاں اب نیٹ میٹرنگ اور سولرائزیشن کے ساتھ بھی دہرائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منفی چکر کو سمجھتے ہوئے، حکومت نے کیپٹیو بجلی کی حوصلہ شکنی اور صنعتوں کو واپس قومی گرڈ پر لانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا قدم سی پی پیز کے لیے گیس کی فراہمی واپس لینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 سے یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ صرف وہی کیپٹیو پاور پلانٹس (سی پی پیز) جو 50 فیصد سے زیادہ استعدادِ کار رکھتے ہیں، سبسڈی والی گیس پر اپنا آپریشن جاری رکھ سکیں گے۔ مارچ 2025 تک حکومت نے سی پی پیز کے لیے گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد تک اضافہ کر دیا، اور ایک نیا گرڈ لیوی بھی عائد کیا گیا، تاکہ سی پی پیز کی بجلی پیداوار کی لاگت کو قومی گرڈ کی لاگت کے برابر لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے صنعتوں کو یہ بھی لازم قرار دیا ہے کہ وہ گرڈ سے دوہری رابطہ کاری برقرار رکھیں اور یہ ثابت کریں کہ وہ پیک اوقات میں قومی گرڈ سے بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیلف جنریشن پر سپرچارجز یا وِیلنگ چارجز لگانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، خاص طور پر اگر کسی صنعت کا گرڈ کنیکشن صرف بیک اپ کے طور پر موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداواری صلاحیت اس وقت 45,000 میگاواٹ سے زائد ہے، لیکن 2024 میں طلب شاذ و نادر ہی 30,000 میگاواٹ سے تجاوز کر پائی۔ یعنی تقریباً 15,000 میگاواٹ کی اضافی صلاحیت ایسی ہے جس کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے — صرف 2024 میں صارفین سے 2 کھرب روپے کی زائد وصولی ہوئی، جو کہ بجلی کے شعبے کے کل اخراجات کا 60 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، جن صنعتوں کے پاس بڑے سی پی پیز لگانے کی صلاحیت تھی، انہوں نے دیگر مقامی کاروباری اداروں کو غیر مسابقتی بنا دیا، اور یوں ایسی مراعات کو فروغ ملا جس کے تحت مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں سستے داموں بیچنا زیادہ فائدہ مند ہو گیا، بجائے اس کے کہ انہیں برآمد کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اب بھی اکثر سی پی پیز گرڈ سے جڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ان کی بجلی کی کھپت کا انداز اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ ان کے لیے الگ سب اسٹیشنز قائم کیے جائیں — جیسا کہ نیپرا کے ضوابط میں درج ہے — اور یہ عمل بہت مہنگا پڑتا ہے۔ وولٹیج میں اتار چڑھاؤ پر تحفظات برقرار ہیں، اور پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی سی پی پیز کو گرڈ میں ضم ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادہ تر صنعتوں نے پہلے ہی اپنے سی پی پیز پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کے لیے گرڈ پر منتقلی صرف اضافی مالی بوجھ بن کر سامنے آتی ہے — کیونکہ گرڈ کنیکشن کے لیے درکار انفراسٹرکچر کی تعمیر پر 2 سے 4 ارب روپے کا خرچ آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان اپنی صنعتوں کو قومی گرڈ کی طرف منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لیے رابطہ کاری اور اشتراکِ عمل کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ گرڈ کی استحکام کی یقین دہانی، بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور منتقلی کے دوران سہولت کاری اس عمل کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری عوامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے پیچیدہ توانائی کے شعبے میں ایک خاموش جنگ جاری ہے، جس میں حکومت اور صنعتیں آمنے سامنے ہیں۔ یہ جنگ ایسے وقت میں چھڑی جب قومی گرڈ معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور صنعتیں اپنی بجلی خود پیدا کرنے والے کیپٹیو پاور پلانٹس (سی پی پیز) پر انحصار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی نظر میں بھی آیا اور کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ان صنعتوں نے، جو سستی قدرتی گیس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سی پی پیز لگا چکی ہیں، اب ایسے سرچارجز کا سامنا کیا ہے جنہوں نے بعض صورتوں میں سی پی پیز کو گرڈ سے زیادہ مہنگا بنا دیا ہے۔</p>
<p>سی پی پیز پر چلنے والی صنعتیں قومی گرڈ سے منسلک ہونے سے گریز کرتی رہی ہیں، حالانکہ قومی گرڈ پہلے ہی اضافی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے فی یونٹ فکسڈ لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ پہلے سے ہی دباؤ کا شکار بجلی کے نظام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>یہ آف-گرڈ بجلی پیدا کرنے والے یونٹس طویل عرصے سے قومی سطح پر توانائی کی منصوبہ بندی سے باہر رہے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے پاکستان کا گرڈ کم استعمال کے باعث مالی دباؤ، کیپیسٹی پیمنٹس میں اضافے اور طلب میں کمی کا شکار ہے — مالی سال 2024 میں بجلی کی طلب میں 5 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی — سی پی پیز پر پالیسی سازوں کی توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔</p>
<p>کیپٹیو پاور اور قومی گرڈ کے درمیان یہ کشمکش صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اعتماد، معیشت اور بقا سے جڑا معاملہ ہے۔ ماضی میں جب لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صنعتی پیداوار بند ہو جاتی تھی، تو صنعتوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا۔</p>
<p>پاکستان میں تقریباً 1,180 کیپٹیو پلانٹس میں سے زیادہ تر صرف مخصوص صنعتی استعمال کے لیے بجلی پیدا کرتے ہیں، جبکہ بہت کم پلانٹس اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرتے ہیں۔ قومی گرڈ، جو 45,000 میگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، صرف سی پی پیز کی وجہ سے تقریباً 3,000 میگاواٹ طلب کی کمی کا سامنا کر رہا ہے — یہ نیپرا کا تخمینہ ہے۔ اس بنا پر سی پی پیز ملک میں بجلی کی سب سے بڑی غیر رسمی ذرائع میں شامل ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ سی پی پیز صنعتوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، لیکن ان کی غیر منظم ترقی وسیع تر توانائی کے نظام کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ حکومت اور نیپرا سی پی پیز کے حوالے سے مسلسل تنقیدی مؤقف اختیار کر رہے ہیں، خاص طور پر موجودہ اضافی بجلی کی صلاحیت اور کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں۔</p>
<p>اس کے علاوہ، ناقص کارکردگی اور زیادہ گیس کھپت بھی توانائی کے شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ جب ان غیر مؤثر سی پی پیز کو گیس فراہم کی جاتی ہے، تو زیادہ مؤثر گرڈ پلانٹس کو گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں مہنگی آر ایل این جی  پر انحصار کرنا پڑتا ہے — اور یوں بجلی کا ٹیرف مزید بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر سی پی پیز کی کارکردگی 30 فیصد کے آس پاس ہے، جبکہ جدید گرڈ سے منسلک پاور پلانٹس 50 فیصد یا اس سے زیادہ کی کارکردگی رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سی پی پیز فی یونٹ زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں، اور یوں قیمتی قدرتی وسائل کا غیر ضروری زیاں ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال دو طرفہ مسائل کی وجہ سے بگڑتی گئی۔ ابتدا میں پالیسی سازوں نے سی پی پیز کو نظر انداز کیا، کیونکہ اس سے صنعتی شکایات میں کمی ہوئی اور معیشت کو توانائی فراہم ہوتی رہی۔ دوسری طرف، پالیسی سازوں نے بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھائی، اس توقع پر کہ طلب میں اضافہ ہوگا — لیکن چونکہ صنعتی صارفین پہلے ہی سی پی پیز پر انحصار کر رہے تھے، اس لیے وہ گرڈ سے بجلی لینے ہی نہ آئے۔ یہ صورتحال ایک خطرناک چکر میں تبدیل ہو گئی، جس نے گرڈ کے لیے مزید مسائل پیدا کیے — اور بدقسمتی سے یہی غلطیاں اب نیٹ میٹرنگ اور سولرائزیشن کے ساتھ بھی دہرائی جا رہی ہیں۔</p>
<p>اس منفی چکر کو سمجھتے ہوئے، حکومت نے کیپٹیو بجلی کی حوصلہ شکنی اور صنعتوں کو واپس قومی گرڈ پر لانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا قدم سی پی پیز کے لیے گیس کی فراہمی واپس لینا ہے۔</p>
<p>2021 سے یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ صرف وہی کیپٹیو پاور پلانٹس (سی پی پیز) جو 50 فیصد سے زیادہ استعدادِ کار رکھتے ہیں، سبسڈی والی گیس پر اپنا آپریشن جاری رکھ سکیں گے۔ مارچ 2025 تک حکومت نے سی پی پیز کے لیے گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد تک اضافہ کر دیا، اور ایک نیا گرڈ لیوی بھی عائد کیا گیا، تاکہ سی پی پیز کی بجلی پیداوار کی لاگت کو قومی گرڈ کی لاگت کے برابر لایا جا سکے۔</p>
<p>حکومت نے صنعتوں کو یہ بھی لازم قرار دیا ہے کہ وہ گرڈ سے دوہری رابطہ کاری برقرار رکھیں اور یہ ثابت کریں کہ وہ پیک اوقات میں قومی گرڈ سے بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیلف جنریشن پر سپرچارجز یا وِیلنگ چارجز لگانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، خاص طور پر اگر کسی صنعت کا گرڈ کنیکشن صرف بیک اپ کے طور پر موجود ہو۔</p>
<p>پاکستان کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداواری صلاحیت اس وقت 45,000 میگاواٹ سے زائد ہے، لیکن 2024 میں طلب شاذ و نادر ہی 30,000 میگاواٹ سے تجاوز کر پائی۔ یعنی تقریباً 15,000 میگاواٹ کی اضافی صلاحیت ایسی ہے جس کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے — صرف 2024 میں صارفین سے 2 کھرب روپے کی زائد وصولی ہوئی، جو کہ بجلی کے شعبے کے کل اخراجات کا 60 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، جن صنعتوں کے پاس بڑے سی پی پیز لگانے کی صلاحیت تھی، انہوں نے دیگر مقامی کاروباری اداروں کو غیر مسابقتی بنا دیا، اور یوں ایسی مراعات کو فروغ ملا جس کے تحت مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں سستے داموں بیچنا زیادہ فائدہ مند ہو گیا، بجائے اس کے کہ انہیں برآمد کیا جاتا۔</p>
<p>تاہم، اب بھی اکثر سی پی پیز گرڈ سے جڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ان کی بجلی کی کھپت کا انداز اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ ان کے لیے الگ سب اسٹیشنز قائم کیے جائیں — جیسا کہ نیپرا کے ضوابط میں درج ہے — اور یہ عمل بہت مہنگا پڑتا ہے۔ وولٹیج میں اتار چڑھاؤ پر تحفظات برقرار ہیں، اور پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی سی پی پیز کو گرڈ میں ضم ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادہ تر صنعتوں نے پہلے ہی اپنے سی پی پیز پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کے لیے گرڈ پر منتقلی صرف اضافی مالی بوجھ بن کر سامنے آتی ہے — کیونکہ گرڈ کنیکشن کے لیے درکار انفراسٹرکچر کی تعمیر پر 2 سے 4 ارب روپے کا خرچ آ سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم، اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان اپنی صنعتوں کو قومی گرڈ کی طرف منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لیے رابطہ کاری اور اشتراکِ عمل کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ گرڈ کی استحکام کی یقین دہانی، بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور منتقلی کے دوران سہولت کاری اس عمل کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری عوامل ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274704</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 10:19:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/16101716e9c93c9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/16101716e9c93c9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
