<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر حملے ناقابل قبول، ایس سی او ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274699/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور استحکام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد سیزفائر پر مکمل کاربند ہے اور خطے میں مستحکم توازن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔ تاہم ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ طاقت کے من مانے استعمال کو معمول بنا دیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم سمجھتے ہیں کہ تنازعات اور اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ تصادم اور دباؤ کے ذریعے۔ اس تناظر میں، ایک جامع اور باقاعدہ مکالمے کا آغاز جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے جاری امن و سلامتی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو طرفہ معاہدوں پر سختی سے عملدرآمد بھی اسی سلسلے میں نہایت اہم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خیالات کا اظہار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 15 جولائی 2025 کو چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران جنوبی ایشیا میں نہایت تشویشناک پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا، وہ بھی بغیر کسی قابلِ اعتبار تحقیق یا مصدقہ ثبوت کے — اور اس نے دونوں جوہری طاقتوں کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تناؤ کے اس ماحول میں،  اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پُرامن اور ذمہ دارانہ رویے کا جواب قانونی خلاف ورزیوں، اشتعال انگیز بیانات اور حکمت عملی کی سطح پر غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 22 اپریل 2025 سے سامنے آنے والے واقعات اس بنیادی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے دیرینہ حل طلب تنازعات کا پُرامن تصفیہ ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم میں بطور چیئرمین چین کے فعال کردار اور کثیرالطرفہ تعاون کے لیے اس کی وابستگی کو سراہتا ہے۔ امن و سلامتی کے حصول کے لیے پاکستان عدم جارحیت، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، بین الاقوامی تعلقات میں طاقت یا اس کے استعمال کی دھمکی سے گریز، اور خطے میں یکطرفہ فوجی برتری حاصل نہ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم دیرینہ تنازعات کے حل پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا حل پرامن ذرائع، مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون، انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہو۔ ہم اس رجحان پر شدید تشویش رکھتے ہیں کہ جارحیت کو پالیسی کا آلہ بنا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت اور امریکہ کی جانب سے اس کے جوہری اثاثوں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے غزہ میں عام شہریوں کے خلاف اپنی بے رحمانہ اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال سے بین الاقوامی اصولوں اور انسانیت کو بری طرح نظرانداز کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور غزہ کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ ہم اسرائیلی مظالم کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے کا واحد پائیدار حل دو ریاستی نظریہ ہے، جس کے تحت فلسطین کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک قابلِ عمل، محفوظ اور مسلسل ریاست کی حیثیت دی جائے، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع والے علاقوں کی حیثیت کو یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے ذریعے تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کی ہر سطح پر مذمت اور مخالفت کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں پائیدار امن و استحکام ہمارے مشترکہ خواب کی بنیاد ہے۔ اس ضمن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے افغانستان رابطہ گروپ کی بحالی ایک مؤثر اور نتائج پر مبنی تعاون کے لیے مفید پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے خصوصی ورکنگ گروپ کے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان غربت کے خلاف اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور استحکام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد سیزفائر پر مکمل کاربند ہے اور خطے میں مستحکم توازن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔ تاہم ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ طاقت کے من مانے استعمال کو معمول بنا دیا جائے۔</strong></p>
<p>ہم سمجھتے ہیں کہ تنازعات اور اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ تصادم اور دباؤ کے ذریعے۔ اس تناظر میں، ایک جامع اور باقاعدہ مکالمے کا آغاز جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے جاری امن و سلامتی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دو طرفہ معاہدوں پر سختی سے عملدرآمد بھی اسی سلسلے میں نہایت اہم ہوگا۔</p>
<p>ان خیالات کا اظہار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 15 جولائی 2025 کو چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران جنوبی ایشیا میں نہایت تشویشناک پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا، وہ بھی بغیر کسی قابلِ اعتبار تحقیق یا مصدقہ ثبوت کے — اور اس نے دونوں جوہری طاقتوں کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔</p>
<p>تناؤ کے اس ماحول میں،  اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پُرامن اور ذمہ دارانہ رویے کا جواب قانونی خلاف ورزیوں، اشتعال انگیز بیانات اور حکمت عملی کی سطح پر غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے دیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 22 اپریل 2025 سے سامنے آنے والے واقعات اس بنیادی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے دیرینہ حل طلب تنازعات کا پُرامن تصفیہ ناگزیر ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم میں بطور چیئرمین چین کے فعال کردار اور کثیرالطرفہ تعاون کے لیے اس کی وابستگی کو سراہتا ہے۔ امن و سلامتی کے حصول کے لیے پاکستان عدم جارحیت، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، بین الاقوامی تعلقات میں طاقت یا اس کے استعمال کی دھمکی سے گریز، اور خطے میں یکطرفہ فوجی برتری حاصل نہ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔</p>
<p>ہم دیرینہ تنازعات کے حل پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا حل پرامن ذرائع، مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون، انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہو۔ ہم اس رجحان پر شدید تشویش رکھتے ہیں کہ جارحیت کو پالیسی کا آلہ بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p>ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت اور امریکہ کی جانب سے اس کے جوہری اثاثوں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔</p>
<p>اسرائیل نے غزہ میں عام شہریوں کے خلاف اپنی بے رحمانہ اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال سے بین الاقوامی اصولوں اور انسانیت کو بری طرح نظرانداز کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور غزہ کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ ہم اسرائیلی مظالم کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے کا واحد پائیدار حل دو ریاستی نظریہ ہے، جس کے تحت فلسطین کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک قابلِ عمل، محفوظ اور مسلسل ریاست کی حیثیت دی جائے، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔</p>
<p>تنازع والے علاقوں کی حیثیت کو یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے ذریعے تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کی ہر سطح پر مذمت اور مخالفت کی جانی چاہیے۔</p>
<p>افغانستان میں پائیدار امن و استحکام ہمارے مشترکہ خواب کی بنیاد ہے۔ اس ضمن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے افغانستان رابطہ گروپ کی بحالی ایک مؤثر اور نتائج پر مبنی تعاون کے لیے مفید پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے خصوصی ورکنگ گروپ کے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان غربت کے خلاف اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل پُرعزم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274699</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jul 2025 09:24:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/160922072f050a0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/160922072f050a0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
