<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کابینہ کمیٹی کا سرکاری اداروں کی جانب سے مالی آڈٹ مکمل نہ کرنے پر اظہارِ تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274691/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس ڈویژن کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے ( سی سی او ایس او ایز) نے بعض سرکاری اداروں کی جانب سے کئی برسوں سے مالیاتی آڈٹ مکمل نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے آڈٹ کا عمل بلا تاخیر فوری طور پر شروع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق کمیٹی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھی ہدایت دی کہ وہ ان کیسز کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ اور سفارشات مقررہ وقت میں سی سی او ایس او ایز کو پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کئی برسوں سے اپنے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو فعال انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ اس کا مقصد اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، مالی بوجھ کم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ تاہم، مالی سال 2024-25 میں حکومت کسی بھی ادارے کی نجکاری کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے اوائل میں حکومت نے چار فریقین کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) میں حصہ داری کے لیے بولی دینے کی منظوری دی تھی۔ ملک قومی ایئر لائن کے دیوالیہ پن کا شکار ادارے میں 51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح کی جا سکے۔ یہ تقریباً دو دہائیوں میں پاکستان کی پہلی بڑی نجکاری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی میں شامل گروپوں میں سے ایک بڑے صنعتی کمپنیوں کا ایک کنسورشیم ہے جس میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان پچھلے سال پہلی کوشش میں پی آئی اے کی نجکاری میں ناکام رہی تھی کیونکہ صرف ایک پیشکش موصول ہوئی تھی جو مطلوبہ قیمت 300 ملین ڈالر سے بھی کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران منگل کے اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے بورڈز میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کے لیے پیش کردہ تجویز کو بھی زیر غور لایا اور منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سخت انتخابی عمل کے بعد، ہر دو بورڈز کے لیے چھ چھ آزاد ڈائریکٹرز کی منظوری دی گئی۔ پی ٹی وی سی بورڈ کے لیے منتخب ناموں میں اشتیاق بیگ، یاسر ایس قریشی، ڈاکٹر اصغر ندیم سید، تسنیم رحمان، لیلیٰ زبیری اور خالد محمود خان شامل ہیں۔ پی بی سی بورڈ کے لیے منتخب ڈائریکٹرز میں سعدیہ خان، جہانگیر خان، صدیقہ سلطان، ناصرہ عظیم خان، خان بی بی اور ندیم حیدر کیانی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ایگرو فوڈ پروسیسنگ سہولیات کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قیام کے لیے پیش کی گئی تجویز پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے 4 آزاد ڈائریکٹرز کی نامزدگی کی منظوری دی ہے جن میں  حسنین نواز خان، شاہد محمود ساہو، احسن مصطفیٰ باجوہ اور غلام جعفر جونیجو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 3 سابقہ عہدیدار ممبران بھی بورڈ میں خدمات انجام دیں گے۔ کمیٹی نے حسنین نواز خان کو بورڈ کے چیئرمین مقرر کرنے کی تجویز کی بھی تائید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کمیٹی نے وزارت بحری امور کی جانب سے پیش کردہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی پروکیورمنٹ پالیسی کا جائزہ لیا اور مزید بہتری کی ہدایات کے ساتھ اس کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس امر کو سراہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) پہلا سرکاری ادارہ ہے جس نے اپنی عملی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع خریداری پالیسی تیار کی اور اسے اپنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کے نائب صدر کا استعفیٰ، جو ذاتی وجوہات کی بنا پر 25 مارچ 2025 سے موثر ہوگا، منظور کرنے کی سمری کی بھی منظوری دے دی۔ مذکورہ عہدے دار کو مئی 2024 میں وفاقی کابینہ نے تعینات کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی سفارش پر نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ارکان کی تقرری کی تجویز بھی منظور کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق کمیٹی نے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کی طرف سے پیش کردہ تجویز کا جائزہ لے کر منظوری دی، جس کے تحت ایس پی ڈی سے متعلق اداروں کو وزارتِ خزانہ کی مشترکہ رپورٹنگ کی شرائط سے خارج کر دیا گیا ہے اور انہیں 2023 کے سرکاری اداروں سے متعلق قانون اور پالیسی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ان اداروں کی حساس اور سیکورٹی سے متعلق نوعیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانس ڈویژن کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے ( سی سی او ایس او ایز) نے بعض سرکاری اداروں کی جانب سے کئی برسوں سے مالیاتی آڈٹ مکمل نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے آڈٹ کا عمل بلا تاخیر فوری طور پر شروع کریں۔</p>
<p>بیان کے مطابق کمیٹی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھی ہدایت دی کہ وہ ان کیسز کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ اور سفارشات مقررہ وقت میں سی سی او ایس او ایز کو پیش کرے۔</p>
<p>پاکستان کئی برسوں سے اپنے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو فعال انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ اس کا مقصد اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، مالی بوجھ کم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ تاہم، مالی سال 2024-25 میں حکومت کسی بھی ادارے کی نجکاری کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔</p>
<p>اس ماہ کے اوائل میں حکومت نے چار فریقین کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) میں حصہ داری کے لیے بولی دینے کی منظوری دی تھی۔ ملک قومی ایئر لائن کے دیوالیہ پن کا شکار ادارے میں 51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح کی جا سکے۔ یہ تقریباً دو دہائیوں میں پاکستان کی پہلی بڑی نجکاری ہوگی۔</p>
<p>بولی میں شامل گروپوں میں سے ایک بڑے صنعتی کمپنیوں کا ایک کنسورشیم ہے جس میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان پچھلے سال پہلی کوشش میں پی آئی اے کی نجکاری میں ناکام رہی تھی کیونکہ صرف ایک پیشکش موصول ہوئی تھی جو مطلوبہ قیمت 300 ملین ڈالر سے بھی کم تھی۔</p>
<p>اسی دوران منگل کے اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے بورڈز میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کے لیے پیش کردہ تجویز کو بھی زیر غور لایا اور منظوری دی گئی۔</p>
<p>سخت انتخابی عمل کے بعد، ہر دو بورڈز کے لیے چھ چھ آزاد ڈائریکٹرز کی منظوری دی گئی۔ پی ٹی وی سی بورڈ کے لیے منتخب ناموں میں اشتیاق بیگ، یاسر ایس قریشی، ڈاکٹر اصغر ندیم سید، تسنیم رحمان، لیلیٰ زبیری اور خالد محمود خان شامل ہیں۔ پی بی سی بورڈ کے لیے منتخب ڈائریکٹرز میں سعدیہ خان، جہانگیر خان، صدیقہ سلطان، ناصرہ عظیم خان، خان بی بی اور ندیم حیدر کیانی شامل ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ایگرو فوڈ پروسیسنگ سہولیات کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قیام کے لیے پیش کی گئی تجویز پر بھی غور کیا۔</p>
<p>کمیٹی نے 4 آزاد ڈائریکٹرز کی نامزدگی کی منظوری دی ہے جن میں  حسنین نواز خان، شاہد محمود ساہو، احسن مصطفیٰ باجوہ اور غلام جعفر جونیجو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 3 سابقہ عہدیدار ممبران بھی بورڈ میں خدمات انجام دیں گے۔ کمیٹی نے حسنین نواز خان کو بورڈ کے چیئرمین مقرر کرنے کی تجویز کی بھی تائید کی۔</p>
<p>کابینہ کمیٹی نے وزارت بحری امور کی جانب سے پیش کردہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی پروکیورمنٹ پالیسی کا جائزہ لیا اور مزید بہتری کی ہدایات کے ساتھ اس کی منظوری دی۔</p>
<p>کمیٹی نے اس امر کو سراہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) پہلا سرکاری ادارہ ہے جس نے اپنی عملی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع خریداری پالیسی تیار کی اور اسے اپنایا۔</p>
<p>کمیٹی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کے نائب صدر کا استعفیٰ، جو ذاتی وجوہات کی بنا پر 25 مارچ 2025 سے موثر ہوگا، منظور کرنے کی سمری کی بھی منظوری دے دی۔ مذکورہ عہدے دار کو مئی 2024 میں وفاقی کابینہ نے تعینات کیا تھا۔</p>
<p>کمیٹی نے وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی سفارش پر نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ارکان کی تقرری کی تجویز بھی منظور کر لی۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق کمیٹی نے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کی طرف سے پیش کردہ تجویز کا جائزہ لے کر منظوری دی، جس کے تحت ایس پی ڈی سے متعلق اداروں کو وزارتِ خزانہ کی مشترکہ رپورٹنگ کی شرائط سے خارج کر دیا گیا ہے اور انہیں 2023 کے سرکاری اداروں سے متعلق قانون اور پالیسی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ان اداروں کی حساس اور سیکورٹی سے متعلق نوعیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274691</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Jul 2025 22:51:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/15221224bbb1c74.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1066" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/15221224bbb1c74.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
