<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈبلیو ٹی او: بقاء کی جدوجہد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274636/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی موجودہ دور میں افادیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو کہ 1995 میں قائم کی گئی تھی۔ یہ سوالات خاص طور پر اُس وقت سے بڑھ گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے اُن تمام ممالک پر بھاری ٹیرف (محصولات) عائد کیے جن کے ساتھ امریکہ تجارت کرتا ہے، اگرچہ کچھ ممالک کو عارضی ریلیف (استثنیٰ) دے دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ٹی او کی ویب سائٹ اس کے مقاصد کی وضاحت یوں کرتی ہے کہ یہ “عالمی تجارتی قواعد کے نظام کو چلاتی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو اپنی تجارتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اپنے رکن ممالک کو تجارتی معاہدوں پر گفت و شنید کرنے اور باہمی تجارتی مسائل حل کرنے کے لیے ایک فورم بھی فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ٹی او کا مجموعی مقصد یہ ہے کہ اپنے رکن ممالک کو تجارت کے ذریعے عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں مدد دے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کے نقطہ نظر سے ان بلند بانگ دعوؤں کو تین نمایاں چیلنجز درپیش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا چیلنج یہ ہے کہ وہ تجارتی قواعد، جو یک قطبی دنیا کے دوران بنائے گئے تھے، آج کے دور میں غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں، وہ دور جب عالمی سوچ رکھنے والے ممالک (گلوبلسٹس) غالب تھے اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی حمایت کرتے تھے۔ ( یہ مقصد اب واضح طور پر امریکہ اور یورپی ممالک نے ترک کر دیا ہے، جنہوں نے اپنے بارڈرز بند کر لیے ہیں، خاص طور پر اس بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کے بعد، جن میں سے ایک بڑی تعداد ان ممالک سے ہے جہاں مغربی سیاسی مداخلت کی وجہ سے خانہ جنگیاں شروع ہوئیں۔) اس کے علاوہ اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دیا گیا، جس کا نقصان یہ ہوا کہ غریب ممالک، جو کثیر فریقی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں، شدید ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کے باوجود درآمدی پابندیاں نرم کرنے پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مثال لیتے ہوئے، مئی 2025 میں جاری کردہ جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (طویل المدتی مالی امدادی پروگرام) پروگرام کے پہلے جائزے کی اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت میں پاکستان نے وعدہ کیا کہ ”اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ یا عارضی مالی امدادی پروگرام (جولائی 2023 سے فروری 2024 کے انتخابات کے بعد تک نو ماہ جاری رہنے والے پروگرام) کے دوران درآمدی ادائیگیوں پر مداخلت آمیز پابندیاں ختم کرنے کی ہماری کوششوں کو بنیاد بنا کر، ہم ایک ایسا تبادلہ نظام برقرار رکھیں گے جو موجودہ بین الاقوامی لین دین کے لیے ادائیگیوں اور رقوم کی منتقلی پر کسی قسم کی پابندی سے پاک ہو اور ہمارے وعدوں کے مطابق ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مداخلت پر مبنی ان پابندیوں کو ختم کرنا آئی ایم ایف کی شرط تھی، جس کے نتیجے میں 2025 میں پاکستان کا درآمدی بل گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4 ارب ڈالر زیادہ ہو گیا، جو ماضی میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران کی ابتدا کا پیش خیمہ رہا ہے۔ تاہم، ان پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان کو دیگر کثیرالجہتی اور دو طرفہ ذرائع (جس میں تین دوست ممالک کی طرف سے 16 ارب ڈالر کے قرضوں کی تجدید بھی شامل ہے) سے مالی وسائل تک رسائی ممکن ہوئی، جو ممکنہ ڈیفالٹ ( بروقت قرض کی ادائیگی نہ کرنے) کے خطرے کو ٹالنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ٹی او کا مقصد کہ رکن ممالک کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جائے، کسی ٹھوس تجرباتی ثبوت سے ثابت نہیں ہوتا۔ درحقیقت عالمی مالیاتی اداروں کے درمیان نافذ کی جانے والی ہم آہنگی کی پالیسیاں اکثر یہ شرط رکھتی ہیں کہ قرض کی منظوری کے لیے محصولات (ٹیرف) اور غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ ترقی پذیر ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) کی جانب سے آزاد تجارت کے بجائے منصفانہ تجارت کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز کو عالمی سطح پر کبھی سنجیدہ پذیرائی نہیں ملی، ایسی آواز جو اب ٹرمپ انتظامیہ نے اٹھائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے قواعد شاذ و نادر ہی ترقی پذیر ممالک کی تجارتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ تجارتی خسارے کی بڑی ذمہ داری ناقص حکومتی فیصلوں/پالیسیوں اور عالمی اقتصادی ماحول پر عائد ہوتی ہے۔ اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی حکومت کو بغیر کسی مبہم بات کے آگاہ کیا:
”قیمتوں کے تعین میں مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی، اور گیس (ہر چھ ماہ بعد) شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور غیر محصولاتی تحفظات نے مخصوص گروپوں یا شعبوں کے حق میں میدان کو ناانصافی سے جھکا دیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام اس تعاون کے باوجود، کاروباری شعبہ ترقی کی رفتار کو بڑھانے میں ناکام رہا، اور حوصلہ افزائیوں نے آخرکار مقابلے کو کمزور کیا اور وسائل کو دائمی غیر مؤثر (جن میں ہمیشہ ’ابتدائی‘ صنعتیں بھی شامل ہیں) شعبوں میں پھنسایا۔ گندم کی سبسڈی یا رعایتی قیمت نے کسانوں کو مناسب منافع اور عوام کو مناسب نرخوں پر گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا تھا؛ تاہم آئی ایم ایف کے دباؤ میں اس پالیسی کو ترک کرنے کے بعد، آٹے کی قیمت میں تیزی سے کمی آئی اور جیسا کہ خدشہ تھا، کسان زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف توجہ دینے لگے، جس کی وجہ سے آئندہ موسم میں گندم کی کمی متوقع ہے جو بالآخر درآمدات کی ضرورت کو بڑھائے گی اور تجارتی خسارے کو وسعت دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ بات آئی ایم ایف کی ناقص منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہے مگر حکومت کی جانب سے اس مسئلے کو فنڈ کے سامنے واضح نہ کرنا تشویشناک ہے۔ اس کے علاوہ توقع کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت محض اضافی پیداوار برآمد کرنے پر انحصار نہ کرے بلکہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ڈبلیو ٹی او تجارتی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک فورم فراہم کرتا ہے۔ ڈبلیو ٹی او کا تجارتی تنازعات حل کرنے والا ادارہ تنازع حل کرنے والے پینلز قائم کرنے، معاملات کو ثالثی کے لیے بھیجنے یا پینل اپنانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر تنازع کے ایک فریق نے اپیل دائر کی تو پینلز کے فیصلے قانونی طور پر پابندی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
سات رکنی اپیل کا ادارہ (اپیلٹ باڈی یا اے بی) اپیلیں سنتا ہے اور پینل کے قانونی نتائج اور فیصلوں کو برقرار رکھ سکتا ہے، تبدیل کر سکتا ہے یا واپس کر سکتا ہے۔ یہ ادارہ 11 دسمبر 2019 سے غیر فعال ہے کیونکہ اپیل کے فیصلے کرنے کے لیے درکار تین ججز میں سے دو کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے ججز کی تعیناتی روک دی ہے اور اسے ”عدالتی حد سے تجاوز“ (جوڈیشل اوور ریچ) قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے اور دلیل دی ہے کہ یہ نظام قانون دانوں اور عدالتی سرگرمیوں (جوڈیشل ایکٹوازم ) کے زیر اثر ہے، نہ کہ تجارتی پالیسی ماہرین کے کنٹرول میں۔ صرف تب ہی تنازع حل کرنے کا عمل مکمل ہو سکتا ہے جب دونوں فریق اپیل نہ کریں اور ثالثی کے ذریعے اپیل کے عمل پر اتفاق کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 اپریل 2020 سے، یورپی یونین اور 15 دیگر ممالک کی حمایت سے ”ملٹی پارٹی انٹرن ایم اپیل ارینجمنٹ“ (ایم پی آئی اے) کام کر رہا ہے، یہ ڈبلیو ٹی او کے اپیل ادارے (اپیلٹ باڈی) کے غیر فعال ہونے کی صورت میں ایک وقتی حل ہے جو شرکاء کو ڈبلیو ٹی او کے تنازعات حل کرنے کے نظام میں اپیل کے عمل سے فائدہ اٹھانے کی سہولت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی آئی اے کو ہر کیس میں شرکت کرنے والے فریقین کی طرف سے الگ الگ فعال کرنا ہوتا ہے۔ ایم پی آئی اے کے 29 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، البتہ چین کے علاوہ کوئی اور علاقائی ملک رکن نہیں ہے اور نہ ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے اب تک ایم پی آئی اے کو فعال نہیں کیا، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے رکن بننے کا انتخاب کیوں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ بار بار آخری تاریخ میں تاخیر کر رہے ہیں تاکہ انفرادی ممالک کے ساتھ معاہدہ کیا جا سکے، ایک ایسی حکمت عملی جو اب افراتفری پھیلا رہی ہے، اس کے باوجود ڈبلیو ٹی او نے کہا ہے کہ ”اس سال مال کی تجارت کا حجم 0.2 فیصد کم ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر شمالی امریکہ میں جہاں برآمدات میں 12.6 فیصد کی بڑی کمی متوقع ہے جبکہ باہمی محصولات کے نفاذ سے عالمی تجارت میں 1.5 فیصد تک گراوٹ کا شدید خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ خدمات کی تجارت میں 4 فیصد اضافہ کی پیش گوئی کی گئی ہے جو توقع سے ایک فیصد کم ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے آئی ایم ایف نے 17 مئی کو شائع کی گئی اپنی پہلی جائزہ دستاویزات میں نوٹ کیا کہ “2 اپریل 2025 کو، امریکہ نے مخصوص ممالک پر محصولات میں بڑے اضافے کا اعلان کیا، جس میں پاکستان پر 29 فیصد محصول شامل ہے۔ اگرچہ پاکستان کا برآمداتی شعبہ نسبتاً چھوٹا ہے (جی ڈی پی کا 10 فیصد)، امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس تجارت میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کچھ محصولات (ٹیرف) مذاکرات کے بعد تبدیل ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان کی برآمدات کے ان شعبوں میں موجود بہت سے حریف ممالک اس وقت بھی بھاری محصولات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں بنگلہ دیش (37 فیصد)، چین (145 فیصد)، بھارت (26 فیصد)، اور ویتنام (46 فیصد) شامل ہیں۔ اگرچہ معیشت پر حتمی اثرات کے بارے میں خاصا غیر یقینی پن موجود ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ محصولات اور اس کے بعد مالیاتی منڈیوں کا ردعمل پاکستان کی برآمدات اور جی ڈی پی پر دباؤ ڈالے گا۔ مالی سال 2024-25 (جس کا ایک چوتھائی حصہ باقی رہ گیا ہے) میں شرحِ نمو میں معمولی کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹس کمی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کو براہِ راست برآمدات پر اثرات کے علاوہ پاکستان کو بالواسطہ اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، جن میں پاکستان کے دیگر تجارتی شراکت داروں کی معیشتوں پر محصولات کے اثرات، عالمی مالیاتی حالات کی سختی، ممکنہ طور پر کم تر ترسیلات زر اور تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) پر خالص اثر نسبتاً معتدل رہنے کی توقع ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی سے پاکستان کے درآمدی بل میں کمی آئے گی۔ 2 اپریل کے بعد سے پاکستان کے خودمختار بانڈز پر سود کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن قلیل مدت میں بیرونی مالیاتی رسائی پہلے ہی محدود ہے، اس لیے فوری اثرات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، اگر زرمبادلہ کے انخلاء کا دباؤ شدت اختیار کرے، تو یہ نہایت ضروری ہوگا کہ روپے کی قدر کو آزادانہ طور پر ایڈجسٹ ہونے دیا جائے۔ مہنگائی پر بھی خالص اثر نسبتاً ہلکا متوقع ہے، کیونکہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی اور کمزور اقتصادی نمو سے کچھ نیچے کی جانب دباؤ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ٹی او کا سالانہ بجٹ 232 ملین ڈالر ہے، جو اس کے 166 رکن ممالک کے درمیان گزشتہ سال کی عالمی تجارت میں ان کے حصے کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے ذمے ادا کی جانے والی رقم بہت معمولی ہے۔ تاہم اس کے باوجود، عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان کے لیے افادیت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا نہایت اہم ہے — خاص طور پر اس وقت جب ڈبلیو ٹی او کا بنیادی کردار یعنی تنازعات کا حل 2019 سے، یعنی گزشتہ چھ سال سے، عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ڈبلیو ٹی او اپیل ادارے کے اراکین کی تعیناتی کے طریقہ کار یا اس میں ترامیم لانے میں بے بس ہے، یا اگر وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مؤثر طور پر بات چیت کر کے محصولات کے بارے میں پیدا ہونے والی عالمی بے چینی کو کم نہیں کر سکتا، تو وقت آ گیا ہے کہ اس ادارے کے باضابطہ خاتمے پر غور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی موجودہ دور میں افادیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو کہ 1995 میں قائم کی گئی تھی۔ یہ سوالات خاص طور پر اُس وقت سے بڑھ گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے اُن تمام ممالک پر بھاری ٹیرف (محصولات) عائد کیے جن کے ساتھ امریکہ تجارت کرتا ہے، اگرچہ کچھ ممالک کو عارضی ریلیف (استثنیٰ) دے دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ڈبلیو ٹی او کی ویب سائٹ اس کے مقاصد کی وضاحت یوں کرتی ہے کہ یہ “عالمی تجارتی قواعد کے نظام کو چلاتی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو اپنی تجارتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اپنے رکن ممالک کو تجارتی معاہدوں پر گفت و شنید کرنے اور باہمی تجارتی مسائل حل کرنے کے لیے ایک فورم بھی فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ٹی او کا مجموعی مقصد یہ ہے کہ اپنے رکن ممالک کو تجارت کے ذریعے عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں مدد دے۔“</p>
<p>تاہم ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کے نقطہ نظر سے ان بلند بانگ دعوؤں کو تین نمایاں چیلنجز درپیش ہیں۔</p>
<p>پہلا چیلنج یہ ہے کہ وہ تجارتی قواعد، جو یک قطبی دنیا کے دوران بنائے گئے تھے، آج کے دور میں غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں، وہ دور جب عالمی سوچ رکھنے والے ممالک (گلوبلسٹس) غالب تھے اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی حمایت کرتے تھے۔ ( یہ مقصد اب واضح طور پر امریکہ اور یورپی ممالک نے ترک کر دیا ہے، جنہوں نے اپنے بارڈرز بند کر لیے ہیں، خاص طور پر اس بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کے بعد، جن میں سے ایک بڑی تعداد ان ممالک سے ہے جہاں مغربی سیاسی مداخلت کی وجہ سے خانہ جنگیاں شروع ہوئیں۔) اس کے علاوہ اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دیا گیا، جس کا نقصان یہ ہوا کہ غریب ممالک، جو کثیر فریقی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں، شدید ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کے باوجود درآمدی پابندیاں نرم کرنے پر مجبور ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کی مثال لیتے ہوئے، مئی 2025 میں جاری کردہ جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (طویل المدتی مالی امدادی پروگرام) پروگرام کے پہلے جائزے کی اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت میں پاکستان نے وعدہ کیا کہ ”اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ یا عارضی مالی امدادی پروگرام (جولائی 2023 سے فروری 2024 کے انتخابات کے بعد تک نو ماہ جاری رہنے والے پروگرام) کے دوران درآمدی ادائیگیوں پر مداخلت آمیز پابندیاں ختم کرنے کی ہماری کوششوں کو بنیاد بنا کر، ہم ایک ایسا تبادلہ نظام برقرار رکھیں گے جو موجودہ بین الاقوامی لین دین کے لیے ادائیگیوں اور رقوم کی منتقلی پر کسی قسم کی پابندی سے پاک ہو اور ہمارے وعدوں کے مطابق ہو۔“</p>
<p>مداخلت پر مبنی ان پابندیوں کو ختم کرنا آئی ایم ایف کی شرط تھی، جس کے نتیجے میں 2025 میں پاکستان کا درآمدی بل گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4 ارب ڈالر زیادہ ہو گیا، جو ماضی میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران کی ابتدا کا پیش خیمہ رہا ہے۔ تاہم، ان پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان کو دیگر کثیرالجہتی اور دو طرفہ ذرائع (جس میں تین دوست ممالک کی طرف سے 16 ارب ڈالر کے قرضوں کی تجدید بھی شامل ہے) سے مالی وسائل تک رسائی ممکن ہوئی، جو ممکنہ ڈیفالٹ ( بروقت قرض کی ادائیگی نہ کرنے) کے خطرے کو ٹالنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ڈبلیو ٹی او کا مقصد کہ رکن ممالک کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جائے، کسی ٹھوس تجرباتی ثبوت سے ثابت نہیں ہوتا۔ درحقیقت عالمی مالیاتی اداروں کے درمیان نافذ کی جانے والی ہم آہنگی کی پالیسیاں اکثر یہ شرط رکھتی ہیں کہ قرض کی منظوری کے لیے محصولات (ٹیرف) اور غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ ترقی پذیر ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) کی جانب سے آزاد تجارت کے بجائے منصفانہ تجارت کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز کو عالمی سطح پر کبھی سنجیدہ پذیرائی نہیں ملی، ایسی آواز جو اب ٹرمپ انتظامیہ نے اٹھائی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے قواعد شاذ و نادر ہی ترقی پذیر ممالک کی تجارتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ تجارتی خسارے کی بڑی ذمہ داری ناقص حکومتی فیصلوں/پالیسیوں اور عالمی اقتصادی ماحول پر عائد ہوتی ہے۔ اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی حکومت کو بغیر کسی مبہم بات کے آگاہ کیا:
”قیمتوں کے تعین میں مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی، اور گیس (ہر چھ ماہ بعد) شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور غیر محصولاتی تحفظات نے مخصوص گروپوں یا شعبوں کے حق میں میدان کو ناانصافی سے جھکا دیا ہے۔“</p>
<p>تمام اس تعاون کے باوجود، کاروباری شعبہ ترقی کی رفتار کو بڑھانے میں ناکام رہا، اور حوصلہ افزائیوں نے آخرکار مقابلے کو کمزور کیا اور وسائل کو دائمی غیر مؤثر (جن میں ہمیشہ ’ابتدائی‘ صنعتیں بھی شامل ہیں) شعبوں میں پھنسایا۔ گندم کی سبسڈی یا رعایتی قیمت نے کسانوں کو مناسب منافع اور عوام کو مناسب نرخوں پر گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا تھا؛ تاہم آئی ایم ایف کے دباؤ میں اس پالیسی کو ترک کرنے کے بعد، آٹے کی قیمت میں تیزی سے کمی آئی اور جیسا کہ خدشہ تھا، کسان زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف توجہ دینے لگے، جس کی وجہ سے آئندہ موسم میں گندم کی کمی متوقع ہے جو بالآخر درآمدات کی ضرورت کو بڑھائے گی اور تجارتی خسارے کو وسعت دے گی۔</p>
<p>اگرچہ یہ بات آئی ایم ایف کی ناقص منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہے مگر حکومت کی جانب سے اس مسئلے کو فنڈ کے سامنے واضح نہ کرنا تشویشناک ہے۔ اس کے علاوہ توقع کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت محض اضافی پیداوار برآمد کرنے پر انحصار نہ کرے بلکہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرے۔</p>
<p>آخر میں ڈبلیو ٹی او تجارتی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک فورم فراہم کرتا ہے۔ ڈبلیو ٹی او کا تجارتی تنازعات حل کرنے والا ادارہ تنازع حل کرنے والے پینلز قائم کرنے، معاملات کو ثالثی کے لیے بھیجنے یا پینل اپنانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر تنازع کے ایک فریق نے اپیل دائر کی تو پینلز کے فیصلے قانونی طور پر پابندی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
سات رکنی اپیل کا ادارہ (اپیلٹ باڈی یا اے بی) اپیلیں سنتا ہے اور پینل کے قانونی نتائج اور فیصلوں کو برقرار رکھ سکتا ہے، تبدیل کر سکتا ہے یا واپس کر سکتا ہے۔ یہ ادارہ 11 دسمبر 2019 سے غیر فعال ہے کیونکہ اپیل کے فیصلے کرنے کے لیے درکار تین ججز میں سے دو کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>امریکہ نے ججز کی تعیناتی روک دی ہے اور اسے ”عدالتی حد سے تجاوز“ (جوڈیشل اوور ریچ) قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے اور دلیل دی ہے کہ یہ نظام قانون دانوں اور عدالتی سرگرمیوں (جوڈیشل ایکٹوازم ) کے زیر اثر ہے، نہ کہ تجارتی پالیسی ماہرین کے کنٹرول میں۔ صرف تب ہی تنازع حل کرنے کا عمل مکمل ہو سکتا ہے جب دونوں فریق اپیل نہ کریں اور ثالثی کے ذریعے اپیل کے عمل پر اتفاق کریں۔</p>
<p>30 اپریل 2020 سے، یورپی یونین اور 15 دیگر ممالک کی حمایت سے ”ملٹی پارٹی انٹرن ایم اپیل ارینجمنٹ“ (ایم پی آئی اے) کام کر رہا ہے، یہ ڈبلیو ٹی او کے اپیل ادارے (اپیلٹ باڈی) کے غیر فعال ہونے کی صورت میں ایک وقتی حل ہے جو شرکاء کو ڈبلیو ٹی او کے تنازعات حل کرنے کے نظام میں اپیل کے عمل سے فائدہ اٹھانے کی سہولت دیتا ہے۔</p>
<p>ایم پی آئی اے کو ہر کیس میں شرکت کرنے والے فریقین کی طرف سے الگ الگ فعال کرنا ہوتا ہے۔ ایم پی آئی اے کے 29 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، البتہ چین کے علاوہ کوئی اور علاقائی ملک رکن نہیں ہے اور نہ ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے اب تک ایم پی آئی اے کو فعال نہیں کیا، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے رکن بننے کا انتخاب کیوں کیا۔</p>
<p>اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ بار بار آخری تاریخ میں تاخیر کر رہے ہیں تاکہ انفرادی ممالک کے ساتھ معاہدہ کیا جا سکے، ایک ایسی حکمت عملی جو اب افراتفری پھیلا رہی ہے، اس کے باوجود ڈبلیو ٹی او نے کہا ہے کہ ”اس سال مال کی تجارت کا حجم 0.2 فیصد کم ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر شمالی امریکہ میں جہاں برآمدات میں 12.6 فیصد کی بڑی کمی متوقع ہے جبکہ باہمی محصولات کے نفاذ سے عالمی تجارت میں 1.5 فیصد تک گراوٹ کا شدید خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ خدمات کی تجارت میں 4 فیصد اضافہ کی پیش گوئی کی گئی ہے جو توقع سے ایک فیصد کم ہے۔“</p>
<p>پاکستان کے لیے آئی ایم ایف نے 17 مئی کو شائع کی گئی اپنی پہلی جائزہ دستاویزات میں نوٹ کیا کہ “2 اپریل 2025 کو، امریکہ نے مخصوص ممالک پر محصولات میں بڑے اضافے کا اعلان کیا، جس میں پاکستان پر 29 فیصد محصول شامل ہے۔ اگرچہ پاکستان کا برآمداتی شعبہ نسبتاً چھوٹا ہے (جی ڈی پی کا 10 فیصد)، امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس تجارت میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ کچھ محصولات (ٹیرف) مذاکرات کے بعد تبدیل ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان کی برآمدات کے ان شعبوں میں موجود بہت سے حریف ممالک اس وقت بھی بھاری محصولات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں بنگلہ دیش (37 فیصد)، چین (145 فیصد)، بھارت (26 فیصد)، اور ویتنام (46 فیصد) شامل ہیں۔ اگرچہ معیشت پر حتمی اثرات کے بارے میں خاصا غیر یقینی پن موجود ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ محصولات اور اس کے بعد مالیاتی منڈیوں کا ردعمل پاکستان کی برآمدات اور جی ڈی پی پر دباؤ ڈالے گا۔ مالی سال 2024-25 (جس کا ایک چوتھائی حصہ باقی رہ گیا ہے) میں شرحِ نمو میں معمولی کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹس کمی متوقع ہے۔</p>
<p>امریکہ کو براہِ راست برآمدات پر اثرات کے علاوہ پاکستان کو بالواسطہ اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، جن میں پاکستان کے دیگر تجارتی شراکت داروں کی معیشتوں پر محصولات کے اثرات، عالمی مالیاتی حالات کی سختی، ممکنہ طور پر کم تر ترسیلات زر اور تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔</p>
<p>ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) پر خالص اثر نسبتاً معتدل رہنے کی توقع ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی سے پاکستان کے درآمدی بل میں کمی آئے گی۔ 2 اپریل کے بعد سے پاکستان کے خودمختار بانڈز پر سود کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن قلیل مدت میں بیرونی مالیاتی رسائی پہلے ہی محدود ہے، اس لیے فوری اثرات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، اگر زرمبادلہ کے انخلاء کا دباؤ شدت اختیار کرے، تو یہ نہایت ضروری ہوگا کہ روپے کی قدر کو آزادانہ طور پر ایڈجسٹ ہونے دیا جائے۔ مہنگائی پر بھی خالص اثر نسبتاً ہلکا متوقع ہے، کیونکہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی اور کمزور اقتصادی نمو سے کچھ نیچے کی جانب دباؤ پڑے گا۔</p>
<p>ڈبلیو ٹی او کا سالانہ بجٹ 232 ملین ڈالر ہے، جو اس کے 166 رکن ممالک کے درمیان گزشتہ سال کی عالمی تجارت میں ان کے حصے کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے ذمے ادا کی جانے والی رقم بہت معمولی ہے۔ تاہم اس کے باوجود، عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان کے لیے افادیت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا نہایت اہم ہے — خاص طور پر اس وقت جب ڈبلیو ٹی او کا بنیادی کردار یعنی تنازعات کا حل 2019 سے، یعنی گزشتہ چھ سال سے، عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔</p>
<p>اگر ڈبلیو ٹی او اپیل ادارے کے اراکین کی تعیناتی کے طریقہ کار یا اس میں ترامیم لانے میں بے بس ہے، یا اگر وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مؤثر طور پر بات چیت کر کے محصولات کے بارے میں پیدا ہونے والی عالمی بے چینی کو کم نہیں کر سکتا، تو وقت آ گیا ہے کہ اس ادارے کے باضابطہ خاتمے پر غور کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274636</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Jul 2025 16:43:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/14154011cbe4476.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/14154011cbe4476.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
