<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر پر انحصار کتنا محفوظ؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274614/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں ترسیلاتِ زر کو سب سے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ مالی سال 2025 میں یہ ترسیلات 27 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — جو کہ اشیاء و خدمات کی مجموعی برآمدات سے بھی زیادہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تیز رفتار اضافے میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا، جن میں رسمی ذرائع سے ترسیلات کی آمد میں اضافہ اور فری لانس آمدنی میں اضافہ شامل ہے، جو بڑی حد تک ترسیلات کے زمرے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب سے بھیجی گئی رقوم سب سے زیادہ تھیں، جو 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — یعنی کل ترسیلات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ۔ 2011 سے 2024 کے دوران، کل 44 لاکھ پاکستانی مزدور سعودی عرب گئے، جب کہ 28 لاکھ افراد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) گئے تاکہ بہتر روزگار اور معاشی مواقع حاصل کیے جا سکیں۔ صرف 2024 میں، 7 لاکھ 27 ہزار افراد بیرونِ ملک گئے، جن میں سے صرف 30 ہزار افراد اعلیٰ مہارت یافتہ تھے جبکہ 3 لاکھ 66 ہزار غیر ہنر مند تھے۔ یہ ورکر مکس 2011 سے تقریباً ایک جیسا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471b12830e.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 میں ہجرت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی جب 9 لاکھ 47 ہزار مزدور بیرونِ ملک گئے۔ کووِڈ-19 کے سالوں میں اس میں نمایاں کمی آئی، اور 2020 و 2021 میں بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد 3 لاکھ سے بھی کم رہی۔ اگلے دو سالوں میں یہ تعداد دوبارہ 8 لاکھ سے تجاوز کر گئی، اور پھر 2024 میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر میں تیزی سے اضافے کا تعلق بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے سے نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، مالی سال 2021 اور 2022 میں ترسیلات کی آمد 2023 سے زیادہ تھی، حالانکہ 2023 اور 2024 میں زیادہ افراد بیرونِ ملک گئے۔ مالی سال 2023 میں کاروباری ماحول انتہائی مایوس کن رہا، اور بہت سے صاحبِ حیثیت افراد نے رقوم بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے غیر رسمی ذرائع جیسے کہ حوالہ / ہنڈی کا سہارا لیا، جو کہ ماضی میں ترسیلات کے ذریعے شمار ہوتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471b5f0c34.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیوں اور معاشی استحکام کے باعث یہ رجحان الٹ گیا، جس کے نتیجے میں رسمی ذرائع سے رقوم کی منتقلی میں اضافہ ہوا۔ ایک اور اہم پیش رفت یہ رہی کہ اندرونِ ملک کام کرنے والے بہت سے افراد نے بیرونِ ملک سے آمدنی حاصل کرنا شروع کی، جو اب ترسیلاتِ زر کے طور پر رجسٹر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر کی نمو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اور اگر مالی سال 2026 میں یہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ 42 ارب ڈالر تک بھی پہنچ جائے، تو یہ بڑی کامیابی ہو گی۔
اگر منزل کے اعتبار سے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے تو کئی دلچسپ پہلو سامنے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471b8825bb.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2011 سے 2014 کے دوران، یو اے ای (2011 میں 1 لاکھ 56 ہزار سے بڑھ کر 2014 میں 3 لاکھ 50 ہزار) اور سعودی عرب (2 لاکھ 27 ہزار سے بڑھ کر 5 لاکھ 23 ہزار) جانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد دونوں ممالک میں کم تیل کی قیمتوں (2015 تا 2017 میں اوسطاً 50 ڈالر فی بیرل) کے باعث یہ رجحان کم ہوا۔ 2018 کے بعد، کووِڈ کے سالوں کے علاوہ، تیل کی قیمتوں میں بہتری کے ساتھ بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد دوبارہ بڑھنے لگی — 2023 میں سعودی عرب جانے والے 4 لاکھ 27 ہزار اور یو اے ای جانے والے 2 لاکھ 30 ہزار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 میں سعودی عرب جانے والوں کی تعداد مزید بڑھ کر 4 لاکھ 52 ہزار ہو گئی، جبکہ یو اے ای جانے والوں کی تعداد صرف 65 ہزار رہ گئی — جو 2011 کے بعد (کووِڈ کے سالوں کو چھوڑ کر) سب سے کم ہے۔ یہ صورتحال یو اے ای کی جانب سے پاکستانی مزدوروں اور سیاحوں کو ویزا جاری کرنے میں کمی سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس دوران، عمان ایک ابھرتی ہوئی منزل کے طور پر سامنے آیا، جہاں 2024 میں 82 ہزار افراد ہجرت کر کے گئے — جو یو اے ای جانے والوں سے زیادہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471c273ee1.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور حیران کن اور بظاہر الٹا رجحان یہ ہے کہ یو اے ای سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں ملک وار سب سے زیادہ اضافہ ہوا — مالی سال 2024 میں 41 فیصد بڑھ کر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — حالانکہ وہاں جانے والے مزدوروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای سے آنے والی ترسیلات صرف روایتی مزدوروں پر مبنی نہیں ہیں۔ غالب امکان ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی کمپنیاں اور پیشہ ور افراد، جن کی رجسٹریشن یو اے ای میں ہے، رقوم واپس بھیج رہے ہیں، جو گھریلو ترسیلات کے طور پر درج ہو رہی ہیں۔ مزید برآں، منی لانڈرنگ کے خاتمے — جو ماضی میں اکثر یو اے ای میں قانونی شکل اختیار کرتی تھی — نے رسمی ذرائع سے ترسیلات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان ترسیلاتِ زر پر انحصار برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو اسے امید رکھنی چاہیے کہ تیل کی قیمتیں 50 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں اور یو اے ای کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مزید ورک ویزے حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم، بہت سے ماہرین معیشت ترسیلاتِ زر پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکنامک ایڈوائزری گروپ (ای اے جی) سے تعلق رکھنے والے احمد جمال پیرزادہ ترسیلات کو ”ڈچ بیماری کے ساتھ لائف لائن“ قرار دیتے ہیں۔ ان کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن اضلاع میں ترسیلات کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے، وہاں لیبر فورس کا بڑا حصہ تعمیراتی شعبے میں ہوتا ہے جبکہ صنعتی شعبے میں کم۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ ترسیلات وسائل کو غیر برآمدی شعبوں کی طرف منتقل کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی سرگرمیوں کا کم پیداواری شعبوں میں ارتکاز، کھپت پر مبنی درآمدات کو بڑھاتا ہے، جس سے ترسیلات کے فوائد جزوی طور پر زائل ہو جاتے ہیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ ترسیلات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خطرات کو مدنظر رکھیں، کیونکہ اس طرح کی نمو معیشت کو بار بار پیش آنے والے ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں سے باہر نکلنے سے روک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، لیکن یہ آمدن برآمدات کا نعم البدل نہیں بن سکتی — کیونکہ برآمدات مقامی روزگار پیدا کرتی ہیں اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں ترسیلاتِ زر کو سب سے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ مالی سال 2025 میں یہ ترسیلات 27 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — جو کہ اشیاء و خدمات کی مجموعی برآمدات سے بھی زیادہ ہیں۔</strong></p>
<p>اس تیز رفتار اضافے میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا، جن میں رسمی ذرائع سے ترسیلات کی آمد میں اضافہ اور فری لانس آمدنی میں اضافہ شامل ہے، جو بڑی حد تک ترسیلات کے زمرے میں آتی ہے۔</p>
<p>سعودی عرب سے بھیجی گئی رقوم سب سے زیادہ تھیں، جو 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — یعنی کل ترسیلات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ۔ 2011 سے 2024 کے دوران، کل 44 لاکھ پاکستانی مزدور سعودی عرب گئے، جب کہ 28 لاکھ افراد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) گئے تاکہ بہتر روزگار اور معاشی مواقع حاصل کیے جا سکیں۔ صرف 2024 میں، 7 لاکھ 27 ہزار افراد بیرونِ ملک گئے، جن میں سے صرف 30 ہزار افراد اعلیٰ مہارت یافتہ تھے جبکہ 3 لاکھ 66 ہزار غیر ہنر مند تھے۔ یہ ورکر مکس 2011 سے تقریباً ایک جیسا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471b12830e.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>2015 میں ہجرت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی جب 9 لاکھ 47 ہزار مزدور بیرونِ ملک گئے۔ کووِڈ-19 کے سالوں میں اس میں نمایاں کمی آئی، اور 2020 و 2021 میں بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد 3 لاکھ سے بھی کم رہی۔ اگلے دو سالوں میں یہ تعداد دوبارہ 8 لاکھ سے تجاوز کر گئی، اور پھر 2024 میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی۔</p>
<p>اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر میں تیزی سے اضافے کا تعلق بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے سے نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، مالی سال 2021 اور 2022 میں ترسیلات کی آمد 2023 سے زیادہ تھی، حالانکہ 2023 اور 2024 میں زیادہ افراد بیرونِ ملک گئے۔ مالی سال 2023 میں کاروباری ماحول انتہائی مایوس کن رہا، اور بہت سے صاحبِ حیثیت افراد نے رقوم بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے غیر رسمی ذرائع جیسے کہ حوالہ / ہنڈی کا سہارا لیا، جو کہ ماضی میں ترسیلات کے ذریعے شمار ہوتی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471b5f0c34.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>بعد ازاں، اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیوں اور معاشی استحکام کے باعث یہ رجحان الٹ گیا، جس کے نتیجے میں رسمی ذرائع سے رقوم کی منتقلی میں اضافہ ہوا۔ ایک اور اہم پیش رفت یہ رہی کہ اندرونِ ملک کام کرنے والے بہت سے افراد نے بیرونِ ملک سے آمدنی حاصل کرنا شروع کی، جو اب ترسیلاتِ زر کے طور پر رجسٹر ہو رہی ہے۔</p>
<p>یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر کی نمو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اور اگر مالی سال 2026 میں یہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ 42 ارب ڈالر تک بھی پہنچ جائے، تو یہ بڑی کامیابی ہو گی۔
اگر منزل کے اعتبار سے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے تو کئی دلچسپ پہلو سامنے آتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471b8825bb.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>2011 سے 2014 کے دوران، یو اے ای (2011 میں 1 لاکھ 56 ہزار سے بڑھ کر 2014 میں 3 لاکھ 50 ہزار) اور سعودی عرب (2 لاکھ 27 ہزار سے بڑھ کر 5 لاکھ 23 ہزار) جانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد دونوں ممالک میں کم تیل کی قیمتوں (2015 تا 2017 میں اوسطاً 50 ڈالر فی بیرل) کے باعث یہ رجحان کم ہوا۔ 2018 کے بعد، کووِڈ کے سالوں کے علاوہ، تیل کی قیمتوں میں بہتری کے ساتھ بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد دوبارہ بڑھنے لگی — 2023 میں سعودی عرب جانے والے 4 لاکھ 27 ہزار اور یو اے ای جانے والے 2 لاکھ 30 ہزار تھے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 میں سعودی عرب جانے والوں کی تعداد مزید بڑھ کر 4 لاکھ 52 ہزار ہو گئی، جبکہ یو اے ای جانے والوں کی تعداد صرف 65 ہزار رہ گئی — جو 2011 کے بعد (کووِڈ کے سالوں کو چھوڑ کر) سب سے کم ہے۔ یہ صورتحال یو اے ای کی جانب سے پاکستانی مزدوروں اور سیاحوں کو ویزا جاری کرنے میں کمی سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس دوران، عمان ایک ابھرتی ہوئی منزل کے طور پر سامنے آیا، جہاں 2024 میں 82 ہزار افراد ہجرت کر کے گئے — جو یو اے ای جانے والوں سے زیادہ تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/687471c273ee1.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک اور حیران کن اور بظاہر الٹا رجحان یہ ہے کہ یو اے ای سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں ملک وار سب سے زیادہ اضافہ ہوا — مالی سال 2024 میں 41 فیصد بڑھ کر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — حالانکہ وہاں جانے والے مزدوروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی۔</p>
<p>اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای سے آنے والی ترسیلات صرف روایتی مزدوروں پر مبنی نہیں ہیں۔ غالب امکان ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی کمپنیاں اور پیشہ ور افراد، جن کی رجسٹریشن یو اے ای میں ہے، رقوم واپس بھیج رہے ہیں، جو گھریلو ترسیلات کے طور پر درج ہو رہی ہیں۔ مزید برآں، منی لانڈرنگ کے خاتمے — جو ماضی میں اکثر یو اے ای میں قانونی شکل اختیار کرتی تھی — نے رسمی ذرائع سے ترسیلات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان ترسیلاتِ زر پر انحصار برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو اسے امید رکھنی چاہیے کہ تیل کی قیمتیں 50 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں اور یو اے ای کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مزید ورک ویزے حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم، بہت سے ماہرین معیشت ترسیلاتِ زر پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔</p>
<p>اکنامک ایڈوائزری گروپ (ای اے جی) سے تعلق رکھنے والے احمد جمال پیرزادہ ترسیلات کو ”ڈچ بیماری کے ساتھ لائف لائن“ قرار دیتے ہیں۔ ان کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن اضلاع میں ترسیلات کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے، وہاں لیبر فورس کا بڑا حصہ تعمیراتی شعبے میں ہوتا ہے جبکہ صنعتی شعبے میں کم۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ ترسیلات وسائل کو غیر برآمدی شعبوں کی طرف منتقل کرتی ہیں۔</p>
<p>معاشی سرگرمیوں کا کم پیداواری شعبوں میں ارتکاز، کھپت پر مبنی درآمدات کو بڑھاتا ہے، جس سے ترسیلات کے فوائد جزوی طور پر زائل ہو جاتے ہیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ ترسیلات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خطرات کو مدنظر رکھیں، کیونکہ اس طرح کی نمو معیشت کو بار بار پیش آنے والے ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں سے باہر نکلنے سے روک سکتی ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، لیکن یہ آمدن برآمدات کا نعم البدل نہیں بن سکتی — کیونکہ برآمدات مقامی روزگار پیدا کرتی ہیں اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274614</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Jul 2025 10:22:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/141018578b636a3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/141018578b636a3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
