<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی اٹارنی جنرل پام بونڈی کی حمایت، ایپسٹین کیس پر تنقید مسترد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274590/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے ان پر اپنی ہی جماعت کے بعض حلقوں کی تنقید کو مسترد کر دیا۔ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے جسم فروشی کے ملزم جیفری ایپسٹین کی موت اور اس کے مبینہ گاہکوں سے متعلق تحقیقات میں سازشی نظریات کو بے بنیاد قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر تقریباً 400 الفاظ پر مشتمل پوسٹ میں کہا:
پام بونڈی شاندار کام کر رہی ہیں، ہم سب ایک ہی ٹیم، ایم اے جی اے کا حصہ ہیں۔ اُن پر تنقید بند ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایپسٹین کا معاملہ اب کسی کو دلچسپی نہیں، اس پر مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، کنزرویٹو حلقوں اور بااثر شخصیات بشمول ایلون مسک اور لورا لوومر نے پام بونڈی اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل پر تنقید کی، کیونکہ بونڈی نے ماضی میں ”بڑی تفصیلات“، ”ناموں“ اور ”فلائٹ لاگز“ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو اب تک سامنے نہیں آ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کی حالیہ مشترکہ رپورٹ کے مطابق، جیفری ایپسٹین کی موت خودکشی تھی، اور کسی بلیک میلنگ یا مؤثر افراد کی فہرست کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈین بونجینو اور بونڈی کے درمیان مبینہ اختلافات کی خبریں گردش میں ہیں، اور بونجینو کے استعفے کی افواہیں بھی سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پام بونڈی نے فروری میں فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ایپسٹین کی کلائنٹ لسٹ میرے دفتر میں ہے، تاہم حالیہ بیان میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب ایپسٹین، جان ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے کیسز کی مکمل فائلز تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ امریکا میں ایک بار پھر سرکاری اداروں کی شفافیت اور سیاسی اثر و رسوخ پر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے ان پر اپنی ہی جماعت کے بعض حلقوں کی تنقید کو مسترد کر دیا۔ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے جسم فروشی کے ملزم جیفری ایپسٹین کی موت اور اس کے مبینہ گاہکوں سے متعلق تحقیقات میں سازشی نظریات کو بے بنیاد قرار دیا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر تقریباً 400 الفاظ پر مشتمل پوسٹ میں کہا:
پام بونڈی شاندار کام کر رہی ہیں، ہم سب ایک ہی ٹیم، ایم اے جی اے کا حصہ ہیں۔ اُن پر تنقید بند ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایپسٹین کا معاملہ اب کسی کو دلچسپی نہیں، اس پر مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>دوسری جانب، کنزرویٹو حلقوں اور بااثر شخصیات بشمول ایلون مسک اور لورا لوومر نے پام بونڈی اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل پر تنقید کی، کیونکہ بونڈی نے ماضی میں ”بڑی تفصیلات“، ”ناموں“ اور ”فلائٹ لاگز“ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو اب تک سامنے نہیں آ سکیں۔</p>
<p>ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کی حالیہ مشترکہ رپورٹ کے مطابق، جیفری ایپسٹین کی موت خودکشی تھی، اور کسی بلیک میلنگ یا مؤثر افراد کی فہرست کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔</p>
<p>یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈین بونجینو اور بونڈی کے درمیان مبینہ اختلافات کی خبریں گردش میں ہیں، اور بونجینو کے استعفے کی افواہیں بھی سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>پام بونڈی نے فروری میں فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ایپسٹین کی کلائنٹ لسٹ میرے دفتر میں ہے، تاہم حالیہ بیان میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب ایپسٹین، جان ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے کیسز کی مکمل فائلز تھیں۔</p>
<p>یہ معاملہ امریکا میں ایک بار پھر سرکاری اداروں کی شفافیت اور سیاسی اثر و رسوخ پر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274590</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Jul 2025 12:31:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/13123042d4641a5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/13123042d4641a5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
