<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:11:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:11:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیاں لگژری بن گئیں، انڈسٹری کو قیمتوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274585/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی حکومت نے بالآخر نیو انرجی وہیکل (این ای وی) پالیسی 30-2025 کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے، تاہم آٹو انڈسٹری کے اندر سے یہ آوازیں سامنے آ رہی ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کی قیمتوں اور مارکیٹ میں اس کی پوزیشننگ پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم جی موٹرز کے جنرل مینیجر مارکیٹنگ ڈویژن سید آصف احمد نے کہا کہ اگرچہ یہ پالیسی درست سمت میں ایک قدم ہے، مقامی ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (ایچ ای وی) مارکیٹ ابھی بھی عام پاکستانی صارف کے لیے ناقابلِ رسائی ہے اور ٹیکنالوجی کے فوائد عام صارف تک نہیں پہنچ پاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ
پاکستان میں ایچ ای ویز ایک مخصوص طبقے کے لیے پرتعیش سواری بن چکی ہیں۔ پالیسی کی معاونت کے باوجود، اصل فائدہ گاڑی خریدنے والے صارف تک نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں سب سے مہنگی سات نشستوں والی ایچ ای وی ایس یو وی کی ایکس-فیکٹری قیمت 16 ملین روپے ہے، جب کہ پانچ نشستوں والی  ایچ ای وی گاڑیوں کی قیمتیں 9.6 سے 12 ملین روپے کے درمیان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف احمد کا کہنا تھا کہ
انڈسٹری کو سنجیدگی سے قابلِ استطاعت قیمتوں پر غور کرنا ہو گا، اور ہمیں پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کی طرف منتقل ہونے پر سوچنا چاہیے، جو شہری علاقوں کے لیے بہتر ہیں اور حقیقی الیکٹرک رینج فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صنعت کی جانب سے متعارف کردہ نئی این ای وی پالیسی 30-2025 میں ای ویز، پی ایچ ای ویز اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کو ’نیو انرجی وہیکل‘ کے طور پر باضابطہ درجہ دیا گیا ہے، تاکہ یہ عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف احمد نے اس سے قبل دی گئی ٹیکس مراعات پر بھی تنقید کی، جن کی بدولت روایتی ہائبرڈز کو بھی نیو انرجی وہیکل قرار دے دیا گیا، جس سے صرف بڑی آٹو کمپنیوں اور ان کے مقامی شراکت داروں کو فائدہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ
بدقسمتی سے ان سبسڈیوں کا نہ تو ماحول کو فائدہ پہنچا، نہ عوام کو۔ صرف بڑی کمپنیوں اور ان کے پارٹنرز نے فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، پی ایچ ای ویز زیادہ بامعنی متبادل فراہم کرتے ہیں، جن میں روزمرہ کے شہری سفر کے لیے مکمل الیکٹرک ڈرائیونگ صلاحیت ہوتی ہے اور طویل سفر کے لیے ہائبرڈ موڈ دستیاب ہوتا ہے، جس سے الیکٹرک وہیکل سے متعلق ’رینج اینزائٹی‘ کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم جی موٹرز نے پاکستان کی پہلی مقامی طور پر اسمبل شدہ پلگ ان ہائبرڈ ایس یو وی — ایم جی - ایچ ایس - پی ایچ ای وی متعارف کرا کر میدان مار لیا ہے۔ اس میں 16.6کے ڈبلیو ایچ لیتھیئم آئن بیٹری موجود ہے جو 52 کلومیٹر سے زائد کا مکمل الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہے، جب کہ 1.5 لیٹر ٹربو چارجڈ انجن کے ساتھ مل کر 260 ہارس پاور اور 370 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتی ہے۔ یہ گاڑی 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار صرف 7.1 سیکنڈ میں حاصل کر لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 ملین روپے سے کم قیمت میں دستیاب یہ گاڑی، آصف احمد کے مطابق، اپنے زمرے میں بہترین ویلیو فار منی ہے، جو جدید ٹیکنالوجی، کارکردگی اور ایندھن کی بچت فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف احمد نے بتایا کہ ایم جی اب تک پاکستان میں 16,000 سے زائد گاڑیاں فروخت کر چکا ہے، جن میں تقریباً 2,000 گاڑیاں پی ایچ ای وی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی صارفین اب پی ایچ ای وی کی اصل معاشی افادیت کو سمجھنے لگے ہیں کیونکہ یہ شہری صارف کے لیے بہترین انتخاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایچ ای وی سے پی ایچ ای وی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن پاکستانی صارفین کے پاس صرف ایک ہی آپشن — ایم جی - ایچ ایس - پی ایچ ای وی — موجود ہے، جو بہتر ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود، قیمت میں کئی ایچ ای ویز سے سستی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف احمد نے کہا کہ ایم جی پاکستان میں سپیسیفکیشن لیڈر شپ کا حامل ہے۔ آج تمام آٹو مینوفیکچررز وہی عالمی معیار اپنا رہے ہیں جو ایم جی نے ایم جی - ایچ ایس کے سی بی یو اور سی کے ڈی ماڈلز میں متعارف کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایم جی گاڑیاں پاکستان میں 2021 سے اب تک 35 کروڑ میل (تقریباً 563 ملین کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کر چکی ہیں اور ایم جی- ایچ ایس نے پاکستان کے ایندھن، سڑکوں اور موسم کے حالات میں خود کو کامیابی سے ثابت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں گاڑیاں اب بھی بہت مہنگی ہیں۔ عالمی طور پر، ہائبرڈ گاڑیاں اس وقت فائدہ دیتی ہیں جب ان کی قیمت پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں 10 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ لیکن پاکستان میں یہ فرق اوسطاً 45 فیصد ہے۔ مثلاً ایک سی  ایس یو وی ہائبرڈ کی قیمت 12 ملین روپے ہے، جب کہ اسی سائز کی پٹرول گاڑی 8.0 ملین روپے میں دستیاب ہے، یعنی قیمت کا فرق تقریباً 4.0 ملین روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان کی این ای وی پالیسی ایک پیش رفت پر مبنی روڈمیپ فراہم کرتی ہے، لیکن اصل امتحان اس پر عملدرآمد ہے۔ جیسے جیسے مزید پی ایچ ای وی ماڈلز مارکیٹ میں آئیں گے، سوال یہ رہے گا کہ کیا آٹو مینوفیکچررز ان مراعات کو صارفین کی طاقت بنانے کے لیے استعمال کریں گے یا صرف ہائبرڈ گاڑیوں کی پرانی حکمت عملی دہرا کر زیادہ منافع اور کم ماحولیاتی فائدہ اٹھائیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ
امکانات بے حد وسیع ہیں، لیکن صرف اسی صورت میں اگر ہم صارف کی حقیقی قدر اور ماحولیاتی اثرات کو ترجیح دیں، بجائے قلیل مدتی منافع کے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی حکومت نے بالآخر نیو انرجی وہیکل (این ای وی) پالیسی 30-2025 کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے، تاہم آٹو انڈسٹری کے اندر سے یہ آوازیں سامنے آ رہی ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کی قیمتوں اور مارکیٹ میں اس کی پوزیشننگ پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم جی موٹرز کے جنرل مینیجر مارکیٹنگ ڈویژن سید آصف احمد نے کہا کہ اگرچہ یہ پالیسی درست سمت میں ایک قدم ہے، مقامی ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (ایچ ای وی) مارکیٹ ابھی بھی عام پاکستانی صارف کے لیے ناقابلِ رسائی ہے اور ٹیکنالوجی کے فوائد عام صارف تک نہیں پہنچ پاتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ
پاکستان میں ایچ ای ویز ایک مخصوص طبقے کے لیے پرتعیش سواری بن چکی ہیں۔ پالیسی کی معاونت کے باوجود، اصل فائدہ گاڑی خریدنے والے صارف تک نہیں پہنچا۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں سب سے مہنگی سات نشستوں والی ایچ ای وی ایس یو وی کی ایکس-فیکٹری قیمت 16 ملین روپے ہے، جب کہ پانچ نشستوں والی  ایچ ای وی گاڑیوں کی قیمتیں 9.6 سے 12 ملین روپے کے درمیان ہیں۔</p>
<p>آصف احمد کا کہنا تھا کہ
انڈسٹری کو سنجیدگی سے قابلِ استطاعت قیمتوں پر غور کرنا ہو گا، اور ہمیں پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کی طرف منتقل ہونے پر سوچنا چاہیے، جو شہری علاقوں کے لیے بہتر ہیں اور حقیقی الیکٹرک رینج فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ صنعت کی جانب سے متعارف کردہ نئی این ای وی پالیسی 30-2025 میں ای ویز، پی ایچ ای ویز اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کو ’نیو انرجی وہیکل‘ کے طور پر باضابطہ درجہ دیا گیا ہے، تاکہ یہ عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو سکے۔</p>
<p>آصف احمد نے اس سے قبل دی گئی ٹیکس مراعات پر بھی تنقید کی، جن کی بدولت روایتی ہائبرڈز کو بھی نیو انرجی وہیکل قرار دے دیا گیا، جس سے صرف بڑی آٹو کمپنیوں اور ان کے مقامی شراکت داروں کو فائدہ ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ
بدقسمتی سے ان سبسڈیوں کا نہ تو ماحول کو فائدہ پہنچا، نہ عوام کو۔ صرف بڑی کمپنیوں اور ان کے پارٹنرز نے فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>اس کے برعکس، پی ایچ ای ویز زیادہ بامعنی متبادل فراہم کرتے ہیں، جن میں روزمرہ کے شہری سفر کے لیے مکمل الیکٹرک ڈرائیونگ صلاحیت ہوتی ہے اور طویل سفر کے لیے ہائبرڈ موڈ دستیاب ہوتا ہے، جس سے الیکٹرک وہیکل سے متعلق ’رینج اینزائٹی‘ کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔</p>
<p>ایم جی موٹرز نے پاکستان کی پہلی مقامی طور پر اسمبل شدہ پلگ ان ہائبرڈ ایس یو وی — ایم جی - ایچ ایس - پی ایچ ای وی متعارف کرا کر میدان مار لیا ہے۔ اس میں 16.6کے ڈبلیو ایچ لیتھیئم آئن بیٹری موجود ہے جو 52 کلومیٹر سے زائد کا مکمل الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہے، جب کہ 1.5 لیٹر ٹربو چارجڈ انجن کے ساتھ مل کر 260 ہارس پاور اور 370 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتی ہے۔ یہ گاڑی 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار صرف 7.1 سیکنڈ میں حاصل کر لیتی ہے۔</p>
<p>10 ملین روپے سے کم قیمت میں دستیاب یہ گاڑی، آصف احمد کے مطابق، اپنے زمرے میں بہترین ویلیو فار منی ہے، جو جدید ٹیکنالوجی، کارکردگی اور ایندھن کی بچت فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>آصف احمد نے بتایا کہ ایم جی اب تک پاکستان میں 16,000 سے زائد گاڑیاں فروخت کر چکا ہے، جن میں تقریباً 2,000 گاڑیاں پی ایچ ای وی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی صارفین اب پی ایچ ای وی کی اصل معاشی افادیت کو سمجھنے لگے ہیں کیونکہ یہ شہری صارف کے لیے بہترین انتخاب ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایچ ای وی سے پی ایچ ای وی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن پاکستانی صارفین کے پاس صرف ایک ہی آپشن — ایم جی - ایچ ایس - پی ایچ ای وی — موجود ہے، جو بہتر ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود، قیمت میں کئی ایچ ای ویز سے سستی ہے۔</p>
<p>آصف احمد نے کہا کہ ایم جی پاکستان میں سپیسیفکیشن لیڈر شپ کا حامل ہے۔ آج تمام آٹو مینوفیکچررز وہی عالمی معیار اپنا رہے ہیں جو ایم جی نے ایم جی - ایچ ایس کے سی بی یو اور سی کے ڈی ماڈلز میں متعارف کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایم جی گاڑیاں پاکستان میں 2021 سے اب تک 35 کروڑ میل (تقریباً 563 ملین کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کر چکی ہیں اور ایم جی- ایچ ایس نے پاکستان کے ایندھن، سڑکوں اور موسم کے حالات میں خود کو کامیابی سے ثابت کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں گاڑیاں اب بھی بہت مہنگی ہیں۔ عالمی طور پر، ہائبرڈ گاڑیاں اس وقت فائدہ دیتی ہیں جب ان کی قیمت پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں 10 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ لیکن پاکستان میں یہ فرق اوسطاً 45 فیصد ہے۔ مثلاً ایک سی  ایس یو وی ہائبرڈ کی قیمت 12 ملین روپے ہے، جب کہ اسی سائز کی پٹرول گاڑی 8.0 ملین روپے میں دستیاب ہے، یعنی قیمت کا فرق تقریباً 4.0 ملین روپے ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان کی این ای وی پالیسی ایک پیش رفت پر مبنی روڈمیپ فراہم کرتی ہے، لیکن اصل امتحان اس پر عملدرآمد ہے۔ جیسے جیسے مزید پی ایچ ای وی ماڈلز مارکیٹ میں آئیں گے، سوال یہ رہے گا کہ کیا آٹو مینوفیکچررز ان مراعات کو صارفین کی طاقت بنانے کے لیے استعمال کریں گے یا صرف ہائبرڈ گاڑیوں کی پرانی حکمت عملی دہرا کر زیادہ منافع اور کم ماحولیاتی فائدہ اٹھائیں گے؟</p>
<p>آصف احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ
امکانات بے حد وسیع ہیں، لیکن صرف اسی صورت میں اگر ہم صارف کی حقیقی قدر اور ماحولیاتی اثرات کو ترجیح دیں، بجائے قلیل مدتی منافع کے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274585</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Jul 2025 11:12:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/131111378cf5a40.png" type="image/png" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/131111378cf5a40.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
