<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میکسیکو اور یورپی یونین کو یکم اگست سے 30 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274571/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے اہم تجارتی شراکت دار، میکسیکو اور یورپی یونین، یکم اگست سے 30 فیصد ٹیرف کی زد میں آئیں گے، جو کہ ان کی تجارتی جنگوں کے سلسلے میں دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر جاری کیے گئے الگ الگ خطوط میں اعلان کیا ہے کہ میکسیکو اور یورپی یونین پر 30 فیصد درآمدی ٹیکس یکم اگست سے نافذ ہو گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے امریکہ میں غیر قانونی منشیات کی آمد میں میکسیکو کے کردار اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کا حوالہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں صدارت میں واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں اور حریفوں دونوں پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے اور عالمی معاشی سست روی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اُن کی انتظامیہ اب شدید دباؤ کا شکار ہے کہ وہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ فوری معاہدے کرے، خاص طور پر اس وعدے کے بعد کہ جلد از جلد متعدد معاہدے طے پائیں گے۔ اب تک امریکہ صرف برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ دو معاہدوں کا اعلان کر چکا ہے جبکہ چین کے ساتھ بعض جوابی محصولات عارضی طور پر کم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو پر عائد کی جانے والی نئی 30 فیصد درآمدی ڈیوٹی، رواں سال کے آغاز میں لگائے گئے 25 فیصد ٹیرف سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم امریکہ میکسیکو کینیڈا معاہدہ ( یوایس ایم سی اے) کے تحت آنے والی اشیاء ان محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خط میں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ”میکسیکو سرحدی سیکورٹی کے معاملے میں میری مدد کرتا رہا ہے لیکن جو کچھ میکسیکو نے کیا ہے وہ ناکافی ہے۔ یکم اگست 2025 سے ہم میکسیکو سے آنے والی اشیاء پر 30 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کینیڈا کو بھی ایک ایسا ہی خط موصول ہوا جس میں اُس کی مصنوعات پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی اطلاع دی گئی۔ ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ  یو ایس ایم سی اے کے تحت کینیڈا بھی ان پابندیوں سے مستثنیٰ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یورپی یونین پر لگایا جانے والا ٹیرف بھی واضح طور پر اس سے پہلے اپریل میں اعلان کردہ 20 فیصد محصول سے کہیں زیادہ ہے جبکہ یورپی بلاک کے ساتھ مذاکرات تاحال جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین، جسے درجنوں دیگر معیشتوں کے ساتھ مل کر بدھ کے روز امریکی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھائے جانے کا سامنا تھا، کو وقتی ریلیف مل گیا ہے کیونکہ ٹرمپ نے چند روز قبل یہ فیصلہ یکم اگست تک موخر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے ہفتے کے آغاز سے اب تک 20 سے زائد ممالک کو خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں ہر ملک کے لیے مخصوص ٹیرف کی تفصیل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کمیشن نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ 20 فیصد محصولات کی واپسی کو روکنے کے لیے معاہدہ کرنے پر تیار ہے، اور تازہ ترین خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یورپی یونین نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی ڈیوٹیاں عائد کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جن کی مالیت تقریباً 21 ارب یورو بتائی گئی ہے۔ یہ اقدامات اُس وقت سے معطل ہیں جب رواں سال کے اوائل میں ٹرمپ نے اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر الگ ٹیرف نافذ کیے تھے اور یہ معطلی 14 جولائی تک برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی حکام نے تاحال اس معطلی کو بڑھانے کا اعلان نہیں کیا لیکن ضرورت پڑنے پر وہ فوری طور پر اقدام کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے اہم تجارتی شراکت دار، میکسیکو اور یورپی یونین، یکم اگست سے 30 فیصد ٹیرف کی زد میں آئیں گے، جو کہ ان کی تجارتی جنگوں کے سلسلے میں دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔</strong></p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر جاری کیے گئے الگ الگ خطوط میں اعلان کیا ہے کہ میکسیکو اور یورپی یونین پر 30 فیصد درآمدی ٹیکس یکم اگست سے نافذ ہو گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے امریکہ میں غیر قانونی منشیات کی آمد میں میکسیکو کے کردار اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کا حوالہ دیا ہے۔</p>
<p>جنوری میں صدارت میں واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں اور حریفوں دونوں پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے اور عالمی معاشی سست روی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>تاہم اُن کی انتظامیہ اب شدید دباؤ کا شکار ہے کہ وہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ فوری معاہدے کرے، خاص طور پر اس وعدے کے بعد کہ جلد از جلد متعدد معاہدے طے پائیں گے۔ اب تک امریکہ صرف برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ دو معاہدوں کا اعلان کر چکا ہے جبکہ چین کے ساتھ بعض جوابی محصولات عارضی طور پر کم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو پر عائد کی جانے والی نئی 30 فیصد درآمدی ڈیوٹی، رواں سال کے آغاز میں لگائے گئے 25 فیصد ٹیرف سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم امریکہ میکسیکو کینیڈا معاہدہ ( یوایس ایم سی اے) کے تحت آنے والی اشیاء ان محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔</p>
<p>اپنے خط میں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ”میکسیکو سرحدی سیکورٹی کے معاملے میں میری مدد کرتا رہا ہے لیکن جو کچھ میکسیکو نے کیا ہے وہ ناکافی ہے۔ یکم اگست 2025 سے ہم میکسیکو سے آنے والی اشیاء پر 30 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔“</p>
<p>اس سے قبل کینیڈا کو بھی ایک ایسا ہی خط موصول ہوا جس میں اُس کی مصنوعات پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی اطلاع دی گئی۔ ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ  یو ایس ایم سی اے کے تحت کینیڈا بھی ان پابندیوں سے مستثنیٰ رہے گا۔</p>
<p>ادھر یورپی یونین پر لگایا جانے والا ٹیرف بھی واضح طور پر اس سے پہلے اپریل میں اعلان کردہ 20 فیصد محصول سے کہیں زیادہ ہے جبکہ یورپی بلاک کے ساتھ مذاکرات تاحال جاری ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین، جسے درجنوں دیگر معیشتوں کے ساتھ مل کر بدھ کے روز امریکی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھائے جانے کا سامنا تھا، کو وقتی ریلیف مل گیا ہے کیونکہ ٹرمپ نے چند روز قبل یہ فیصلہ یکم اگست تک موخر کر دیا ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے ہفتے کے آغاز سے اب تک 20 سے زائد ممالک کو خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں ہر ملک کے لیے مخصوص ٹیرف کی تفصیل دی گئی ہے۔</p>
<p>یورپی کمیشن نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ 20 فیصد محصولات کی واپسی کو روکنے کے لیے معاہدہ کرنے پر تیار ہے، اور تازہ ترین خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔</p>
<p>ادھر یورپی یونین نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی ڈیوٹیاں عائد کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جن کی مالیت تقریباً 21 ارب یورو بتائی گئی ہے۔ یہ اقدامات اُس وقت سے معطل ہیں جب رواں سال کے اوائل میں ٹرمپ نے اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر الگ ٹیرف نافذ کیے تھے اور یہ معطلی 14 جولائی تک برقرار ہے۔</p>
<p>یورپی حکام نے تاحال اس معطلی کو بڑھانے کا اعلان نہیں کیا لیکن ضرورت پڑنے پر وہ فوری طور پر اقدام کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274571</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 20:17:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1220022020c6ab1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1220022020c6ab1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
