<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274565/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جان ڈن نے ’فور ہوم دی بیل ٹولز‘ میں انسانیت کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ خطرات اور خدشات سب کے لیے مشترک ہوتے ہیں۔ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن اتنی بھی تیز نہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کی آنے والی تباہی سے بچ سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبارات میں شائع رپورٹس اور ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق تقریباً پورا یورپ اور امریکہ کے کچھ حصے تاریخ کی بدترین گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینل بدلتے ہی ایک منظر اسپین کے جنگلات میں لگی آگ دکھاتا ہے، پھر یورپ کے مختلف حصوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر کی گرمی میں جھلستی زندگیوں کی جھلک، جہاں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اسپین کے علاقے کاتالونیا میں دو کسانوں کی جان لینے والی آگ اور پھر دوسرے خطوں میں پیش آنے والے پراسرار حادثات، سب کچھ ایک تسلسل کی صورت میں آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے ڈوبنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جو اس بات کی دردناک مثال ہے کہ قدرتی آفات کس طرح اچانک تباہی لا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ساحل جو ماضی میں تفریح اور خوشگوار یادوں کا ذریعہ تھے، اب موت کے پھندے بن چکے ہیں۔ اٹلی کے جزیرے سارڈینیا کے ساحل پر دو افراد بیماری کے بعد جاں بحق ہو گئے جب کہ جینوآ کے اسپتال میں ایک 80 سالہ شخص دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تباہی صرف معمر افراد تک محدود نہیں، نوجوان بھی محفوظ نہیں۔ ایک 10 سالہ امریکی لڑکی پیرس کے نواح میں واقع تاریخی محل ورسائی کی سیر کے دوران گرمی کے باعث بے ہوش ہو کر جاں بحق ہو گئی۔ اسی واقعے کے بعد حکام نے ایفل ٹاور کی سیاحتی سرگرمیاں دو دن کے لیے معطل کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حیرت انگیز اور افسوسناک حقیقت ہے کہ جو ماحولیاتی تبدیلی کبھی دور کا خطرہ سمجھی جاتی تھی، وہ اب پوری قوت سے حملہ آور ہو چکی ہے۔ نہ صرف زمین کو حد سے زیادہ گرم کر رہی ہے بلکہ طوفانی ہوائیں، اچانک بارشیں اور دیگر غیر متوقع موسمی حالات کو بھی جنم دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں اچانک آنے والا سیلاب اس کی ایک تازہ مثال ہے، جہاں رات کے وقت شدید اور غیر معمولی بارش کے باعث دریا نے اپنا کنارا توڑ دیا اور پانی چند منٹوں میں دس میٹر تک بلند ہو گیا۔ 20 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کئی افراد، جن میں گرمیوں کے کیمپ میں شامل بچیاں بھی شامل ہیں، تاحال لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب عالمی حدت (گرمی) کے وہ اثرات ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل صرف ایک ’بز ورڈ‘ سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کو بھی، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرنا اب معمول بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ ساحلی شہر کراچی، جو ماضی میں گرمی کے دنوں میں بھی قدرے ٹھنڈا رہتا تھا، اب شدید گرم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی اُن شہروں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی حدت کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ کمزور تصور کیے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ انتہائی کم ہے لیکن اس کے اثرات سب سے زیادہ پاکستان ہی بھگت رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے متعدد بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی حالتِ زار بیان کی ہے اور مدد کی اپیل کی ہے لیکن اب تک کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ نتیجتاً پاکستان اس بحران سے نمٹنے کی کوششیں اپنی سطح پر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل حل اس میں ہے کہ ہم ترقی کے موجودہ تصور کو ازسرِنو سوچیں، ایسی ترقی جو زمین کے ساتھ ہم آہنگ ہو نہ کہ اس کے خلاف۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ہمیں ایسا بنیادی ڈھانچہ بنانا ہوگا جو ہر سطح پر ماحولیاتی پائیداری کو اولین ترجیح دے اور ترقی و نمو کے تمام پہلوؤں میں ماحولیاتی عوامل کو شامل کرے۔ خوش قسمتی سے آج کی ٹیکنالوجی کی ترقی نے ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بے مثال مواقع فراہم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;قابل تجدید توانائی کے نظاموں سے لے کر کاربن جذب کرنے یا اس کا اخراج روکنے والی ٹیکنالوجیز تک، ہمارے پاس آج وہ تکنیکی صلاحیتیں موجود ہیں جن کا پچھلی نسلیں صرف خواب دیکھ سکتی تھیں۔ ہمیں اپنی زمین کو سبز بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف موجودہ جنگلات کی حفاظت کو لازمی بنایا جائے بلکہ نئے وضح کردہ  شہری جنگلات کے ذخائر کی بھی مکمل حفاظت کی جائے۔ شہروں کو کاربن کا ماخذ نہیں بلکہ کاربن کو جذب کرنے والے مراکز (کاربن سنکس) بننا ہوگا، جہاں سبز راہداریاں شہری اور دیہی ماحولیاتی نظاموں کو جوڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ صنعتی آلودگی کو اس کے ماخذ پر کنٹرول کیا جائے۔ فضاء میں آلودگی کو آزادانہ پھیلنے نہ دیا جائے بلکہ ایسے نظام نافذ کیے جائیں جو تمام صنعتی فضلہ کو جذب کرکے فلٹر اور صاف کریں۔ اس میں واضح آلودگیوں کے ساتھ ساتھ نظر نہ آنے والی گرین ہاؤس گیسیں بھی شامل ہیں جو نہ صرف ہمارے آسمان کو دھندلا رہی ہیں بلکہ اس بحران کی شدت کو سمجھنے میں ہماری اجتماعی عقل کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار تیز، بے مثال اور تباہ کن ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت اتنی ہونی چاہیے کہ عالمی رہنما اسے سنجیدگی سے لیں اور تمام دیگر امور کو پس پشت ڈال کر اسے اولین ترجیح دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جن میں آلپس، اینڈیز، راکی، ہمالیہ، قراقرم اور تقریباً تمام بلند و بالا پہاڑی سلسلے شامل ہیں۔ پچھلی صدی میں سمندری سطح تقریباً 8 انچ (20 سینٹی میٹر) بڑھ چکی ہے اور درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب انسان موسمی تبدیلیوں کی پیشگی تنبیہات کو نظر انداز کرتا ہے تو تبدیلی کی شدت مزید تباہی مچاتی ہے۔ انسان کب اس حقیقت سے آشنا ہوگا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، یہ سوال بحثوں، سی او پیز (COPs) اور ٹیڈ ٹاکس میں اٹھتا رہتا ہے جبکہ ہمیں بے حد فوری جواب کی ضرورت ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جان ڈن نے ’فور ہوم دی بیل ٹولز‘ میں انسانیت کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ خطرات اور خدشات سب کے لیے مشترک ہوتے ہیں۔ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن اتنی بھی تیز نہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کی آنے والی تباہی سے بچ سکے۔</strong></p>
<p>اخبارات میں شائع رپورٹس اور ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق تقریباً پورا یورپ اور امریکہ کے کچھ حصے تاریخ کی بدترین گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں۔</p>
<p>چینل بدلتے ہی ایک منظر اسپین کے جنگلات میں لگی آگ دکھاتا ہے، پھر یورپ کے مختلف حصوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر کی گرمی میں جھلستی زندگیوں کی جھلک، جہاں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اسپین کے علاقے کاتالونیا میں دو کسانوں کی جان لینے والی آگ اور پھر دوسرے خطوں میں پیش آنے والے پراسرار حادثات، سب کچھ ایک تسلسل کی صورت میں آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے ڈوبنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جو اس بات کی دردناک مثال ہے کہ قدرتی آفات کس طرح اچانک تباہی لا سکتی ہیں۔</p>
<p>وہ ساحل جو ماضی میں تفریح اور خوشگوار یادوں کا ذریعہ تھے، اب موت کے پھندے بن چکے ہیں۔ اٹلی کے جزیرے سارڈینیا کے ساحل پر دو افراد بیماری کے بعد جاں بحق ہو گئے جب کہ جینوآ کے اسپتال میں ایک 80 سالہ شخص دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔</p>
<p>یہ تباہی صرف معمر افراد تک محدود نہیں، نوجوان بھی محفوظ نہیں۔ ایک 10 سالہ امریکی لڑکی پیرس کے نواح میں واقع تاریخی محل ورسائی کی سیر کے دوران گرمی کے باعث بے ہوش ہو کر جاں بحق ہو گئی۔ اسی واقعے کے بعد حکام نے ایفل ٹاور کی سیاحتی سرگرمیاں دو دن کے لیے معطل کر دیں۔</p>
<p>یہ حیرت انگیز اور افسوسناک حقیقت ہے کہ جو ماحولیاتی تبدیلی کبھی دور کا خطرہ سمجھی جاتی تھی، وہ اب پوری قوت سے حملہ آور ہو چکی ہے۔ نہ صرف زمین کو حد سے زیادہ گرم کر رہی ہے بلکہ طوفانی ہوائیں، اچانک بارشیں اور دیگر غیر متوقع موسمی حالات کو بھی جنم دے رہی ہے۔</p>
<p>امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں اچانک آنے والا سیلاب اس کی ایک تازہ مثال ہے، جہاں رات کے وقت شدید اور غیر معمولی بارش کے باعث دریا نے اپنا کنارا توڑ دیا اور پانی چند منٹوں میں دس میٹر تک بلند ہو گیا۔ 20 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کئی افراد، جن میں گرمیوں کے کیمپ میں شامل بچیاں بھی شامل ہیں، تاحال لاپتہ ہیں۔</p>
<p>یہ سب عالمی حدت (گرمی) کے وہ اثرات ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل صرف ایک ’بز ورڈ‘ سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کو بھی، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرنا اب معمول بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ ساحلی شہر کراچی، جو ماضی میں گرمی کے دنوں میں بھی قدرے ٹھنڈا رہتا تھا، اب شدید گرم ہو چکا ہے۔</p>
<p>کراچی اُن شہروں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی حدت کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ کمزور تصور کیے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ انتہائی کم ہے لیکن اس کے اثرات سب سے زیادہ پاکستان ہی بھگت رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے متعدد بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی حالتِ زار بیان کی ہے اور مدد کی اپیل کی ہے لیکن اب تک کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ نتیجتاً پاکستان اس بحران سے نمٹنے کی کوششیں اپنی سطح پر کر رہا ہے۔</p>
<p>اصل حل اس میں ہے کہ ہم ترقی کے موجودہ تصور کو ازسرِنو سوچیں، ایسی ترقی جو زمین کے ساتھ ہم آہنگ ہو نہ کہ اس کے خلاف۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ہمیں ایسا بنیادی ڈھانچہ بنانا ہوگا جو ہر سطح پر ماحولیاتی پائیداری کو اولین ترجیح دے اور ترقی و نمو کے تمام پہلوؤں میں ماحولیاتی عوامل کو شامل کرے۔ خوش قسمتی سے آج کی ٹیکنالوجی کی ترقی نے ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بے مثال مواقع فراہم کیے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>قابل تجدید توانائی کے نظاموں سے لے کر کاربن جذب کرنے یا اس کا اخراج روکنے والی ٹیکنالوجیز تک، ہمارے پاس آج وہ تکنیکی صلاحیتیں موجود ہیں جن کا پچھلی نسلیں صرف خواب دیکھ سکتی تھیں۔ ہمیں اپنی زمین کو سبز بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف موجودہ جنگلات کی حفاظت کو لازمی بنایا جائے بلکہ نئے وضح کردہ  شہری جنگلات کے ذخائر کی بھی مکمل حفاظت کی جائے۔ شہروں کو کاربن کا ماخذ نہیں بلکہ کاربن کو جذب کرنے والے مراکز (کاربن سنکس) بننا ہوگا، جہاں سبز راہداریاں شہری اور دیہی ماحولیاتی نظاموں کو جوڑیں۔</p>
<p>اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ صنعتی آلودگی کو اس کے ماخذ پر کنٹرول کیا جائے۔ فضاء میں آلودگی کو آزادانہ پھیلنے نہ دیا جائے بلکہ ایسے نظام نافذ کیے جائیں جو تمام صنعتی فضلہ کو جذب کرکے فلٹر اور صاف کریں۔ اس میں واضح آلودگیوں کے ساتھ ساتھ نظر نہ آنے والی گرین ہاؤس گیسیں بھی شامل ہیں جو نہ صرف ہمارے آسمان کو دھندلا رہی ہیں بلکہ اس بحران کی شدت کو سمجھنے میں ہماری اجتماعی عقل کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔</p>
<p>ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار تیز، بے مثال اور تباہ کن ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت اتنی ہونی چاہیے کہ عالمی رہنما اسے سنجیدگی سے لیں اور تمام دیگر امور کو پس پشت ڈال کر اسے اولین ترجیح دیں۔</p>
<p>ابھی دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جن میں آلپس، اینڈیز، راکی، ہمالیہ، قراقرم اور تقریباً تمام بلند و بالا پہاڑی سلسلے شامل ہیں۔ پچھلی صدی میں سمندری سطح تقریباً 8 انچ (20 سینٹی میٹر) بڑھ چکی ہے اور درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>جب انسان موسمی تبدیلیوں کی پیشگی تنبیہات کو نظر انداز کرتا ہے تو تبدیلی کی شدت مزید تباہی مچاتی ہے۔ انسان کب اس حقیقت سے آشنا ہوگا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، یہ سوال بحثوں، سی او پیز (COPs) اور ٹیڈ ٹاکس میں اٹھتا رہتا ہے جبکہ ہمیں بے حد فوری جواب کی ضرورت ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274565</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 16:33:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/12154759aa24201.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="168" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/12154759aa24201.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
