<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کا 2.4 ارب ڈالر معاہدہ: ونڈسرف کے اہم ارکان کی شمولیت سے آے آئی کوڈنگ میں وسعت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274564/</link>
      <description>&lt;p&gt;الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے اے آئی کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ ونڈسرف سے کئی اہم ارکان کو اپنی ٹیم میں شامل کرلیا ہے، یہ اعلان دونوں کمپنیوں نے جمعہ کو کیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب گوگل کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نے اس اسٹارٹ اپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق گوگل اس معاہدے کے تحت ونڈسرف کی کچھ ٹیکنالوجی غیر اختصاصی شرائط پر استعمال کرنے کے لیے 2.4 ارب ڈالر لائسنس فیس کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔ اس شخص نے مزید بتایا کہ گوگل ونڈسرف میں کوئی حصہ داری یا کنٹرولنگ انٹرسٹ حاصل نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونڈسرف کے سی ای او ورن موہن، شریک بانی ڈگلس چن، اور کوڈنگ ٹول کی تحقیق و ترقی  ٹیم کے چند ارکان گوگل کی ڈیپ مائنڈ AI ڈویژن میں شامل ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے جون میں رائٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے سے قبل ونڈسرف اور اوپن اے آئی کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری تھی جس میں ونڈسرف کو تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت میں فروخت کرنے پر غور کیا جارہا تھا۔ یہ پیش رفت کوڈ جنریشن کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کرتی ہے، جو کہ AI کی تیزی سے ترقی کرنے والی ایپلیکیشنز میں سے ایک بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ حاصل نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابقہ ونڈسرف ٹیم گوگل ڈیپ مائنڈ میں ایجنٹک کوڈنگ کے منصوبوں پر توجہ دے گی اور بنیادی طور پر جیمینی پراجیکٹ پر کام کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم ونڈسرف کی ٹیم سے کچھ  بہترین AI کوڈنگ ماہرین کو گوگل ڈیپ مائنڈ میں خوش آمدید کہنے پر پُرجوش ہیں تاکہ ایجنٹک کوڈنگ کے شعبے میں اپنے کام کو مزید آگے بڑھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر معمولی معاہدہ ونڈسرف کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا، جس نے کلینر پرکنز، گرین اوکس، اور جنرل کیٹالسٹ جیسے سرمایہ کاروں سے 243 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے، اور پِچ بُک کے مطابق اسے ایک سال قبل 1.25 ارب ڈالر کی مالیت پر ویلیو کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ونڈسرف کے سرمایہ کاروں کو اس معاہدے کے تحت لائسنس فیس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل ہوگا، جب کہ وہ کمپنی میں اپنی حصص داری برقرار رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایکوی ہائر ڈیلز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کا یہ غیر متوقع قدم اس معاہدے کی یاد دلاتا ہے جو اگست 2024 میں کیا گیا تھا، جب اس نے چیٹ بوٹ اسٹارٹ اپ Character.AI سے اہم ملازمین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے کہ مائیکروسافٹ، ایمیزون، اور میٹا بھی انہی ’اکوائر ہائر‘ معاہدوں کی طرف مائل ہوئی ہیں۔ تاہم بعض ناقدین نے ان معاہدوں کو ریگولیٹری جانچ پڑتال سے بچنے کی کوشش قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2024 میں مائیکروسافٹ نے انفلیکشن اے آئی کے ساتھ 650 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا جس کے تحت اس نے اسٹارٹ اپ کے ماڈلز استعمال کرنے اور اس کی ٹیم کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح، ایمیزون نے جون میں AI فرم ایڈیپٹ کے شریک بانیوں اور اس کی ٹیم کے کچھ ارکان کو اپنی کمپنی میں شامل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں میٹا نے اس بڑھتے ہوئے کاروباری رجحان کی سب سے بڑی مثال قائم کرتے ہوئے اسکیل اے آئی میں 49 فیصد حصص حاصل کیے، جو اس طرز کی شراکت داریوں کا اب تک کا سب سے نمایاں امتحان تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے اے آئی کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ ونڈسرف سے کئی اہم ارکان کو اپنی ٹیم میں شامل کرلیا ہے، یہ اعلان دونوں کمپنیوں نے جمعہ کو کیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب گوگل کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نے اس اسٹارٹ اپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق گوگل اس معاہدے کے تحت ونڈسرف کی کچھ ٹیکنالوجی غیر اختصاصی شرائط پر استعمال کرنے کے لیے 2.4 ارب ڈالر لائسنس فیس کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔ اس شخص نے مزید بتایا کہ گوگل ونڈسرف میں کوئی حصہ داری یا کنٹرولنگ انٹرسٹ حاصل نہیں کرے گا۔</p>
<p>ونڈسرف کے سی ای او ورن موہن، شریک بانی ڈگلس چن، اور کوڈنگ ٹول کی تحقیق و ترقی  ٹیم کے چند ارکان گوگل کی ڈیپ مائنڈ AI ڈویژن میں شامل ہوجائیں گے۔</p>
<p>ذرائع نے جون میں رائٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے سے قبل ونڈسرف اور اوپن اے آئی کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری تھی جس میں ونڈسرف کو تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت میں فروخت کرنے پر غور کیا جارہا تھا۔ یہ پیش رفت کوڈ جنریشن کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کرتی ہے، جو کہ AI کی تیزی سے ترقی کرنے والی ایپلیکیشنز میں سے ایک بن چکا ہے۔</p>
<p>اوپن اے آئی سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ حاصل نہیں ہوسکا۔</p>
<p>سابقہ ونڈسرف ٹیم گوگل ڈیپ مائنڈ میں ایجنٹک کوڈنگ کے منصوبوں پر توجہ دے گی اور بنیادی طور پر جیمینی پراجیکٹ پر کام کرے گی۔</p>
<p>گوگل نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم ونڈسرف کی ٹیم سے کچھ  بہترین AI کوڈنگ ماہرین کو گوگل ڈیپ مائنڈ میں خوش آمدید کہنے پر پُرجوش ہیں تاکہ ایجنٹک کوڈنگ کے شعبے میں اپنے کام کو مزید آگے بڑھا سکیں۔</p>
<p>یہ غیر معمولی معاہدہ ونڈسرف کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا، جس نے کلینر پرکنز، گرین اوکس، اور جنرل کیٹالسٹ جیسے سرمایہ کاروں سے 243 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے، اور پِچ بُک کے مطابق اسے ایک سال قبل 1.25 ارب ڈالر کی مالیت پر ویلیو کیا گیا تھا۔</p>
<p>ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ونڈسرف کے سرمایہ کاروں کو اس معاہدے کے تحت لائسنس فیس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل ہوگا، جب کہ وہ کمپنی میں اپنی حصص داری برقرار رکھیں گے۔</p>
<p><strong>ایکوی ہائر ڈیلز</strong></p>
<p>گوگل کا یہ غیر متوقع قدم اس معاہدے کی یاد دلاتا ہے جو اگست 2024 میں کیا گیا تھا، جب اس نے چیٹ بوٹ اسٹارٹ اپ Character.AI سے اہم ملازمین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔</p>
<p>بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے کہ مائیکروسافٹ، ایمیزون، اور میٹا بھی انہی ’اکوائر ہائر‘ معاہدوں کی طرف مائل ہوئی ہیں۔ تاہم بعض ناقدین نے ان معاہدوں کو ریگولیٹری جانچ پڑتال سے بچنے کی کوشش قرار دیا ہے۔</p>
<p>مارچ 2024 میں مائیکروسافٹ نے انفلیکشن اے آئی کے ساتھ 650 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا جس کے تحت اس نے اسٹارٹ اپ کے ماڈلز استعمال کرنے اور اس کی ٹیم کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح، ایمیزون نے جون میں AI فرم ایڈیپٹ کے شریک بانیوں اور اس کی ٹیم کے کچھ ارکان کو اپنی کمپنی میں شامل کیا تھا۔</p>
<p>جون میں میٹا نے اس بڑھتے ہوئے کاروباری رجحان کی سب سے بڑی مثال قائم کرتے ہوئے اسکیل اے آئی میں 49 فیصد حصص حاصل کیے، جو اس طرز کی شراکت داریوں کا اب تک کا سب سے نمایاں امتحان تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274564</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 15:42:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/121536484c3c68b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/121536484c3c68b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
