<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:51:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 14:51:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی اصلاحات اور چینی کی قیمتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274556/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زرعی پیداوار میں اضافہ،  شعبے کو جدید بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے کیلئے جامع قابل عمل منصوبہ تیار کریں تاکہ پاکستان کی غذائی سلامتی اور دیہی معیشت کو مستحکم کیا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے یکے بعد دیگرے سربراہان کی جانب سے اس قسم کی تلقین معمول کی بات ہے، حالانکہ وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ انہی کی اپنی حکومتیں ان مقاصد کو سبوتاژ کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کے جاری بحران کی مثال لے لیجیے، جس کی قیمت انہی پرانی اور ناقص پالیسی فیصلوں کی وجہ سے آسمان کو چھو رہی ہے، جو غلط اعداد و شمار پر مبنی تھے۔ بااثر شوگر مل مالکان، جن کا پارلیمنٹ اور کابینہ میں گہرا اثر و رسوخ ہے، نے حکومت کو یقین دلایا کہ ان کے پاس اضافی ذخائر موجود ہیں، جن کی برآمد سے نہ صرف ملکی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ لوح حکومتی فیصلہ سازوں نے شوگر مل مالکان کی جانب سے فراہم کردہ ذخائر اور ملکی طلب کے اعداد و شمار کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا اور 7.6 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دے دی، جس سے مل مالکان کو 411 ملین ڈالر کا فائدہ ہوا۔ بعد ازاں جب ملکی منڈی میں چینی کی قیمتوں کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا گیا تو حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو اہم سوالات یہ ہیں: چینی کی درآمد کے لیے درکار زرمبادلہ کی درست مقدار کیا ہے؟ اور کیا یہ فیصلہ ملکی مالی حیثیت کے مطابق ہے؟ اس حوالے سے یہ جاننا اہم ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر 4 جولائی 2025 کو اپلوڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تھے، جن میں دوست ممالک کی جانب سے ایک سال کے لیے دی گئی 16 ارب ڈالر کی رول اوور رقم بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اگرچہ چینی کی برآمد سے حاصل کیے گئے 411 ملین ڈالر کو سراہا جانا چاہیے، لیکن مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی واجب الادا قرضوں سے کم ہیں۔ دوسرا یہ کہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک سخت اور پیشگی شرائط پر مبنی پروگرام کا حصہ ہے، جس میں سبسڈی میں کمی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ چینی کی درآمد کے لیے آئی ایم ایف سے منظوری لی گئی ہے یا یہ ذمہ داری وزارتِ خزانہ پر چھوڑ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو چینی کی مد میں واجب الادا رقم کے تحت 15 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر چینی درآمد کرنے یا اس مقصد کے لیے کسی اور مد سے مختص شدہ سبسڈی منتقل کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت نے گندم جیسی بنیادی فصل کے لیے امدادی قیمت مقرر کرنے سے گریز کیا، جس کے نتیجے میں مقامی منڈی میں گندم کی قیمت میں کمی واقع ہوئی۔ تاہم، شعبے کے ماہرین کی پیشگوئی کے مطابق، اس فیصلے کی وجہ سے آئندہ سیزن میں گندم کی زیرِ کاشت رقبے میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں گندم درآمد کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا زرعی شعبے کو مجموعی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور صرف یہ سمجھ لینا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط معاشی طور پر قابلِ قبول ہیں، ایک محدود سوچ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک متبادل بیانیہ پیش کرے، جس میں یہ وضاحت ہو کہ ان عبوری مراحل میں، جب درآمدات کے باعث اخراجات بڑھیں گے، اس کا منفی اثر نہ صرف کسانوں پر بلکہ عام عوام پر بھی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی جانب سے زرعی شعبے کو جدید بنانے کی تلقین کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان کے پیشرو بھی یہی مطالبہ کرتے آئے ہیں؛ تاہم اصل رکاوٹ یہ ہے کہ ملک میں بڑی تعداد ایسے کسانوں کی ہے جو صرف گزر بسر کی سطح پر زراعت کرتے ہیں، جبکہ جدید طریقوں کو اپنانے کی صلاحیت صرف چند امیر کسانوں کے پاس ہے — یہی وجہ ہے کہ ان کی فی ہیکٹر پیداوار قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے اور گزر بسر کرنے والے کسانوں کو ترغیب دینے کے لیے ایسی حکمتِ عملی درکار ہے جو انہیں نظر انداز کیے بغیر ان کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے — اور یہ ترغیبات ماضی کی طرح مالی یا بجٹ سے متعلق سبسڈی پر مبنی نہ ہوں، جن کی مخالفت آئی ایم ایف کرے، بلکہ ان کا محور اشتراکی زراعت جیسے ماڈلز پر ہو، تاکہ کسان باہمی تعاون سے جدید طریقے اپنا سکیں اور اپنی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ فصلیں ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا بہت چھوٹا حصہ ہیں — جن میں بڑی فصلیں صرف 4.20 فیصد اور دیگر فصلیں محض 2.23 فیصد حصہ ڈالتی ہیں — جبکہ مجموعی طور پر زرعی شعبہ جی ڈی پی کا 23 فیصد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم اپنی ٹیم کو محض پرانے بیانیے دہرانے کے بجائے مستند تجرباتی مطالعوں کی بنیاد پر باخبر اور مدبرانہ فیصلے کرنے کی ہدایت دیں تاکہ پالیسی سازی عملی اور مؤثر ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زرعی پیداوار میں اضافہ،  شعبے کو جدید بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے کیلئے جامع قابل عمل منصوبہ تیار کریں تاکہ پاکستان کی غذائی سلامتی اور دیہی معیشت کو مستحکم کیا جاسکے۔</strong></p>
<p>حکومت کے یکے بعد دیگرے سربراہان کی جانب سے اس قسم کی تلقین معمول کی بات ہے، حالانکہ وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ انہی کی اپنی حکومتیں ان مقاصد کو سبوتاژ کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>چینی کے جاری بحران کی مثال لے لیجیے، جس کی قیمت انہی پرانی اور ناقص پالیسی فیصلوں کی وجہ سے آسمان کو چھو رہی ہے، جو غلط اعداد و شمار پر مبنی تھے۔ بااثر شوگر مل مالکان، جن کا پارلیمنٹ اور کابینہ میں گہرا اثر و رسوخ ہے، نے حکومت کو یقین دلایا کہ ان کے پاس اضافی ذخائر موجود ہیں، جن کی برآمد سے نہ صرف ملکی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔</p>
<p>سادہ لوح حکومتی فیصلہ سازوں نے شوگر مل مالکان کی جانب سے فراہم کردہ ذخائر اور ملکی طلب کے اعداد و شمار کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا اور 7.6 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دے دی، جس سے مل مالکان کو 411 ملین ڈالر کا فائدہ ہوا۔ بعد ازاں جب ملکی منڈی میں چینی کی قیمتوں کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا گیا تو حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>دو اہم سوالات یہ ہیں: چینی کی درآمد کے لیے درکار زرمبادلہ کی درست مقدار کیا ہے؟ اور کیا یہ فیصلہ ملکی مالی حیثیت کے مطابق ہے؟ اس حوالے سے یہ جاننا اہم ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر 4 جولائی 2025 کو اپلوڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تھے، جن میں دوست ممالک کی جانب سے ایک سال کے لیے دی گئی 16 ارب ڈالر کی رول اوور رقم بھی شامل ہے۔</p>
<p>چنانچہ اگرچہ چینی کی برآمد سے حاصل کیے گئے 411 ملین ڈالر کو سراہا جانا چاہیے، لیکن مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی واجب الادا قرضوں سے کم ہیں۔ دوسرا یہ کہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک سخت اور پیشگی شرائط پر مبنی پروگرام کا حصہ ہے، جس میں سبسڈی میں کمی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں کہ چینی کی درآمد کے لیے آئی ایم ایف سے منظوری لی گئی ہے یا یہ ذمہ داری وزارتِ خزانہ پر چھوڑ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو چینی کی مد میں واجب الادا رقم کے تحت 15 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر چینی درآمد کرنے یا اس مقصد کے لیے کسی اور مد سے مختص شدہ سبسڈی منتقل کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت نے گندم جیسی بنیادی فصل کے لیے امدادی قیمت مقرر کرنے سے گریز کیا، جس کے نتیجے میں مقامی منڈی میں گندم کی قیمت میں کمی واقع ہوئی۔ تاہم، شعبے کے ماہرین کی پیشگوئی کے مطابق، اس فیصلے کی وجہ سے آئندہ سیزن میں گندم کی زیرِ کاشت رقبے میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں گندم درآمد کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا زرعی شعبے کو مجموعی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور صرف یہ سمجھ لینا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط معاشی طور پر قابلِ قبول ہیں، ایک محدود سوچ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک متبادل بیانیہ پیش کرے، جس میں یہ وضاحت ہو کہ ان عبوری مراحل میں، جب درآمدات کے باعث اخراجات بڑھیں گے، اس کا منفی اثر نہ صرف کسانوں پر بلکہ عام عوام پر بھی پڑے گا۔</p>
<p>وزیراعظم کی جانب سے زرعی شعبے کو جدید بنانے کی تلقین کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان کے پیشرو بھی یہی مطالبہ کرتے آئے ہیں؛ تاہم اصل رکاوٹ یہ ہے کہ ملک میں بڑی تعداد ایسے کسانوں کی ہے جو صرف گزر بسر کی سطح پر زراعت کرتے ہیں، جبکہ جدید طریقوں کو اپنانے کی صلاحیت صرف چند امیر کسانوں کے پاس ہے — یہی وجہ ہے کہ ان کی فی ہیکٹر پیداوار قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>چھوٹے اور گزر بسر کرنے والے کسانوں کو ترغیب دینے کے لیے ایسی حکمتِ عملی درکار ہے جو انہیں نظر انداز کیے بغیر ان کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے — اور یہ ترغیبات ماضی کی طرح مالی یا بجٹ سے متعلق سبسڈی پر مبنی نہ ہوں، جن کی مخالفت آئی ایم ایف کرے، بلکہ ان کا محور اشتراکی زراعت جیسے ماڈلز پر ہو، تاکہ کسان باہمی تعاون سے جدید طریقے اپنا سکیں اور اپنی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔</p>
<p>یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ فصلیں ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا بہت چھوٹا حصہ ہیں — جن میں بڑی فصلیں صرف 4.20 فیصد اور دیگر فصلیں محض 2.23 فیصد حصہ ڈالتی ہیں — جبکہ مجموعی طور پر زرعی شعبہ جی ڈی پی کا 23 فیصد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم اپنی ٹیم کو محض پرانے بیانیے دہرانے کے بجائے مستند تجرباتی مطالعوں کی بنیاد پر باخبر اور مدبرانہ فیصلے کرنے کی ہدایت دیں تاکہ پالیسی سازی عملی اور مؤثر ہو سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274556</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 12:51:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1212422663d9470.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1212422663d9470.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
