<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط، این ایچ پی کے مسئلے کے حل کیلئے تعاون کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274546/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کے دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے وزیراعظم سے غیرروایتی اور مؤثر طریقہ کار اپنانے میں تعاون کی درخواست کی جو واپڈا و صوبوں کے درمیان تاحال حل طلب ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی جس کے تحت ہائیڈرو الیکٹرک اسٹیشن سے حاصل ہونے والا خالص منافع اس اہل صوبے کو ادا کیے جائیں گے جن کی شرح کا تعین مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کازی کمیٹی طریقہ کار (کے سی ایم) کو جنوری 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے منظور کیا اور اس کے تحت پہلی ادائیگی 1992 میں اُس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کو 6 ارب روپے کی گئی،اس طریقہ کار کی توثیق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) نے بھی کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1997 میں اس کی توثیق کی اور اسے سی سی آئی کے اجلاسوں میں بارہا دہرایا گیا جن کا انعقاد 1991، 1993، 1997، 1998، 2016، 2018، 2019 اور 2022 میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا حکومت کو درپیش مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ایک عبوری انتظام متعارف کرایا جسے 2016 میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے باقاعدہ طور پر منظور کیا، اس انتظام کے تحت نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی کی شرح 1.10 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کی گئی جس میں سالانہ 5 فیصد اضافہ شامل تھا۔ یہ رقم واپڈا کے جنریشن ٹیرف میں شامل کی گئی جس کا صارفین کے ٹیرف پر تقریباً 18 پیسے فی یونٹ اثر پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ واپڈا نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ادائیگیاں کرنا شروع کیں تاہم یہ ادائیگیاں متفقہ انتظام کے مطابق مستقل بنیادوں پر نہیں کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے لیے 75 ارب روپے کی بقایاجات کی رقم واجب الادا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں صوبائی حکومت کی جانب سےکے سی ایم پر مکمل عملدرآمد کے لیے پیش کی گئی سمری کے جواب میں، مشترکہ مفادات کونسل  نے 24 اپریل 2018 کو منعقدہ اپنے 37ویں اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کو سونپی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد سی سی آئی کے فیصلوں کی روشنی میں نیٹ منافع کی شرح کے تعین پر غور کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے دسمبر 2019 میں اپنی رپورٹ پیش کی جسے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے منظور کیا۔ رپورٹ میں کے سی ایم کی بنیاد پر مالی سال 2016-17 کے لیے خیبر پختونخوا کا جائز حصہ 128 ارب روپے اور پنجاب کا 52 ارب روپے مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور کمیٹی قائم کی گئی تاکہ اہل صوبوں کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی کے لیے ”غیر روایتی“ حل تجویز کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ کے مطابق غیر روایتی حل کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے اب تک پانچ اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جن میں یہ طے پایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی تجویز پہلے ہی پلاننگ کمیشن کو فراہم کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے کو درپیش شدید مالی مشکلات کے پیش نظر اس معاملے کے حل میں تیزی لانا نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزیراعظم آفس سے اپیل کی کہ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کو ہدایت دی جائے کہ وہ غیر روایتی حل کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد طلب کریں تاکہ اس معاملے کا منصفانہ اور مساوی حل یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کی قیادت اس عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی اور آئینی تقاضوں اور سابقہ سی سی آئی فیصلوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے وسائل کے جائز حصے کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ (وزیر اعظم شہباز شریف) کی قیادت میں ہم ان چیلنجز سے بخوبی نمٹ سکتے ہیں اور ایک منصفانہ و شفاف حل ممکن بنا سکتے ہیں، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے عدل و مساوات کے اصولوں پر مبنی ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا حکومت نے واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے ایک دوسرا عبوری انتظام تجویز کیا ہے، جس کے تحت بجلی کے ٹیرف میں 1 روپیہ فی کلو واٹ آور اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، صوبے نے اپنے پہلے مؤقف کو دہرایا ہے کہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کو متعلقہ صوبوں کے حوالے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واپڈا اب بجلی کے شعبے کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے والا ادارہ نہیں رہا، کیونکہ اب سی پی پی اے-جی وفاقی حکومت کی وصولی ایجنسی کے طور پر کام کر رہا ہے لہٰذا ادائیگی پاور ڈویژن کے تحت سی پی پی اے-جی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا حکومت نے درج ذیل 3 تجاویز پیش کیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز اوّل: نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی وفاقی حکومت کی جانب سے کی جائے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 161(2)، صدارتی حکم نامہ نمبر 3 اور 1993 سے 2022 تک کے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلوں میں ضمانت دی گئی ہے،نیز جہانزیب کمیٹی کی اُس رپورٹ کی بنیاد پر جسے سی سی آئی نے 23 دسمبر 2019 کو منظور کیا تھا۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیم کے جزو کی طرز پر پن بجلی منصوبوں کے پاور کمپوننٹ کی مالی معاونت پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے کرے تاکہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی کے لیے دستیاب ہوسکے اور متعلقہ صوبوں کو ان کا حق بروقت مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز دوم: موجودہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز جو اس وقت واپڈا کی ملکیت ہیں، متعلقہ صوبوں کو منتقل کیے جائیں جیسا کہ اس سے قبل حکومت پنجاب نے بھی تجویز کیا تھا۔ ویسے بھی بجلی کی پیداوار سے متعلق پالیسیاں، بشمول 1995 اور 2015 کی پاور جنریشن پالیسیز، پاور اسٹیشنز کی صوبوں کو منتقلی کی اجازت دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ہائیڈرو پاور اسٹیشنز صوبوں کو منتقل نہیں کیے جاتے، وفاقی حکومت کے سی ایم کے تحت واجب الادا نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگیاں صوبوں کو کرے۔ آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم ) کی ذمہ داری واپڈا کے پاس برقرار رکھی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز سوم: حتمی فیصلے تک وفاقی حکومت نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی کیلئے دوسرا عبوری انتظام نافذ کرے جس کے تحت صارفین کے لیے بجلی کے نرخ میں ایک روپیہ فی کلو واٹ آور اضافہ کیا جائے تاکہ مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت نے تجویز دی ہے کہ واپڈا کے بجائے سی پی پی اے-جی  نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی براہِ راست مستحق صوبوں کو ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کے دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے وزیراعظم سے غیرروایتی اور مؤثر طریقہ کار اپنانے میں تعاون کی درخواست کی جو واپڈا و صوبوں کے درمیان تاحال حل طلب ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہبازشریف کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی جس کے تحت ہائیڈرو الیکٹرک اسٹیشن سے حاصل ہونے والا خالص منافع اس اہل صوبے کو ادا کیے جائیں گے جن کی شرح کا تعین مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کرے گی۔</p>
<p>کازی کمیٹی طریقہ کار (کے سی ایم) کو جنوری 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے منظور کیا اور اس کے تحت پہلی ادائیگی 1992 میں اُس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کو 6 ارب روپے کی گئی،اس طریقہ کار کی توثیق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) نے بھی کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1997 میں اس کی توثیق کی اور اسے سی سی آئی کے اجلاسوں میں بارہا دہرایا گیا جن کا انعقاد 1991، 1993، 1997، 1998، 2016، 2018، 2019 اور 2022 میں ہوا۔</p>
<p>خیبرپختونخوا حکومت کو درپیش مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ایک عبوری انتظام متعارف کرایا جسے 2016 میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے باقاعدہ طور پر منظور کیا، اس انتظام کے تحت نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی کی شرح 1.10 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کی گئی جس میں سالانہ 5 فیصد اضافہ شامل تھا۔ یہ رقم واپڈا کے جنریشن ٹیرف میں شامل کی گئی جس کا صارفین کے ٹیرف پر تقریباً 18 پیسے فی یونٹ اثر پڑا۔</p>
<p>چنانچہ واپڈا نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ادائیگیاں کرنا شروع کیں تاہم یہ ادائیگیاں متفقہ انتظام کے مطابق مستقل بنیادوں پر نہیں کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے لیے 75 ارب روپے کی بقایاجات کی رقم واجب الادا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں صوبائی حکومت کی جانب سےکے سی ایم پر مکمل عملدرآمد کے لیے پیش کی گئی سمری کے جواب میں، مشترکہ مفادات کونسل  نے 24 اپریل 2018 کو منعقدہ اپنے 37ویں اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کو سونپی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد سی سی آئی کے فیصلوں کی روشنی میں نیٹ منافع کی شرح کے تعین پر غور کرنا تھا۔</p>
<p>کمیٹی نے دسمبر 2019 میں اپنی رپورٹ پیش کی جسے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے منظور کیا۔ رپورٹ میں کے سی ایم کی بنیاد پر مالی سال 2016-17 کے لیے خیبر پختونخوا کا جائز حصہ 128 ارب روپے اور پنجاب کا 52 ارب روپے مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور کمیٹی قائم کی گئی تاکہ اہل صوبوں کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی کے لیے ”غیر روایتی“ حل تجویز کیا جا سکے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ کے مطابق غیر روایتی حل کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے اب تک پانچ اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جن میں یہ طے پایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی تجویز پہلے ہی پلاننگ کمیشن کو فراہم کردی ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے کو درپیش شدید مالی مشکلات کے پیش نظر اس معاملے کے حل میں تیزی لانا نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے وزیراعظم آفس سے اپیل کی کہ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کو ہدایت دی جائے کہ وہ غیر روایتی حل کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد طلب کریں تاکہ اس معاملے کا منصفانہ اور مساوی حل یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کی قیادت اس عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی اور آئینی تقاضوں اور سابقہ سی سی آئی فیصلوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے وسائل کے جائز حصے کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ (وزیر اعظم شہباز شریف) کی قیادت میں ہم ان چیلنجز سے بخوبی نمٹ سکتے ہیں اور ایک منصفانہ و شفاف حل ممکن بنا سکتے ہیں، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے عدل و مساوات کے اصولوں پر مبنی ہو گا۔</p>
<p>خیبر پختونخوا حکومت نے واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے ایک دوسرا عبوری انتظام تجویز کیا ہے، جس کے تحت بجلی کے ٹیرف میں 1 روپیہ فی کلو واٹ آور اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، صوبے نے اپنے پہلے مؤقف کو دہرایا ہے کہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کو متعلقہ صوبوں کے حوالے کیا جائے۔</p>
<p>نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واپڈا اب بجلی کے شعبے کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے والا ادارہ نہیں رہا، کیونکہ اب سی پی پی اے-جی وفاقی حکومت کی وصولی ایجنسی کے طور پر کام کر رہا ہے لہٰذا ادائیگی پاور ڈویژن کے تحت سی پی پی اے-جی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔</p>
<p>خیبر پختونخوا حکومت نے درج ذیل 3 تجاویز پیش کیں:</p>
<p>تجویز اوّل: نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی وفاقی حکومت کی جانب سے کی جائے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 161(2)، صدارتی حکم نامہ نمبر 3 اور 1993 سے 2022 تک کے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلوں میں ضمانت دی گئی ہے،نیز جہانزیب کمیٹی کی اُس رپورٹ کی بنیاد پر جسے سی سی آئی نے 23 دسمبر 2019 کو منظور کیا تھا۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیم کے جزو کی طرز پر پن بجلی منصوبوں کے پاور کمپوننٹ کی مالی معاونت پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے کرے تاکہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی کے لیے دستیاب ہوسکے اور متعلقہ صوبوں کو ان کا حق بروقت مل سکے۔</p>
<p>تجویز دوم: موجودہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز جو اس وقت واپڈا کی ملکیت ہیں، متعلقہ صوبوں کو منتقل کیے جائیں جیسا کہ اس سے قبل حکومت پنجاب نے بھی تجویز کیا تھا۔ ویسے بھی بجلی کی پیداوار سے متعلق پالیسیاں، بشمول 1995 اور 2015 کی پاور جنریشن پالیسیز، پاور اسٹیشنز کی صوبوں کو منتقلی کی اجازت دیتی ہیں۔</p>
<p>جب تک ہائیڈرو پاور اسٹیشنز صوبوں کو منتقل نہیں کیے جاتے، وفاقی حکومت کے سی ایم کے تحت واجب الادا نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگیاں صوبوں کو کرے۔ آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم ) کی ذمہ داری واپڈا کے پاس برقرار رکھی جاسکتی ہے۔</p>
<p>تجویز سوم: حتمی فیصلے تک وفاقی حکومت نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی کیلئے دوسرا عبوری انتظام نافذ کرے جس کے تحت صارفین کے لیے بجلی کے نرخ میں ایک روپیہ فی کلو واٹ آور اضافہ کیا جائے تاکہ مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔</p>
<p>صوبائی حکومت نے تجویز دی ہے کہ واپڈا کے بجائے سی پی پی اے-جی  نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگی براہِ راست مستحق صوبوں کو ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274546</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 09:35:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/12092736c3a20a4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/12092736c3a20a4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
