<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیوروکریسی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وزیر اعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274545/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے عشروں پرانے بیوروکریٹک نظام پر شدید تنقید کی اور اسے قومی ترقی کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ گورننس کو جدید بنانے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے جامع اصلاحات کی جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتظامی ڈھانچہ جو گزشتہ 7 دہائیوں سے نافذ ہے اب فرسودہ ہوچکا ہے اور تیزی سے بدلتی ہوئی جدید دنیا کے تقاضوں کے لیے موزوں نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو معاشی ترقی اور دیرپا خوشحالی محض ایک خواب ہی بنی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران کہا کہ جب تک فرسودہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا، ملک میں معاشی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اجلاس پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ماہرین پر مبنی نئے فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا جسے وزیراعظم نے وفاقی اداروں میں وسیع تر اصلاحات کے لیے ایک ممکنہ خاکہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فریم ورک، جس پر عملدرآمد جاری ہے، روایتی پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل کو ایک نئی قائم کردہ تکنیکی ڈویژن سے الگ کرتا ہے، جو متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہے اور اسے عملی نفاذ، تخلیقی اختراعات اور حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہبازشریف نے اویس لغاری کی قیادت میں پاور ڈویژن کو عملی اصلاحات کے آغاز میں پیش قدمی کرنے پر سراہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جاری تبدیلیوں کے نتیجے میں مالی نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے اور قومی خزانے کے لیے اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹریسٹی پلان کے تحت 134 حکمتِ عملی پر مبنی ہدایات کامیابی سے مکمل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اہم تکنیکی امور کو پیشہ ورانہ انداز میں ازسرِ نو منظم کرنا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی مؤثر اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے ماڈل کی کامیابی سے حوصلہ پا کر وزیراعظم نے اس طرزِ عمل کو دیگر وفاقی محکموں میں بھی اپنانے کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین“ کو شامل کیا جائے اور عالمی سطح پر پھیلے پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ با صلاحیت پاکستانی دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی مہارت کو وطن میں بروئے کار لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں اور اداروں کی تنظیمِ نو کے لیے ٹھوس تجاویز تیار کرنے والی ایک حکومتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمیٹی پاور ڈویژن کے ماڈل کو بنیاد بناتے ہوئے کام کرے گی اور اس کا محور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ماہرین کی شمولیت، داخلی امور کی سادگی اور نظام کی ڈیجیٹائزیشن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے تبصرے ایک جانب سول سروس میں موجود گہرائی سے جمی ہوئی نااہلیوں پر شدید مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، تو دوسری جانب ان کی حکومت کو ایک اصلاحات پر مبنی انتظامیہ کے طور پر پیش کرنے کی مضبوط خواہش کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے عشروں پرانے بیوروکریٹک نظام پر شدید تنقید کی اور اسے قومی ترقی کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ گورننس کو جدید بنانے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے جامع اصلاحات کی جائیں۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتظامی ڈھانچہ جو گزشتہ 7 دہائیوں سے نافذ ہے اب فرسودہ ہوچکا ہے اور تیزی سے بدلتی ہوئی جدید دنیا کے تقاضوں کے لیے موزوں نہیں رہا۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو معاشی ترقی اور دیرپا خوشحالی محض ایک خواب ہی بنی رہے گی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران کہا کہ جب تک فرسودہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا، ملک میں معاشی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔</p>
<p>یہ اجلاس پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ماہرین پر مبنی نئے فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا جسے وزیراعظم نے وفاقی اداروں میں وسیع تر اصلاحات کے لیے ایک ممکنہ خاکہ قرار دیا۔</p>
<p>یہ فریم ورک، جس پر عملدرآمد جاری ہے، روایتی پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل کو ایک نئی قائم کردہ تکنیکی ڈویژن سے الگ کرتا ہے، جو متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہے اور اسے عملی نفاذ، تخلیقی اختراعات اور حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔</p>
<p>شہبازشریف نے اویس لغاری کی قیادت میں پاور ڈویژن کو عملی اصلاحات کے آغاز میں پیش قدمی کرنے پر سراہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جاری تبدیلیوں کے نتیجے میں مالی نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے اور قومی خزانے کے لیے اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹریسٹی پلان کے تحت 134 حکمتِ عملی پر مبنی ہدایات کامیابی سے مکمل کی ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق اہم تکنیکی امور کو پیشہ ورانہ انداز میں ازسرِ نو منظم کرنا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی مؤثر اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے ماڈل کی کامیابی سے حوصلہ پا کر وزیراعظم نے اس طرزِ عمل کو دیگر وفاقی محکموں میں بھی اپنانے کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین“ کو شامل کیا جائے اور عالمی سطح پر پھیلے پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ با صلاحیت پاکستانی دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی مہارت کو وطن میں بروئے کار لایا جائے۔</p>
<p>اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں اور اداروں کی تنظیمِ نو کے لیے ٹھوس تجاویز تیار کرنے والی ایک حکومتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی۔</p>
<p>یہ کمیٹی پاور ڈویژن کے ماڈل کو بنیاد بناتے ہوئے کام کرے گی اور اس کا محور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ماہرین کی شمولیت، داخلی امور کی سادگی اور نظام کی ڈیجیٹائزیشن ہوگا۔</p>
<p>وزیراعظم کے تبصرے ایک جانب سول سروس میں موجود گہرائی سے جمی ہوئی نااہلیوں پر شدید مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، تو دوسری جانب ان کی حکومت کو ایک اصلاحات پر مبنی انتظامیہ کے طور پر پیش کرنے کی مضبوط خواہش کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274545</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 09:39:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/12090102eeeebf5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="550" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/12090102eeeebf5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
