<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:38:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:38:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی اصلاحات: اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 1,350 سے زائد ملازمین کو برطرف کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274543/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمہ خارجہ جمعہ سے اپنے 1,350 سے زائد امریکی دفتر سے وابستہ ملازمین کو برطرف کرنے کا عمل شروع کر رہا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سفارتی ڈھانچے میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا حصہ ہے۔ تنقید نگاروں کے مطابق، یہ اقدام امریکہ کی عالمی سطح پر اپنے مفادات کے دفاع اور فروغ کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ خارجہ کے ایک اندرونی نوٹس کے مطابق، برطرفیوں میں 1,107 سول سروس اہلکار اور 246 فارن سروس افسران شامل ہوں گے، جو سب کے سب امریکہ میں تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ اندرونِ ملک آپریشنز کو سفارتی ترجیحات پر مرکوز کرنے کے لیے موثر بنا رہا ہے۔ عملے میں کمی غیر بنیادی، دہرائے جانے والے یا زائد دفاتر کو نشانہ بناتے ہوئے احتیاط سے کی جا رہی ہے، جہاں بہتری اور کفایت شعاری ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے وفاقی خارجہ پالیسی کو اپنی ”امریکہ فرسٹ“ حکمت عملی کے مطابق ڈھالنے کے لیے کی جانے والی تنظیمی تبدیلیوں کا پہلا مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق سفارتکاروں اور ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ فارن سروس افسران کی برطرفی سے امریکہ کی چین اور روس جیسے حریف ممالک کی بڑھتی ہوئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے رواں سال فروری میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ہدایت کی تھی کہ وہ فارن سروس کو ازسرنو منظم کریں تاکہ ریپبلکن صدر کی خارجہ پالیسی کو ”مکمل وفاداری“ کے ساتھ نافذ کیا جا سکے۔
وہ بارہا ”ڈیپ اسٹیٹ“ کو ختم کرنے اور ایسے بیوروکریٹس کو برطرف کرنے کا اعلان کرتے آئے ہیں جنہیں وہ ”غیر وفادار“ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ردوبدل ٹرمپ کی اس غیر معمولی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد وفاقی بیوروکریسی کو محدود کرنا اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کے ”غیر ضروری اخراجات“ میں کمی لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنظیم نو یکم جولائی تک مکمل ہونے کی توقع تھی، تاہم جاری عدالتی کارروائی کے باعث تاخیر کا شکار ہو گئی، کیونکہ محکمہ خارجہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا منتظر تھا، جو وسیع پیمانے پر برطرفیوں کو روکنے والے عدالتی حکم پر فیصلہ سنانے والا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو برطرفیوں کے نفاذ کی اجازت دے دی، جس سے متعدد وفاقی اداروں کی ڈرامائی تبدیلی اور ہزاروں مزید ملازمین کی برطرفی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمہ خارجہ جمعہ سے اپنے 1,350 سے زائد امریکی دفتر سے وابستہ ملازمین کو برطرف کرنے کا عمل شروع کر رہا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سفارتی ڈھانچے میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا حصہ ہے۔ تنقید نگاروں کے مطابق، یہ اقدام امریکہ کی عالمی سطح پر اپنے مفادات کے دفاع اور فروغ کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ خارجہ کے ایک اندرونی نوٹس کے مطابق، برطرفیوں میں 1,107 سول سروس اہلکار اور 246 فارن سروس افسران شامل ہوں گے، جو سب کے سب امریکہ میں تعینات ہیں۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ اندرونِ ملک آپریشنز کو سفارتی ترجیحات پر مرکوز کرنے کے لیے موثر بنا رہا ہے۔ عملے میں کمی غیر بنیادی، دہرائے جانے والے یا زائد دفاتر کو نشانہ بناتے ہوئے احتیاط سے کی جا رہی ہے، جہاں بہتری اور کفایت شعاری ممکن ہے۔</p>
<p>یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے وفاقی خارجہ پالیسی کو اپنی ”امریکہ فرسٹ“ حکمت عملی کے مطابق ڈھالنے کے لیے کی جانے والی تنظیمی تبدیلیوں کا پہلا مرحلہ ہے۔</p>
<p>سابق سفارتکاروں اور ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ فارن سروس افسران کی برطرفی سے امریکہ کی چین اور روس جیسے حریف ممالک کی بڑھتی ہوئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے رواں سال فروری میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ہدایت کی تھی کہ وہ فارن سروس کو ازسرنو منظم کریں تاکہ ریپبلکن صدر کی خارجہ پالیسی کو ”مکمل وفاداری“ کے ساتھ نافذ کیا جا سکے۔
وہ بارہا ”ڈیپ اسٹیٹ“ کو ختم کرنے اور ایسے بیوروکریٹس کو برطرف کرنے کا اعلان کرتے آئے ہیں جنہیں وہ ”غیر وفادار“ سمجھتے ہیں۔</p>
<p>یہ ردوبدل ٹرمپ کی اس غیر معمولی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد وفاقی بیوروکریسی کو محدود کرنا اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کے ”غیر ضروری اخراجات“ میں کمی لانا ہے۔</p>
<p>یہ تنظیم نو یکم جولائی تک مکمل ہونے کی توقع تھی، تاہم جاری عدالتی کارروائی کے باعث تاخیر کا شکار ہو گئی، کیونکہ محکمہ خارجہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا منتظر تھا، جو وسیع پیمانے پر برطرفیوں کو روکنے والے عدالتی حکم پر فیصلہ سنانے والا تھا۔</p>
<p>منگل کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو برطرفیوں کے نفاذ کی اجازت دے دی، جس سے متعدد وفاقی اداروں کی ڈرامائی تبدیلی اور ہزاروں مزید ملازمین کی برطرفی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274543</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jul 2025 22:51:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/11223845d00b3eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/11223845d00b3eb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
