<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:34:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:34:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی وزیر کا گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے فوری آغاز پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274542/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعہ کے روز زور دیا ہے کہ گوادر بندرگاہ کو بین الاقوامی روڈ شوز میں بطور ایک اسٹریٹجک تجارتی مرکز پیش کیا جائے، جو خلیج فارس اور وسطی ایشیا کو جوڑنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ گوادر بندرگاہ کے کم لاگت تجارتی راستوں اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے دستیاب مراعات کو مؤثر انداز میں فروغ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی عالمی سطح پر تشہیر کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی سفارت خانوں اور مشنز کے ذریعے مربوط انداز میں تیار کردہ پروموشنل مواد کو دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر منصوبہ بندی کابینہ کمیٹی برائے آپریشنلائزیشن آف گوادر پورٹ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جہاں بندرگاہ کے مکمل فعال ہونے سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت گوادر بندرگاہ کو مکمل فعال کرنے سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کی نظامت رکن انفرااسٹرکچر، پلاننگ کمیشن ڈاکٹر وقاص انور نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اجلاس میں گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے لیے جامع اور ہم آہنگ حکمت عملی کو حتمی شکل دینے پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم نکات میں اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد تاکہ گوادر بندرگاہ کی عالمی سطح پر تشہیر کی جا سکے، مربوط مارکیٹنگ حکمت عملی کی تیاری، وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت دیگر ممالک سے سرمایہ کاری اور تجارتی روابط بڑھانے کے لیے سفارتی رسائی میں اضافہ، گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ جلد شروع ہونے کا امکان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارتِ بحری امور نجی شپنگ لائنز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ آپریشنز جلد شروع کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی مرحلے میں جو سامان منتقل کیا جائے گا، اس میں معدنیات، کھجوریں، سی فوڈ اور سیمنٹ شامل ہوں گے اور ہدف کے شعبے معدنیات، ماہی گیری اور پروسیسنگ صنعتیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے ہدایت دی کہ گوادر بندرگاہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بین الاقوامی روڈ شوز کا انعقاد کیا جائے اور پاکستانی سفارت خانوں و مشنز کے ذریعے اعلیٰ معیار کا پروموشنل مواد دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کا محلِ وقوع اسے خلیج اور وسطی ایشیائی ریاستوں جیسے ترکمانستان، تاجکستان اور کرغیزستان تک رسائی کا سب سے مختصر تجارتی راستہ بناتا ہے اور اس کی حیثیت علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر منصوبہ بندی نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ایک چار ملکی کنسورشیم تشکیل دے جو گوادر سے عمان تک زیرِ سمندر سرنگ کے ذریعے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کو جنوبی ایشیا سے جوڑنے کے امکانات کا پیش خری مطالعہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ گوادر سے خلیجی ممالک تک فیری سروس شروع کرنے کی تجاویز پر بھی غور جاری ہے، جس میں چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے تجارتی کردار کو بھی مدِنظر رکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی کہ بین الاقوامی جہازرانوں کے لیے معیاری رہائش اور تفریحی سہولیات یقینی بنائی جائیں تاکہ ان کی بار بار آمد کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی نے بتایا کہ گوادر میں 5 اسٹار ہوٹل (پرل کانٹینینٹل) سمیت معیاری قیام کی سہولت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ گوادر فشریز ڈیپارٹمنٹ اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے درمیان مشترکہ زمین کے سروے اور فزیبلٹی اسٹڈیز جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر منصوبہ بندی نے ہدایت دی کہ مقامی ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور انہیں فش پروسیسنگ ویلیو چین میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا ہے کہ ماہی گیروں کی یونین ’ماہی گیر اتحاد‘ سے مسلسل مشاورت ہو رہی ہے اور انہوں نے فش پروسیسنگ انڈسٹری کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ٹرالنگ کمپنیوں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے تاکہ وہ گوادر کو آف لوڈنگ حب اور پروسیسنگ مرکز کے طور پر استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ بلوچستان کے لیے گوادر کو ایک مخصوص مائننگ پورٹ کے طور پر ترقی دی جائے، جس کے لیے معدنیات اور اسمیلٹنگ کا انفرااسٹرکچر قائم کرنے کی تجاویز پر کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت ریلوے نے اعلان کیا ہے کہ منرل کوریڈور ریلوے لنک کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کر لی گئی ہے جو گوادر بندرگاہ کی تجارتی استعداد کو بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حکومت بلوچستان کے نمائندے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر سیف سٹی منصوبے کا 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جب کہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ 30 مئی 2025 کو سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے بعد پی ایس ڈی پی 2025-26 کے تحت 1,500 ملین روپے کی لاگت سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوادر میں تجارتی، رہائشی اور انتظامی ترقی کے لیے اقدامات جاری
گزشتہ اجلاس میں بلوچستان حکومت کو جو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، ان پر بھی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی، جن میں گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے لیے زمین کی نشاندہی، اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی شہریوں کے لیے مخصوص رہائشی علاقے کا تعین، گوادر یا تربت میں سے کسی ایک کو بلوچستان کا سرمائی دارالحکومت مقرر کرنے کا فیصلہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے رائے دی کہ تربت کو سردیوں کا دارالحکومت بنایا جانا زیادہ موزوں ہوگا کیونکہ وہاں کی آبادی زیادہ اور تجارتی سرگرمیاں وسیع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعہ کے روز زور دیا ہے کہ گوادر بندرگاہ کو بین الاقوامی روڈ شوز میں بطور ایک اسٹریٹجک تجارتی مرکز پیش کیا جائے، جو خلیج فارس اور وسطی ایشیا کو جوڑنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ گوادر بندرگاہ کے کم لاگت تجارتی راستوں اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے دستیاب مراعات کو مؤثر انداز میں فروغ دیں۔</p>
<p>احسن اقبال نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی عالمی سطح پر تشہیر کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی سفارت خانوں اور مشنز کے ذریعے مربوط انداز میں تیار کردہ پروموشنل مواد کو دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔</p>
<p>وزیر منصوبہ بندی کابینہ کمیٹی برائے آپریشنلائزیشن آف گوادر پورٹ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جہاں بندرگاہ کے مکمل فعال ہونے سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت گوادر بندرگاہ کو مکمل فعال کرنے سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کی نظامت رکن انفرااسٹرکچر، پلاننگ کمیشن ڈاکٹر وقاص انور نے کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق اجلاس میں گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے لیے جامع اور ہم آہنگ حکمت عملی کو حتمی شکل دینے پر زور دیا گیا۔</p>
<p>اہم نکات میں اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد تاکہ گوادر بندرگاہ کی عالمی سطح پر تشہیر کی جا سکے، مربوط مارکیٹنگ حکمت عملی کی تیاری، وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت دیگر ممالک سے سرمایہ کاری اور تجارتی روابط بڑھانے کے لیے سفارتی رسائی میں اضافہ، گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ جلد شروع ہونے کا امکان شامل تھے۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارتِ بحری امور نجی شپنگ لائنز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ آپریشنز جلد شروع کیے جا سکیں۔</p>
<p>ابتدائی مرحلے میں جو سامان منتقل کیا جائے گا، اس میں معدنیات، کھجوریں، سی فوڈ اور سیمنٹ شامل ہوں گے اور ہدف کے شعبے معدنیات، ماہی گیری اور پروسیسنگ صنعتیں ہوں گی۔</p>
<p>احسن اقبال نے ہدایت دی کہ گوادر بندرگاہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بین الاقوامی روڈ شوز کا انعقاد کیا جائے اور پاکستانی سفارت خانوں و مشنز کے ذریعے اعلیٰ معیار کا پروموشنل مواد دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کا محلِ وقوع اسے خلیج اور وسطی ایشیائی ریاستوں جیسے ترکمانستان، تاجکستان اور کرغیزستان تک رسائی کا سب سے مختصر تجارتی راستہ بناتا ہے اور اس کی حیثیت علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہی ہے۔</p>
<p>وزیر منصوبہ بندی نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ایک چار ملکی کنسورشیم تشکیل دے جو گوادر سے عمان تک زیرِ سمندر سرنگ کے ذریعے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کو جنوبی ایشیا سے جوڑنے کے امکانات کا پیش خری مطالعہ کرے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ گوادر سے خلیجی ممالک تک فیری سروس شروع کرنے کی تجاویز پر بھی غور جاری ہے، جس میں چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے تجارتی کردار کو بھی مدِنظر رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>احسن اقبال نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی کہ بین الاقوامی جہازرانوں کے لیے معیاری رہائش اور تفریحی سہولیات یقینی بنائی جائیں تاکہ ان کی بار بار آمد کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>ڈی جی نے بتایا کہ گوادر میں 5 اسٹار ہوٹل (پرل کانٹینینٹل) سمیت معیاری قیام کی سہولت موجود ہے۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ گوادر فشریز ڈیپارٹمنٹ اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے درمیان مشترکہ زمین کے سروے اور فزیبلٹی اسٹڈیز جاری ہیں۔</p>
<p>وزیر منصوبہ بندی نے ہدایت دی کہ مقامی ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور انہیں فش پروسیسنگ ویلیو چین میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>بتایا گیا ہے کہ ماہی گیروں کی یونین ’ماہی گیر اتحاد‘ سے مسلسل مشاورت ہو رہی ہے اور انہوں نے فش پروسیسنگ انڈسٹری کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔</p>
<p>چینی ٹرالنگ کمپنیوں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے تاکہ وہ گوادر کو آف لوڈنگ حب اور پروسیسنگ مرکز کے طور پر استعمال کریں۔</p>
<p>اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ بلوچستان کے لیے گوادر کو ایک مخصوص مائننگ پورٹ کے طور پر ترقی دی جائے، جس کے لیے معدنیات اور اسمیلٹنگ کا انفرااسٹرکچر قائم کرنے کی تجاویز پر کام جاری ہے۔</p>
<p>وزارت ریلوے نے اعلان کیا ہے کہ منرل کوریڈور ریلوے لنک کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کر لی گئی ہے جو گوادر بندرگاہ کی تجارتی استعداد کو بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>اجلاس میں حکومت بلوچستان کے نمائندے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر سیف سٹی منصوبے کا 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جب کہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔</p>
<p>یہ منصوبہ 30 مئی 2025 کو سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے بعد پی ایس ڈی پی 2025-26 کے تحت 1,500 ملین روپے کی لاگت سے جاری ہے۔</p>
<p>گوادر میں تجارتی، رہائشی اور انتظامی ترقی کے لیے اقدامات جاری
گزشتہ اجلاس میں بلوچستان حکومت کو جو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، ان پر بھی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی، جن میں گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے لیے زمین کی نشاندہی، اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی شہریوں کے لیے مخصوص رہائشی علاقے کا تعین، گوادر یا تربت میں سے کسی ایک کو بلوچستان کا سرمائی دارالحکومت مقرر کرنے کا فیصلہ شامل ہیں۔</p>
<p>وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے رائے دی کہ تربت کو سردیوں کا دارالحکومت بنایا جانا زیادہ موزوں ہوگا کیونکہ وہاں کی آبادی زیادہ اور تجارتی سرگرمیاں وسیع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274542</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jul 2025 22:30:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/11215330d881c0f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="529" width="984">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/11215330d881c0f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
