<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:03:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:03:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل نے پاکستان میں تخلیقی اے آئی ٹولز Veo 3 اور Flow متعارف کرا دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274541/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گوگل نے اپنا جدید ویڈیو جنریشن ماڈل ”ویو 3“ متعارف کرا دیا ہے، جو اب گوگل اے آئی پرو کے صارفین کے لیے پاکستان سمیت 150 سے زائد ممالک میں دستیاب ہے۔ اس اقدام کا مقصد دنیا بھر میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔  یہ بات کمپنی کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئی ٹیکنالوجی صارفین کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ تصاویر کو آواز کے ساتھ آٹھ سیکنڈ کی متحرک ویڈیوز میں تبدیل کر سکیں۔ یہ خصوصیت ویو 3 پر مبنی فوٹو ٹو ویڈیو فیچر کے ذریعے ممکن ہوئی، جو رواں سال کے آغاز میں پیش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے مطابق، دنیا بھر میں صرف سات ہفتوں کے اندر ویو 3 کے ذریعے 4 کروڑ سے زائد ویڈیوز تخلیق کی جا چکی ہیں، جن میں پریوں کی کہانیوں کو نئے انداز میں پیش کرنا، ASMR تجربات، اور تخلیقی صلاحیتوں کی نئی جہتیں دریافت کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل کہانی گو اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی بڑھتی ہوئی برادری ان تخلیقی امکانات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تصویر کو ویڈیو میں تبدیل کرنے کا طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصاویر کو ویڈیوز میں تبدیل کرنے کے لیے، پرامپٹ باکس میں ’ویڈیوز‘ کا انتخاب کریں، اپنی تصویر اپ لوڈ کریں، پھر منظر کی تفصیل اور آڈیو سے متعلق ہدایات درج کریں۔ اس کے بعد نظام خودکار طور پر تصویر کو ایک متحرک اور آواز سے مزین ویڈیو میں تبدیل کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس کا جدید تخلیقی ٹول، جس کے ذریعے صارفین ذاتی لمحات سے لے کر تخلیقی خاکوں تک کو متحرک ویڈیوز میں ڈھال سکتے ہیں، اب مخصوص ممالک میں گوگل اے آئی پرو اور الٹرا سبسکرائبرز کے لیے دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو صرف ایک تصویر اپ لوڈ کرنی ہے، منظر اور آڈیو کی مختصر وضاحت دینی ہے، اور جیمنی ایک متحرک ویڈیو تیار کر کے ڈاؤن لوڈ یا شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہی صلاحیتیں گوگل کے فلم سازوں کے لیے تیار کردہ ٹول فلو میں بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”فلو“ میں تخلیقی امکانات کی نئی جہتیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلو، جو فلم سازوں کے لیے گوگل کا اے آئی ٹول ہے، اب صارفین کو ویڈیو کلپس میں نہ صرف آواز (سپیچ) شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے، بلکہ ساونڈ ایفیکٹس اور پس منظر کی موسیقی بھی ویڈیو میں شامل کی جا سکتی ہے۔ (یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فلو میں آڈیو جنریشن کا فیچر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویو 3 فاسٹ پر بھی ”فریمز تو ویڈیوز“ فیچر دستیاب ہے، جو ذاتی تصاویر کو متحرک کلپس کے آغاز کے طور پر استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے، اور صارفین کو اپنے دستیاب کریڈٹس سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلو اور گوگل اے آئی الٹرا اب 140 سے زائد ممالک میں دستیاب ہیں، جس سے تخلیقی ٹیکنالوجی تک رسائی مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اے آئی کے استعمال میں اعتماد اور تحفظ کو یقینی بنانا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کا کہنا ہے کہ وہ ذمے دارانہ AI ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔ اس کے تحت جیمنئی کے ذریعے تیار کی گئی تمام ویڈیوز میں ایک واضح واٹر مارک اور ایک غیر مرئی ”SynthID“ ڈیجیٹل شناختی نشان شامل کیا جاتا ہے تاکہ ویڈیو کے AI سے تیار شدہ ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی باقاعدگی سے ”ریڈ ٹیم“ تجربات بھی کرتی ہے تاکہ سسٹمز کو ممکنہ خطرات سے قبل از وقت جانچ سکے، مسائل کی شناخت کر کے بروقت حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوگل ان ٹولز کے استعمال، اثرات اور ممکنہ غلط استعمال کے امکانات کا بغور جائزہ لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر محفوظ یا خطرناک مواد سے متعلق پالیسیز پر مسلسل عمل درآمد کیا جا رہا ہے، اور صارفین کی رائے کو سنا اور شامل کیا جاتا ہے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گوگل نے اپنا جدید ویڈیو جنریشن ماڈل ”ویو 3“ متعارف کرا دیا ہے، جو اب گوگل اے آئی پرو کے صارفین کے لیے پاکستان سمیت 150 سے زائد ممالک میں دستیاب ہے۔ اس اقدام کا مقصد دنیا بھر میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔  یہ بات کمپنی کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ نئی ٹیکنالوجی صارفین کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ تصاویر کو آواز کے ساتھ آٹھ سیکنڈ کی متحرک ویڈیوز میں تبدیل کر سکیں۔ یہ خصوصیت ویو 3 پر مبنی فوٹو ٹو ویڈیو فیچر کے ذریعے ممکن ہوئی، جو رواں سال کے آغاز میں پیش کی گئی تھی۔</p>
<p>گوگل کے مطابق، دنیا بھر میں صرف سات ہفتوں کے اندر ویو 3 کے ذریعے 4 کروڑ سے زائد ویڈیوز تخلیق کی جا چکی ہیں، جن میں پریوں کی کہانیوں کو نئے انداز میں پیش کرنا، ASMR تجربات، اور تخلیقی صلاحیتوں کی نئی جہتیں دریافت کرنا شامل ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل کہانی گو اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی بڑھتی ہوئی برادری ان تخلیقی امکانات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔</p>
<p><strong>تصویر کو ویڈیو میں تبدیل کرنے کا طریقہ</strong></p>
<p>تصاویر کو ویڈیوز میں تبدیل کرنے کے لیے، پرامپٹ باکس میں ’ویڈیوز‘ کا انتخاب کریں، اپنی تصویر اپ لوڈ کریں، پھر منظر کی تفصیل اور آڈیو سے متعلق ہدایات درج کریں۔ اس کے بعد نظام خودکار طور پر تصویر کو ایک متحرک اور آواز سے مزین ویڈیو میں تبدیل کر دے گا۔</p>
<p>گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس کا جدید تخلیقی ٹول، جس کے ذریعے صارفین ذاتی لمحات سے لے کر تخلیقی خاکوں تک کو متحرک ویڈیوز میں ڈھال سکتے ہیں، اب مخصوص ممالک میں گوگل اے آئی پرو اور الٹرا سبسکرائبرز کے لیے دستیاب ہے۔</p>
<p>صارفین کو صرف ایک تصویر اپ لوڈ کرنی ہے، منظر اور آڈیو کی مختصر وضاحت دینی ہے، اور جیمنی ایک متحرک ویڈیو تیار کر کے ڈاؤن لوڈ یا شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہی صلاحیتیں گوگل کے فلم سازوں کے لیے تیار کردہ ٹول فلو میں بھی موجود ہیں۔</p>
<p><strong>”فلو“ میں تخلیقی امکانات کی نئی جہتیں</strong></p>
<p>فلو، جو فلم سازوں کے لیے گوگل کا اے آئی ٹول ہے، اب صارفین کو ویڈیو کلپس میں نہ صرف آواز (سپیچ) شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے، بلکہ ساونڈ ایفیکٹس اور پس منظر کی موسیقی بھی ویڈیو میں شامل کی جا سکتی ہے۔ (یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فلو میں آڈیو جنریشن کا فیچر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔)</p>
<p>ویو 3 فاسٹ پر بھی ”فریمز تو ویڈیوز“ فیچر دستیاب ہے، جو ذاتی تصاویر کو متحرک کلپس کے آغاز کے طور پر استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے، اور صارفین کو اپنے دستیاب کریڈٹس سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>فلو اور گوگل اے آئی الٹرا اب 140 سے زائد ممالک میں دستیاب ہیں، جس سے تخلیقی ٹیکنالوجی تک رسائی مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔</p>
<p><strong>اے آئی کے استعمال میں اعتماد اور تحفظ کو یقینی بنانا</strong></p>
<p>گوگل کا کہنا ہے کہ وہ ذمے دارانہ AI ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔ اس کے تحت جیمنئی کے ذریعے تیار کی گئی تمام ویڈیوز میں ایک واضح واٹر مارک اور ایک غیر مرئی ”SynthID“ ڈیجیٹل شناختی نشان شامل کیا جاتا ہے تاکہ ویڈیو کے AI سے تیار شدہ ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔</p>
<p>کمپنی باقاعدگی سے ”ریڈ ٹیم“ تجربات بھی کرتی ہے تاکہ سسٹمز کو ممکنہ خطرات سے قبل از وقت جانچ سکے، مسائل کی شناخت کر کے بروقت حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوگل ان ٹولز کے استعمال، اثرات اور ممکنہ غلط استعمال کے امکانات کا بغور جائزہ لیتا ہے۔</p>
<p>غیر محفوظ یا خطرناک مواد سے متعلق پالیسیز پر مسلسل عمل درآمد کیا جا رہا ہے، اور صارفین کی رائے کو سنا اور شامل کیا جاتا ہے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274541</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jul 2025 21:07:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/112049466394cb8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/112049466394cb8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
