<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274531/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر  میں ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے متعلق خبردار کرتے ہوئے جمعہ کے روز الرٹ جاری کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الرٹ کے مطابق، گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر کی وادیوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش متوقع ہے، جبکہ مظفرآباد، وادی نیلم، راولا کوٹ، حویلی، باغ اور آزاد کشمیر کے ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر شدید بارش کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ متاثرہ علاقوں میں کرقراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کے ساتھ واقع اپر کوہستان (آر ڈی 200–240)، دیامر و استور (آر ڈی 340–380)، گلگت (آر ڈی 400) اور نگر (آر ڈی 460) شامل ہیں۔ اسی طرح جگلوٹ-اسکردو روڈ (جے ایس آر) کے متعدد مقامات خصوصاً روندو کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھروں کے گرنے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ اور رہائشیوں کو محتاط رہنے، ڈھلوانوں پر ہونے والی ممکنہ زمین کھسکنے اور زمین میں دراڑیں پڑنے کے امکانات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایمرجنسی عملے اور مشینری کو متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت تیار رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ وہ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  کے ساتھ فعال رابطے میں ہے اور پیشگی حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ ٹی وی، ریڈیو، ایس ایم ایس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ کے ذریعے سرکاری خبروں اور انتباہات سے باخبر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، این ای او سی نے 13 سے 17 جولائی کے دوران متوقع مون سون بارشوں کے حوالے سے آبی خطرات اور اثر پر مبنی موسم کی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ معتدل سے شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کیونکہ اس دوران خلیج بنگال اور بحرِ عرب سے نمی کے اضافے اور مغربی ہواؤں کے نظام کے باعث ملک کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں دریائے سندھ، کابل، جہلم (منگلا کے اوپر)، اور چناب سمیت تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال تربیلا، تونسہ اور گڈو بیراج پر نچلی سطح کا سیلاب جاری ہے جبکہ کالا باغ اور چشمہ پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی کے مطابق،
تونسہ میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو کر درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچنے کا امکان ہے، اور آنے والے ہفتے میں دریائے سندھ کے مقامات پر نچلی تا درمیانی سطح کا بہاؤ جاری رہے گا۔
دریائے چناب (مرالہ، کھنکی) اور دریائے کابل (نوشہرہ) میں نچلی سطح کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ دریائے سوات اور پنجکوڑہ میں بھی بارشوں کے باعث پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر  میں ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے متعلق خبردار کرتے ہوئے جمعہ کے روز الرٹ جاری کیا ہے۔</strong></p>
<p>الرٹ کے مطابق، گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر کی وادیوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش متوقع ہے، جبکہ مظفرآباد، وادی نیلم، راولا کوٹ، حویلی، باغ اور آزاد کشمیر کے ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر شدید بارش کا امکان ہے۔</p>
<p>ممکنہ متاثرہ علاقوں میں کرقراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کے ساتھ واقع اپر کوہستان (آر ڈی 200–240)، دیامر و استور (آر ڈی 340–380)، گلگت (آر ڈی 400) اور نگر (آر ڈی 460) شامل ہیں۔ اسی طرح جگلوٹ-اسکردو روڈ (جے ایس آر) کے متعدد مقامات خصوصاً روندو کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھروں کے گرنے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>انتظامیہ اور رہائشیوں کو محتاط رہنے، ڈھلوانوں پر ہونے والی ممکنہ زمین کھسکنے اور زمین میں دراڑیں پڑنے کے امکانات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔</p>
<p>متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایمرجنسی عملے اور مشینری کو متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت تیار رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ وہ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  کے ساتھ فعال رابطے میں ہے اور پیشگی حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ ٹی وی، ریڈیو، ایس ایم ایس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ کے ذریعے سرکاری خبروں اور انتباہات سے باخبر رہیں۔</p>
<p>مزید برآں، این ای او سی نے 13 سے 17 جولائی کے دوران متوقع مون سون بارشوں کے حوالے سے آبی خطرات اور اثر پر مبنی موسم کی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ معتدل سے شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کیونکہ اس دوران خلیج بنگال اور بحرِ عرب سے نمی کے اضافے اور مغربی ہواؤں کے نظام کے باعث ملک کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں دریائے سندھ، کابل، جہلم (منگلا کے اوپر)، اور چناب سمیت تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>فی الحال تربیلا، تونسہ اور گڈو بیراج پر نچلی سطح کا سیلاب جاری ہے جبکہ کالا باغ اور چشمہ پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>این ای او سی کے مطابق،
تونسہ میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو کر درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچنے کا امکان ہے، اور آنے والے ہفتے میں دریائے سندھ کے مقامات پر نچلی تا درمیانی سطح کا بہاؤ جاری رہے گا۔
دریائے چناب (مرالہ، کھنکی) اور دریائے کابل (نوشہرہ) میں نچلی سطح کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ دریائے سوات اور پنجکوڑہ میں بھی بارشوں کے باعث پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274531</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jul 2025 15:53:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/11154602eb9855f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/11154602eb9855f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
