<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:34:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:34:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا کینیڈا پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرنیکا اعلان، دیگر ممالک کیلئے 20 فیصد محصولات پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274515/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کینیڈا پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ آئندہ ماہ سے کینیڈا سے درآمدات پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرے گا جبکہ بیشتر دیگر تجارتی شراکت داروں پر بھی 15 سے 20 فیصد تک کے جامع محصولات لگانے کا منصوبہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک خط میں صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کو آگاہ کیا کہ نیا ٹیرف یکم اگست سے نافذ العمل ہوگا اور اگر کینیڈا نے جوابی کارروائی کی تو اس شرح میں مزید اضافہ کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی شب ایکس پر جاری کردہ بیان میں وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت یکم اگست کی ڈیڈ لائن تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا بھرپور دفاع جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا پر عائد 35 فیصد ٹیرف جو پہلے سے نافذ 25 فیصد شرح سے نمایاں اضافہ ہے، وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک انتظامی عہدیدار کے مطابق توقع ہے کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے  کے تحت شامل اشیاء پر استثنیٰ برقرار رہے گا، جب کہ توانائی اور کھاد پر عائد 10 فیصد ٹیرف میں بھی فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، اگرچہ ان معاملات پر صدر ٹرمپ کا حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں شکایت کی کہ کینیڈا سے فینٹانائل کی آمد جاری ہے، ساتھ ہی انہوں نے کینیڈا کی ٹیرف اور نان-ٹیرف تجارتی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جن کے باعث امریکی ڈیری فارمرز اور دیگر شعبے متاثر ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ امریکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے لکھا کہ اگر کینیڈا فینٹانائل کی ترسیل روکنے کے لیے میرے ساتھ تعاون کرے تو ہم ممکنہ طور پر اس خط کے مندرجات پر نظرثانی پر غور کر سکتے ہیں۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ فینٹانائل کی معمولی مقدار ہی کینیڈا سے آتی ہے تاہم وہ سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنی نے منگل کی شب ایکس  پر  کہا کہ کینیڈا نے شمالی امریکہ میں فینٹانائل کی لعنت کو روکنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ ہم زندگیوں کو بچانے اور دونوں ممالک میں کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کینیڈا پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ آئندہ ماہ سے کینیڈا سے درآمدات پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرے گا جبکہ بیشتر دیگر تجارتی شراکت داروں پر بھی 15 سے 20 فیصد تک کے جامع محصولات لگانے کا منصوبہ ہے۔</strong></p>
<p>اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک خط میں صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کو آگاہ کیا کہ نیا ٹیرف یکم اگست سے نافذ العمل ہوگا اور اگر کینیڈا نے جوابی کارروائی کی تو اس شرح میں مزید اضافہ کردیا جائے گا۔</p>
<p>جمعرات کی شب ایکس پر جاری کردہ بیان میں وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت یکم اگست کی ڈیڈ لائن تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا بھرپور دفاع جاری رکھے گی۔</p>
<p>کینیڈا پر عائد 35 فیصد ٹیرف جو پہلے سے نافذ 25 فیصد شرح سے نمایاں اضافہ ہے، وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p>ایک انتظامی عہدیدار کے مطابق توقع ہے کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے  کے تحت شامل اشیاء پر استثنیٰ برقرار رہے گا، جب کہ توانائی اور کھاد پر عائد 10 فیصد ٹیرف میں بھی فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، اگرچہ ان معاملات پر صدر ٹرمپ کا حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں شکایت کی کہ کینیڈا سے فینٹانائل کی آمد جاری ہے، ساتھ ہی انہوں نے کینیڈا کی ٹیرف اور نان-ٹیرف تجارتی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جن کے باعث امریکی ڈیری فارمرز اور دیگر شعبے متاثر ہورہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ امریکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے لکھا کہ اگر کینیڈا فینٹانائل کی ترسیل روکنے کے لیے میرے ساتھ تعاون کرے تو ہم ممکنہ طور پر اس خط کے مندرجات پر نظرثانی پر غور کر سکتے ہیں۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ فینٹانائل کی معمولی مقدار ہی کینیڈا سے آتی ہے تاہم وہ سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرچکے ہیں۔</p>
<p>کارنی نے منگل کی شب ایکس  پر  کہا کہ کینیڈا نے شمالی امریکہ میں فینٹانائل کی لعنت کو روکنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ ہم زندگیوں کو بچانے اور دونوں ممالک میں کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274515</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jul 2025 11:25:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/111123087af787d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/111123087af787d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
