<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سویت دور کی اسٹیل مل: پاکستان اور روس کے درمیان بحالی پر بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274504/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور روس نے صنعتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اسٹیل مل (پی ایس ایم) کی بحالی اور جدید کاری سے متعلق اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے۔ یہ گفتگو روس کے نائب وزیرِ اعظم الیگزے اوورچک اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور مشیر برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر ہارون اختر خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وہ وزارتِ صنعت کے سینئر حکام اور طارق فاطمی کے ہمراہ روس کے نائب وزیرِ اعظم سے جمعرات کے روز ملے، جہاں پاکستان اسٹیل مل کی بحالی سمیت صنعتی تعاون کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ییکاتیرِن برگ میں ہونے والے انوپروم سالانہ صنعتی فورم کے موقع پر بھی انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سے اسی موضوع پر ملاقات کی تھی۔ روس کے وزیر برائے تجارت و صنعت انتون الیخانوف نے پاکستان کی غیر فعال اسٹیل صنعت کو دوبارہ فعال کرنے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے پر زور دیا۔ مذاکرات میں دو طرفہ صنعتی تعاون اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے زور دیا کہ پاکستان کراچی میں نئی اسٹیل ملز سے متعلق جاری مذاکرات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخی علامت اور مستقبل کے تعاون کا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سرمایہ کاری دوست صنعتی پالیسی کا بھی ذکر کیا جس کے تحت موجودہ حکومت نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ انوپروم روس کا سب سے بڑا سالانہ صنعتی تجارتی میلہ ہے، جو دنیا بھر کے 30 سے زائد ممالک سے سرکاری وفود، صنعتکاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں میں شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے آغاز میں مشیر خارجہ طارق فاطمی نے پاکستان کی قیادت کی طرف سے روسی نائب وزیرِ اعظم اور روسی قیادت کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر خیرسگالی کا جذبہ دوطرفہ تعلقات کو مثبت رفتار دے رہا ہے۔ ملاقات میں فریقین نے سیاسی، تجارتی و اقتصادی، توانائی، رابطہ، صنعتی اور زرعی شعبوں میں باہمی دلچسپی کے تمام پہلوؤں پر جامع جائزہ بھی لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور روس نے صنعتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اسٹیل مل (پی ایس ایم) کی بحالی اور جدید کاری سے متعلق اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے۔ یہ گفتگو روس کے نائب وزیرِ اعظم الیگزے اوورچک اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور مشیر برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ہوئی۔</strong></p>
<p>مشیر ہارون اختر خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وہ وزارتِ صنعت کے سینئر حکام اور طارق فاطمی کے ہمراہ روس کے نائب وزیرِ اعظم سے جمعرات کے روز ملے، جہاں پاکستان اسٹیل مل کی بحالی سمیت صنعتی تعاون کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ییکاتیرِن برگ میں ہونے والے انوپروم سالانہ صنعتی فورم کے موقع پر بھی انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سے اسی موضوع پر ملاقات کی تھی۔ روس کے وزیر برائے تجارت و صنعت انتون الیخانوف نے پاکستان کی غیر فعال اسٹیل صنعت کو دوبارہ فعال کرنے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے پر زور دیا۔ مذاکرات میں دو طرفہ صنعتی تعاون اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے زور دیا کہ پاکستان کراچی میں نئی اسٹیل ملز سے متعلق جاری مذاکرات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخی علامت اور مستقبل کے تعاون کا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سرمایہ کاری دوست صنعتی پالیسی کا بھی ذکر کیا جس کے تحت موجودہ حکومت نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ انوپروم روس کا سب سے بڑا سالانہ صنعتی تجارتی میلہ ہے، جو دنیا بھر کے 30 سے زائد ممالک سے سرکاری وفود، صنعتکاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں میں شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے آغاز میں مشیر خارجہ طارق فاطمی نے پاکستان کی قیادت کی طرف سے روسی نائب وزیرِ اعظم اور روسی قیادت کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر خیرسگالی کا جذبہ دوطرفہ تعلقات کو مثبت رفتار دے رہا ہے۔ ملاقات میں فریقین نے سیاسی، تجارتی و اقتصادی، توانائی، رابطہ، صنعتی اور زرعی شعبوں میں باہمی دلچسپی کے تمام پہلوؤں پر جامع جائزہ بھی لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274504</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jul 2025 10:00:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1109584485f1529.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1109584485f1529.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
