<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:30:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 21:30:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمد کنندگان کی درخواستوں پر کسٹمز حکام ورچوئل سماعتیں کریں، ایف بی آر کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274496/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تجارتی سہولتوں کے فروغ کے لیے ایک بڑے اقدام کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جمعرات کو کسٹمز حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ”ورچوئل ریویو سماعتیں“ منعقد کریں، جو ایسے کیسز میں ہوں گی جن میں درآمدکنندگان نے سنٹرلائزڈ اسسمنٹ یونٹ کے فیس لیس اسسمنٹ احکامات کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایت کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) نمبر 6 آف 2025 کے ذریعے جاری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق کسٹمز رولز 2001 کے قاعدہ 441 کے تحت، اگر کوئی درآمدکنندہ یا اس کا مجاز ایجنٹ اسسمنٹ آفیسر کی حتمی تشخیص سے اختلاف رکھتا ہو، تو وہ ریویو دائر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ طریقہ کار کے مطابق جب اسسٹنٹ یا ڈپٹی کلکٹر کے سامنے دوسرا ریویو فائل کیا جاتا ہے تو وہ سماعت یا صرف دستاویزات طلب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ سماعت کی صورت میں، مقام، تاریخ اور وقت نظام کے ذریعے واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جانب سے ورچوئل سماعتوں کی ہدایت سے نہ صرف عمل میں شفافیت اور سہولت بڑھے گی بلکہ یہ اقدام ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس انسپکشن پالیسی کی جانب ایک اور قدم تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مرکزی تشخیصی یونٹ (سینٹرالائزڈ ایسسمنٹ یونٹ) میں فیس لیس اسسمنٹ سسٹم کے نفاذ کے بعد درآمدکنندگان اور کسٹمز حکام کے درمیان براہ راست رابطے کو ختم کر دیا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، کرپشن کا خاتمہ اور کیسز کا فوری ازالہ ممکن بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے اب اس نظام کو مزید مؤثر بنانے اور تجارتی سہولتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت WeBOC سسٹم میں ریویو سماعتوں کے لیے ورچوئل ریویو ہیئرنگ کا آپشن شامل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی شق 80(6) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ اب سے تمام ریویو سماعتیں ورچوئل موڈ میں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے کے مطابق، جب بھی کسی جی ڈی (گڈز ڈیکلریشن) کو دوسرے ریویو کے لیے اسسٹنٹ یا ڈپٹی کلکٹر کو الاٹ کیا جائے گا، تو وہ پہلے مرحلے میں تاجر کے دیے گئے نکات کا جائزہ لے گا۔ اگر وضاحت درکار ہو تو سماعت ورچوئل انداز میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر کسی تاجر یا اس کے مجاز نمائندے کو کسی معاملے پر ذاتی طور پر موقف پیش کرنا ہو—جیسے کسی سیمپل کی پیشکش، تو متعلقہ ایڈیشنل کلکٹر کیس ٹو کیس بنیاد پر جسمانی سماعت کی اجازت دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ متعلقہ کلیکٹریٹس اس بات کو یقینی بنائیں کہ اے سیز/ ڈی سیز کے دفاتر میں کمپیوٹرز، ایچ ڈی ویب کیمز، اسپیکرز، ہیڈسیٹس، اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولیات موجود ہوں تاکہ ورچوئل سماعتیں بلا تعطل انجام دی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تجارتی سہولتوں کے فروغ کے لیے ایک بڑے اقدام کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جمعرات کو کسٹمز حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ”ورچوئل ریویو سماعتیں“ منعقد کریں، جو ایسے کیسز میں ہوں گی جن میں درآمدکنندگان نے سنٹرلائزڈ اسسمنٹ یونٹ کے فیس لیس اسسمنٹ احکامات کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ ہدایت کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) نمبر 6 آف 2025 کے ذریعے جاری کی گئی۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق کسٹمز رولز 2001 کے قاعدہ 441 کے تحت، اگر کوئی درآمدکنندہ یا اس کا مجاز ایجنٹ اسسمنٹ آفیسر کی حتمی تشخیص سے اختلاف رکھتا ہو، تو وہ ریویو دائر کر سکتا ہے۔</p>
<p>موجودہ طریقہ کار کے مطابق جب اسسٹنٹ یا ڈپٹی کلکٹر کے سامنے دوسرا ریویو فائل کیا جاتا ہے تو وہ سماعت یا صرف دستاویزات طلب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ سماعت کی صورت میں، مقام، تاریخ اور وقت نظام کے ذریعے واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کی جانب سے ورچوئل سماعتوں کی ہدایت سے نہ صرف عمل میں شفافیت اور سہولت بڑھے گی بلکہ یہ اقدام ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس انسپکشن پالیسی کی جانب ایک اور قدم تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مرکزی تشخیصی یونٹ (سینٹرالائزڈ ایسسمنٹ یونٹ) میں فیس لیس اسسمنٹ سسٹم کے نفاذ کے بعد درآمدکنندگان اور کسٹمز حکام کے درمیان براہ راست رابطے کو ختم کر دیا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، کرپشن کا خاتمہ اور کیسز کا فوری ازالہ ممکن بنانا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے اب اس نظام کو مزید مؤثر بنانے اور تجارتی سہولتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت WeBOC سسٹم میں ریویو سماعتوں کے لیے ورچوئل ریویو ہیئرنگ کا آپشن شامل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی شق 80(6) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ اب سے تمام ریویو سماعتیں ورچوئل موڈ میں کی جائیں گی۔</p>
<p>حکم نامے کے مطابق، جب بھی کسی جی ڈی (گڈز ڈیکلریشن) کو دوسرے ریویو کے لیے اسسٹنٹ یا ڈپٹی کلکٹر کو الاٹ کیا جائے گا، تو وہ پہلے مرحلے میں تاجر کے دیے گئے نکات کا جائزہ لے گا۔ اگر وضاحت درکار ہو تو سماعت ورچوئل انداز میں کی جائے گی۔</p>
<p>تاہم اگر کسی تاجر یا اس کے مجاز نمائندے کو کسی معاملے پر ذاتی طور پر موقف پیش کرنا ہو—جیسے کسی سیمپل کی پیشکش، تو متعلقہ ایڈیشنل کلکٹر کیس ٹو کیس بنیاد پر جسمانی سماعت کی اجازت دے سکتا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ متعلقہ کلیکٹریٹس اس بات کو یقینی بنائیں کہ اے سیز/ ڈی سیز کے دفاتر میں کمپیوٹرز، ایچ ڈی ویب کیمز، اسپیکرز، ہیڈسیٹس، اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولیات موجود ہوں تاکہ ورچوئل سماعتیں بلا تعطل انجام دی جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274496</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 22:53:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/10224551d5fd0b7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/10224551d5fd0b7.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
