<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں جنگ بندی کے لئے ’پر امید‘ ہیں، امریکی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274495/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے امکان کے حوالے سے ”پُرامید“ ہیں اور موجودہ مذاکرات ماضی کی نسبت ”زیادہ قریب“ دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تازہ مذاکرات کا آغاز اتوار کو ہوا، جہاں دونوں فریق ایک ہی عمارت میں، مگر علیحدہ کمروں میں بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پُرامید ہیں… بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مجموعی طور پر شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن اب ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ شاید ہم اس وقت جنگ بندی کے معاہدے سے پہلے کی نسبت زیادہ قریب ہیں، اور ہم پُرامید ہیں، لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ابھی بھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات اسی مرحلے پر آ کر ناکام ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنیادی چیلنجوں میں سے ایک حماس کی ہتھیار ڈالنے سے انکار ہے، جو کہ اگر پورا ہو جائے تو یہ تنازع فوری طور پر ختم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فریق نے کچھ حد تک لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حماس نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء اور دیرپا امن کے لیے ’حقیقی ضمانتیں‘ اس کے بنیادی مطالبات ہیں، جن پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باہمی مذاکرات کا تازہ ترین دور، جو کہ قطر، امریکہ اور مصر کی ثالثی سے ہو رہا ہے، جمعرات کو دوحہ میں اپنے پانچویں دن میں داخل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ نومبر 2023 میں ایک ہفتے کی جنگ بندی اور جنوری 2025 میں دو ماہ کی عارضی جنگ بندی کے باوجود، دوحہ اور قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات اب تک کسی پائیدار معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے امکان کے حوالے سے ”پُرامید“ ہیں اور موجودہ مذاکرات ماضی کی نسبت ”زیادہ قریب“ دکھائی دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تازہ مذاکرات کا آغاز اتوار کو ہوا، جہاں دونوں فریق ایک ہی عمارت میں، مگر علیحدہ کمروں میں بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے ہیں۔</p>
<p>روبیو نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پُرامید ہیں… بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مجموعی طور پر شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن اب ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ شاید ہم اس وقت جنگ بندی کے معاہدے سے پہلے کی نسبت زیادہ قریب ہیں، اور ہم پُرامید ہیں، لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ابھی بھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات اسی مرحلے پر آ کر ناکام ہو چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنیادی چیلنجوں میں سے ایک حماس کی ہتھیار ڈالنے سے انکار ہے، جو کہ اگر پورا ہو جائے تو یہ تنازع فوری طور پر ختم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>روبیو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فریق نے کچھ حد تک لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حماس نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء اور دیرپا امن کے لیے ’حقیقی ضمانتیں‘ اس کے بنیادی مطالبات ہیں، جن پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔</p>
<p>یہ باہمی مذاکرات کا تازہ ترین دور، جو کہ قطر، امریکہ اور مصر کی ثالثی سے ہو رہا ہے، جمعرات کو دوحہ میں اپنے پانچویں دن میں داخل ہو گیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ نومبر 2023 میں ایک ہفتے کی جنگ بندی اور جنوری 2025 میں دو ماہ کی عارضی جنگ بندی کے باوجود، دوحہ اور قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات اب تک کسی پائیدار معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274495</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 22:35:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/10222345f2632cf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/10222345f2632cf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
