<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے سائے میں امریکی وزیر خارجہ کا ایشیائی ممالک کا پہلا دورہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274466/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعرات کے روز جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ایشیا کا ان کا پہلا دورہ ہوگا جب سے انہوں نے اپنا منصب سنبھالا ہے۔ اس دورے کا مقصد خطے کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ واشنگٹن اب بھی اسے اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے، باوجود اس کے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی عالمی ٹیرف پالیسی میں اسی خطے کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، روبیو 10 رکنی آسیان  ممالک کے وزرائے خارجہ سے کوالالمپور میں ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان دنوں ملائیشیا کے دارالحکومت میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کا یہ دورہ اس امریکی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد انڈو پیسیفک خطے پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے تنازعات پر مرکوز رہی ہے۔ روبیو اس وقت بیک وقت وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر دونوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ٹرمپ کی عالمی ٹیرف حکمتِ عملی اس دورے پر اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ صدر نے 6 آسیان ممالک بشمول ملائیشیا اور قریبی شمال مشرقی ایشیائی اتحادیوں جاپان اور جنوبی کوریا پر  یکم اگست سے بھاری ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، مارکو روبیو کا مقصد ان شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے، جو ان ٹیرف پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ ماہرین کے مطابق، وہ اس بات پر زور دیں گے کہ امریکہ اب بھی چین کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، جو واشنگٹن کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں جغرافیائی سیاست اور خارجہ پالیسی شعبے کے سربراہ وِکٹر چا کے مطابق:
”یہ ایک اہم موقع ہے، اور چین کی سفارتی و اقتصادی یلغار کا توڑ کرنے کی ایک کوشش ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ خارجہ کے شیڈول کے مطابق، مارکو روبیو جمعرات کو لاوروف سے ایک اور ملاقات کریں گے۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری براہِ راست ملاقات ہوگی، ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے طویل ہونے پر صدر ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے خاصے نالاں نظر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے بھی جمعرات سے شروع ہونے والی بات چیت میں شامل ہونے کی توقع ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مارکو روبیو ان سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعرات کے روز جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ایشیا کا ان کا پہلا دورہ ہوگا جب سے انہوں نے اپنا منصب سنبھالا ہے۔ اس دورے کا مقصد خطے کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ واشنگٹن اب بھی اسے اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے، باوجود اس کے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی عالمی ٹیرف پالیسی میں اسی خطے کو نشانہ بنایا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، روبیو 10 رکنی آسیان  ممالک کے وزرائے خارجہ سے کوالالمپور میں ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان دنوں ملائیشیا کے دارالحکومت میں موجود ہیں۔</p>
<p>مارکو روبیو کا یہ دورہ اس امریکی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد انڈو پیسیفک خطے پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے تنازعات پر مرکوز رہی ہے۔ روبیو اس وقت بیک وقت وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر دونوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم، ٹرمپ کی عالمی ٹیرف حکمتِ عملی اس دورے پر اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ صدر نے 6 آسیان ممالک بشمول ملائیشیا اور قریبی شمال مشرقی ایشیائی اتحادیوں جاپان اور جنوبی کوریا پر  یکم اگست سے بھاری ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، مارکو روبیو کا مقصد ان شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے، جو ان ٹیرف پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ ماہرین کے مطابق، وہ اس بات پر زور دیں گے کہ امریکہ اب بھی چین کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، جو واشنگٹن کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف ہے۔</p>
<p>واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں جغرافیائی سیاست اور خارجہ پالیسی شعبے کے سربراہ وِکٹر چا کے مطابق:
”یہ ایک اہم موقع ہے، اور چین کی سفارتی و اقتصادی یلغار کا توڑ کرنے کی ایک کوشش ہے۔“</p>
<p>محکمہ خارجہ کے شیڈول کے مطابق، مارکو روبیو جمعرات کو لاوروف سے ایک اور ملاقات کریں گے۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری براہِ راست ملاقات ہوگی، ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے طویل ہونے پر صدر ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے خاصے نالاں نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p>چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے بھی جمعرات سے شروع ہونے والی بات چیت میں شامل ہونے کی توقع ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مارکو روبیو ان سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274466</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 11:36:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/10112843814bb28.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/10112843814bb28.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
