<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:34:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:34:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر میں تاریخی اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274462/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 25-2024 میں پاکستان نے ترسیلات زر میں تاریخی اضافہ دیکھا، جو بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں — یہ گزشتہ مالی سال 24-2023 کی 30.3 ارب ڈالر کی رقم کے مقابلے میں 26 سے 27 فیصد اضافہ ہے۔ یہ مضبوط ترقی نہ صرف ابتدائی تخمینوں سے زیادہ تھی بلکہ ملک کے تجارتی خسارے کو پورا کرنے میں اہم سہارا بنی۔ اوسطاً، ماہانہ ترسیلات زر 3.19 ارب ڈالر رہیں، جو پچھلے سال کے 2.52 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان ترسیلات نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور دس سال سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ میں فاضل رقم حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان رقوم نے افراطِ زر کے دباؤ میں کمی اور زرِمبادلہ کی شرح میں نسبتاً استحکام لانے میں بھی مدد دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 نے مالی سال کا اختتام 3.406 ارب ڈالر کی ترسیلات کے ساتھ کیا، جو جون 2024 کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد سالانہ اضافہ تھا۔ تاہم، یہ مئی 2025 کے مقابلے میں ماہانہ تقریباً 7.5 سے 8 فیصد کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ملک وار اعدادوشمار کے مطابق، جون میں سعودی عرب سے 823 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 717 ملین ڈالر، اور برطانیہ سے 538 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ سے ترسیلات میں 13 فیصد کمی آئی، جبکہ یورپی یونین سے آمدنی میں 34 فیصد تیزی سے اضافہ ہوا۔ اگرچہ خلیجی ممالک اب بھی ترسیلات زر کے اہم ذرائع ہیں، یورپی ممالک سے بڑھتی ہوئی ترسیلات نے ذرائع کو مزید متنوع بنانے میں مدد دی۔ یہ تبدیلی تارکین وطن کی نقل مکانی کے بدلتے رجحانات اور یورپ سے زیادہ مؤثر رسمی ذرائع سے رقوم کی ترسیل کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکہ سے کمی کی ممکنہ وجوہات میں وہاں کی کمزور اقتصادی صورتحال یا موسمی اثرات شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی کامیابی کے پیچھے کئی ڈھانچہ جاتی عوامل کارفرما رہے۔ حکومت کا پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی)، اور راست جیسے ڈیجیٹل ٹرانسفر نظاموں کے بڑھتے استعمال نے ترسیلات کو باضابطہ ذرائع سے لانے اور غیر رسمی چینلز پر انحصار کم کرنے میں مدد دی۔ روپے کی مستحکم شرح تبادلہ، میکرو اکنامک حالات میں بہتری، اور خلیجی ممالک میں محنت کشوں کی مانگ میں اضافہ بھی اس اضافہ کے محرکات میں شامل رہے۔ علاوہ ازیں، ترسیلات پر دی جانے والی مراعات اور نرم ضوابط نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو باضابطہ ذرائع کو ترجیح دینے پر آمادہ کیا۔ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی مزدوروں کی بڑھتی طلب اور عالمی اقتصادی بحالی کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر پورے سال مضبوط رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی موازنہ میں، بنگلہ دیش، بھارت، اور فلپائن نے ترسیلات کے فروغ کے لیے اہدافی حکمتِ عملیاں اپنائیں۔ مثلاً، بنگلہ دیش رسمی بینکاری چینلز سے بھیجی گئی ترسیلات پر نقد ترغیب فراہم کرتا ہے، جس نے غیر رسمی حوالہ/ہنڈی نظام سے رقوم کی منتقلی کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ بھارت اپنی وسیع اور متنوع ڈائسپورا کو قونصل خانوں کی فعال شمولیت، یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل سسٹمز، اور غیر مقیم بھارتیوں کو ٹیکس فوائد کے ذریعے مربوط رکھتا ہے۔ فلپائن اپنے اوورسیز ورکرز ویلفیئر ایڈمنسٹریشن (او ڈبلیو ڈبلیو اے) کے ذریعے باضابطہ ری انٹیگریشن پروگرامز اور بچت اسکیمیں فراہم کرتا ہے تاکہ بیرون ملک فلپائنی کارکن اپنی بچت واپس وطن میں سرمایہ کاری کی صورت میں منتقل کریں۔ ان ممالک کے مرکزی بینک، محنت کی وزارتوں، اور بیرون ملک مشنز کے درمیان مضبوط رابطہ ہوتا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم افراد کو درپیش مسائل کا فوری حل ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستان نے راست اور پی آر آئی جیسے اقدامات سے پیش رفت تو کی ہے لیکن تارکین وطن سے مؤثر روابط کے میدان میں اب بھی پیچھے ہے۔ مزدوروں میں مالی خواندگی کو فروغ دینا، دو طرفہ محنت کے معاہدوں کو مضبوط کرنا، اور سرمایہ کاری سے جُڑی ہوئی ترسیلات کی مصنوعات کو فروغ دینا، اس مسئلے کا حل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26-2025 کے لیے ترسیلات کا ہدف 39.4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس رفتار کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ تاہم، کچھ خطرات بھی لاحق ہیں، جن میں خلیجی معیشتوں کی ممکنہ سست روی، جیوپولیٹیکل تبدیلیاں، اور ملکی پالیسیوں میں عدم تسلسل شامل ہیں۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ممکن بنانے کے لیے پالیسی مراعات، بہتر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، اور تارکین وطن سے مضبوط روابط ناگزیر ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چیلنج صرف ترسیلات کو مالی سہارا بنانے کا نہیں بلکہ انھیں ایک جامع اقتصادی ترقی کے لیے محرک بنانے کا ہے تاکہ یہ رقوم صرف کھپت تک محدود نہ رہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری اور قومی ترقیاتی اہداف کے حصول میں استعمال ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 25-2024 میں پاکستان نے ترسیلات زر میں تاریخی اضافہ دیکھا، جو بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں — یہ گزشتہ مالی سال 24-2023 کی 30.3 ارب ڈالر کی رقم کے مقابلے میں 26 سے 27 فیصد اضافہ ہے۔ یہ مضبوط ترقی نہ صرف ابتدائی تخمینوں سے زیادہ تھی بلکہ ملک کے تجارتی خسارے کو پورا کرنے میں اہم سہارا بنی۔ اوسطاً، ماہانہ ترسیلات زر 3.19 ارب ڈالر رہیں، جو پچھلے سال کے 2.52 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان ترسیلات نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور دس سال سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ میں فاضل رقم حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان رقوم نے افراطِ زر کے دباؤ میں کمی اور زرِمبادلہ کی شرح میں نسبتاً استحکام لانے میں بھی مدد دی۔</strong></p>
<p>جون 2025 نے مالی سال کا اختتام 3.406 ارب ڈالر کی ترسیلات کے ساتھ کیا، جو جون 2024 کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد سالانہ اضافہ تھا۔ تاہم، یہ مئی 2025 کے مقابلے میں ماہانہ تقریباً 7.5 سے 8 فیصد کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ملک وار اعدادوشمار کے مطابق، جون میں سعودی عرب سے 823 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 717 ملین ڈالر، اور برطانیہ سے 538 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ سے ترسیلات میں 13 فیصد کمی آئی، جبکہ یورپی یونین سے آمدنی میں 34 فیصد تیزی سے اضافہ ہوا۔ اگرچہ خلیجی ممالک اب بھی ترسیلات زر کے اہم ذرائع ہیں، یورپی ممالک سے بڑھتی ہوئی ترسیلات نے ذرائع کو مزید متنوع بنانے میں مدد دی۔ یہ تبدیلی تارکین وطن کی نقل مکانی کے بدلتے رجحانات اور یورپ سے زیادہ مؤثر رسمی ذرائع سے رقوم کی ترسیل کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکہ سے کمی کی ممکنہ وجوہات میں وہاں کی کمزور اقتصادی صورتحال یا موسمی اثرات شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اس تاریخی کامیابی کے پیچھے کئی ڈھانچہ جاتی عوامل کارفرما رہے۔ حکومت کا پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی)، اور راست جیسے ڈیجیٹل ٹرانسفر نظاموں کے بڑھتے استعمال نے ترسیلات کو باضابطہ ذرائع سے لانے اور غیر رسمی چینلز پر انحصار کم کرنے میں مدد دی۔ روپے کی مستحکم شرح تبادلہ، میکرو اکنامک حالات میں بہتری، اور خلیجی ممالک میں محنت کشوں کی مانگ میں اضافہ بھی اس اضافہ کے محرکات میں شامل رہے۔ علاوہ ازیں، ترسیلات پر دی جانے والی مراعات اور نرم ضوابط نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو باضابطہ ذرائع کو ترجیح دینے پر آمادہ کیا۔ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی مزدوروں کی بڑھتی طلب اور عالمی اقتصادی بحالی کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر پورے سال مضبوط رہیں۔</p>
<p>علاقائی موازنہ میں، بنگلہ دیش، بھارت، اور فلپائن نے ترسیلات کے فروغ کے لیے اہدافی حکمتِ عملیاں اپنائیں۔ مثلاً، بنگلہ دیش رسمی بینکاری چینلز سے بھیجی گئی ترسیلات پر نقد ترغیب فراہم کرتا ہے، جس نے غیر رسمی حوالہ/ہنڈی نظام سے رقوم کی منتقلی کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ بھارت اپنی وسیع اور متنوع ڈائسپورا کو قونصل خانوں کی فعال شمولیت، یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل سسٹمز، اور غیر مقیم بھارتیوں کو ٹیکس فوائد کے ذریعے مربوط رکھتا ہے۔ فلپائن اپنے اوورسیز ورکرز ویلفیئر ایڈمنسٹریشن (او ڈبلیو ڈبلیو اے) کے ذریعے باضابطہ ری انٹیگریشن پروگرامز اور بچت اسکیمیں فراہم کرتا ہے تاکہ بیرون ملک فلپائنی کارکن اپنی بچت واپس وطن میں سرمایہ کاری کی صورت میں منتقل کریں۔ ان ممالک کے مرکزی بینک، محنت کی وزارتوں، اور بیرون ملک مشنز کے درمیان مضبوط رابطہ ہوتا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم افراد کو درپیش مسائل کا فوری حل ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستان نے راست اور پی آر آئی جیسے اقدامات سے پیش رفت تو کی ہے لیکن تارکین وطن سے مؤثر روابط کے میدان میں اب بھی پیچھے ہے۔ مزدوروں میں مالی خواندگی کو فروغ دینا، دو طرفہ محنت کے معاہدوں کو مضبوط کرنا، اور سرمایہ کاری سے جُڑی ہوئی ترسیلات کی مصنوعات کو فروغ دینا، اس مسئلے کا حل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 26-2025 کے لیے ترسیلات کا ہدف 39.4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس رفتار کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ تاہم، کچھ خطرات بھی لاحق ہیں، جن میں خلیجی معیشتوں کی ممکنہ سست روی، جیوپولیٹیکل تبدیلیاں، اور ملکی پالیسیوں میں عدم تسلسل شامل ہیں۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ممکن بنانے کے لیے پالیسی مراعات، بہتر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، اور تارکین وطن سے مضبوط روابط ناگزیر ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چیلنج صرف ترسیلات کو مالی سہارا بنانے کا نہیں بلکہ انھیں ایک جامع اقتصادی ترقی کے لیے محرک بنانے کا ہے تاکہ یہ رقوم صرف کھپت تک محدود نہ رہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری اور قومی ترقیاتی اہداف کے حصول میں استعمال ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274462</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 10:37:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/10103443ab49abf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="737" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/10103443ab49abf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
