<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ ہائیڈل پرافٹ پر وفاق اور صوبوں میں شدید اختلافات، مسئلہ سی سی آئی میں لے جانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274460/</link>
      <description>&lt;p&gt;**&lt;strong&gt;وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) اور صوبائی حکومتوں کے درمیان نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کے طریقہ کار اور پن بجلی منصوبوں کی صوبوں کو منتقلی کے معاملے پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ذرائع کے مطابق، فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تکنیکی کمیٹی کی سطح پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، واپڈا، صوبوں، اور پاور ڈویژن کے ماتحت ادارے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) پر مشتمل تکنیکی کمیٹی کی پانچویں میٹنگ 10 جنوری 2025 کو ہوئی، جس میں طے پایا کہ تمام فریق اگلی میٹنگ میں باقاعدہ تجاویز پیش کریں گے۔ ان سفارشات پر مبنی رپورٹ کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا حکومت  نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ این ایچ پی کی ادائیگی قاضی کمیٹی طریقہ کار (کے ایم سی) کے تحت کی جائے، جسے 1988 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، 1990 میں وفاقی کابینہ، اور 1991 میں سی سی آئی نے منظور کیا تھا۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے بھی گدون ٹیکسٹائل کیس (1997) میں اس کی توثیق کی تھی، اور آئین کے آرٹیکل 161(2) کے تحت یہ صوبے کا آئینی حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا نے تین اہم تجاویز پیش کیں:&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;آئینی ضمانت کے تحت وفاقی حکومت این ایچ پی کی ادائیگی کرے، جسے سی سی آئی نے 1993 سے 2022 تک متعدد اجلاسوں میں تسلیم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت پن بجلی منصوبوں کے پاور کمپوننٹ کو پی ایس ڈی پی کے تحت فنانس کرے، جیسا کہ ڈیم کمپوننٹ کے لیے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;واپڈا کی ملکیت میں موجود پن بجلی گھر متعلقہ صوبوں کو منتقل کیے جائیں تاکہ آمدن براہِ راست این ایچ پی کی ادائیگی میں استعمال ہو سکے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے بھی اس قسم کی تجویز پہلے دی جا چکی ہے۔ واپڈا او اینڈ ایم (آپریشن اور مینٹیننس) اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;جب تک حتمی حل طے نہیں پاتا، صارفین کے بجلی ٹیرف میں 1 روپے فی یونٹ اضافہ کر کے عارضی بندوبست کے تحت مطلوبہ فنڈز اکٹھے کیے جائیں۔ یہ رقم ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے براہ راست صوبوں کو سی پی پی اے-جی کے ذریعے ادا کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت نے مزید مطالبہ کیا کہ پروونشل انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پی ای ڈی او) کو پہرو ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے نرخ پر 1500 میگاواٹ تک بجلی وہیل کرنے کی سہولت دی جائے، اور واٹر یوزیج چارجز بھی بڑھا کر 3 روپے فی یونٹ کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب حکومت نے کمیٹی کے مینڈیٹ میں تبدیلی پر اعتراض اٹھایا، جس کے تحت اصل شرائط کار — ”این ایچ پی کے تعین کا طریقہ کار طے کرنا“ — کو تبدیل کر کے ”ادائیگی کا کوئی متبادل طریقہ تجویز کرنا“ بنا دیا گیا۔ پنجاب کا مؤقف ہے کہ جب تک آرٹیکل 161(2) کے تحت طریقہ کار واضح نہیں کیا جاتا، ادائیگی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب نے کہا کہ قاضی کمیٹی طریقہ کار میں صرف بجلی پیداوار پر ہونے والے نقصانات شامل کیے جاتے ہیں جبکہ ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور کمرشل نقصانات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو آئینی طور پر درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بجلی کے پیداواری ذرائع میں تبدیلی آئی ہے، ہائیڈل کا حصہ 60 فیصد سے گھٹ کر 23 فیصد رہ گیا ہے جبکہ تھرمل ذرائع کا حصہ 70 فیصد ہو چکا ہے۔ مزید برآں، بجلی کے ٹیرف میں شامل اجزاء جیسے کیپیسیٹی پرچیز پرائس، ڈسٹری بیوشن مارجن، ٹیکسز، اور دیگر لاگتیں این ایچ پی کی آمدن میں شمار نہیں کی جا سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی آئی کے 41ویں اور 49ویں اجلاس کے مطابق، آئندہ سالوں میں بجلی کے نرخ 4.50 روپے سے بڑھ کر 7.50 روپے ہو سکتے ہیں جبکہ سرکلر ڈیٹ 2030 تک 7 کھرب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، تمام تجاویز پر غور کے بعد متفقہ رپورٹ سی سی آئی کو پیش کی جائے گی تاکہ این ایچ پی کا تنازع مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>**<strong>وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) اور صوبائی حکومتوں کے درمیان نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کے طریقہ کار اور پن بجلی منصوبوں کی صوبوں کو منتقلی کے معاملے پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔</strong></p>
<p>وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ذرائع کے مطابق، فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تکنیکی کمیٹی کی سطح پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، واپڈا، صوبوں، اور پاور ڈویژن کے ماتحت ادارے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) پر مشتمل تکنیکی کمیٹی کی پانچویں میٹنگ 10 جنوری 2025 کو ہوئی، جس میں طے پایا کہ تمام فریق اگلی میٹنگ میں باقاعدہ تجاویز پیش کریں گے۔ ان سفارشات پر مبنی رپورٹ کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو پیش کی جائے گی۔</p>
<p>خیبرپختونخوا حکومت  نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ این ایچ پی کی ادائیگی قاضی کمیٹی طریقہ کار (کے ایم سی) کے تحت کی جائے، جسے 1988 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، 1990 میں وفاقی کابینہ، اور 1991 میں سی سی آئی نے منظور کیا تھا۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے بھی گدون ٹیکسٹائل کیس (1997) میں اس کی توثیق کی تھی، اور آئین کے آرٹیکل 161(2) کے تحت یہ صوبے کا آئینی حق ہے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا نے تین اہم تجاویز پیش کیں:</p>
<ol>
<li>
<p>آئینی ضمانت کے تحت وفاقی حکومت این ایچ پی کی ادائیگی کرے، جسے سی سی آئی نے 1993 سے 2022 تک متعدد اجلاسوں میں تسلیم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت پن بجلی منصوبوں کے پاور کمپوننٹ کو پی ایس ڈی پی کے تحت فنانس کرے، جیسا کہ ڈیم کمپوننٹ کے لیے کیا جاتا ہے۔</p>
</li>
<li>
<p>واپڈا کی ملکیت میں موجود پن بجلی گھر متعلقہ صوبوں کو منتقل کیے جائیں تاکہ آمدن براہِ راست این ایچ پی کی ادائیگی میں استعمال ہو سکے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے بھی اس قسم کی تجویز پہلے دی جا چکی ہے۔ واپڈا او اینڈ ایم (آپریشن اور مینٹیننس) اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔</p>
</li>
<li>
<p>جب تک حتمی حل طے نہیں پاتا، صارفین کے بجلی ٹیرف میں 1 روپے فی یونٹ اضافہ کر کے عارضی بندوبست کے تحت مطلوبہ فنڈز اکٹھے کیے جائیں۔ یہ رقم ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے براہ راست صوبوں کو سی پی پی اے-جی کے ذریعے ادا کی جائے۔</p>
</li>
</ol>
<p>صوبائی حکومت نے مزید مطالبہ کیا کہ پروونشل انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پی ای ڈی او) کو پہرو ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے نرخ پر 1500 میگاواٹ تک بجلی وہیل کرنے کی سہولت دی جائے، اور واٹر یوزیج چارجز بھی بڑھا کر 3 روپے فی یونٹ کیے جائیں۔</p>
<p>پنجاب حکومت نے کمیٹی کے مینڈیٹ میں تبدیلی پر اعتراض اٹھایا، جس کے تحت اصل شرائط کار — ”این ایچ پی کے تعین کا طریقہ کار طے کرنا“ — کو تبدیل کر کے ”ادائیگی کا کوئی متبادل طریقہ تجویز کرنا“ بنا دیا گیا۔ پنجاب کا مؤقف ہے کہ جب تک آرٹیکل 161(2) کے تحت طریقہ کار واضح نہیں کیا جاتا، ادائیگی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>پنجاب نے کہا کہ قاضی کمیٹی طریقہ کار میں صرف بجلی پیداوار پر ہونے والے نقصانات شامل کیے جاتے ہیں جبکہ ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور کمرشل نقصانات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو آئینی طور پر درست نہیں۔</p>
<p>پنجاب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بجلی کے پیداواری ذرائع میں تبدیلی آئی ہے، ہائیڈل کا حصہ 60 فیصد سے گھٹ کر 23 فیصد رہ گیا ہے جبکہ تھرمل ذرائع کا حصہ 70 فیصد ہو چکا ہے۔ مزید برآں، بجلی کے ٹیرف میں شامل اجزاء جیسے کیپیسیٹی پرچیز پرائس، ڈسٹری بیوشن مارجن، ٹیکسز، اور دیگر لاگتیں این ایچ پی کی آمدن میں شمار نہیں کی جا سکتیں۔</p>
<p>سی سی آئی کے 41ویں اور 49ویں اجلاس کے مطابق، آئندہ سالوں میں بجلی کے نرخ 4.50 روپے سے بڑھ کر 7.50 روپے ہو سکتے ہیں جبکہ سرکلر ڈیٹ 2030 تک 7 کھرب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، تمام تجاویز پر غور کے بعد متفقہ رپورٹ سی سی آئی کو پیش کی جائے گی تاکہ این ایچ پی کا تنازع مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274460</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 09:48:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/10094552418f536.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/10094552418f536.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
