<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: فیول سوئچز تحقیقات کا مرکز، ابتدائی رپورٹ جلد آنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274431/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جون میں احمد آباد سے لندن روانہ ہونے والے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جمعہ تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ حادثے میں طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ زمین پر موجود افراد بھی متاثر ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیق کا مرکز طیارے کے فیول کنٹرول سوئچز کی حرکت پر ہے۔ بوئنگ کی جانب سے طیارے کے آخری لمحات کی سمیولیشن اور فلائٹ ریکارڈرز کے تجزیے کے بعد اس پہلو پر توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حادثے میں فی الحال کسی واضح مکینیکل خرابی کا شبہ سامنے نہیں آیا، اور 787 کے آپریشنز میں تبدیلی کے لیے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوئنگ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایوی ایشن جریدے ”دی ایئر کرنٹ“ کے مطابق فیول سوئچز کی حرکت غیر ارادی، غیر محتاط یا ممکنہ طور پر دانستہ بھی ہو سکتی ہے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق فیول سوئچز کو حادثاتی طور پر حرکت دینا آسان نہیں ہوتا۔ اگر کسی انجن کا فیول سوئچ بند کر دیا جائے تو فوراً طاقت ختم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے بعد بلیک باکس کا ڈیٹا حاصل کرنے میں دو ہفتے لگے، جس پر حکومت کو تنقید کا سامنا رہا۔ بھارت نے ابتدائی طور پر اقوامِ متحدہ کے ماہر کو تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنانے سے انکار کیا تھا، لیکن بعد میں ان کو مبصر کی حیثیت سے اجازت دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حادثہ ٹاٹا گروپ کی جانب سے ایئر انڈیا کو جدید بنانے اور اس کی ساکھ بحال کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایک پارلیمانی کمیٹی نے بھی بدھ کے روز ہوابازی کی حفاظت پر اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں حالیہ حادثے پر سوالات اٹھائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جون میں احمد آباد سے لندن روانہ ہونے والے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جمعہ تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ حادثے میں طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ زمین پر موجود افراد بھی متاثر ہوئے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیق کا مرکز طیارے کے فیول کنٹرول سوئچز کی حرکت پر ہے۔ بوئنگ کی جانب سے طیارے کے آخری لمحات کی سمیولیشن اور فلائٹ ریکارڈرز کے تجزیے کے بعد اس پہلو پر توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حادثے میں فی الحال کسی واضح مکینیکل خرابی کا شبہ سامنے نہیں آیا، اور 787 کے آپریشنز میں تبدیلی کے لیے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔</p>
<p>بوئنگ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایوی ایشن جریدے ”دی ایئر کرنٹ“ کے مطابق فیول سوئچز کی حرکت غیر ارادی، غیر محتاط یا ممکنہ طور پر دانستہ بھی ہو سکتی ہے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق فیول سوئچز کو حادثاتی طور پر حرکت دینا آسان نہیں ہوتا۔ اگر کسی انجن کا فیول سوئچ بند کر دیا جائے تو فوراً طاقت ختم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>حادثے کے بعد بلیک باکس کا ڈیٹا حاصل کرنے میں دو ہفتے لگے، جس پر حکومت کو تنقید کا سامنا رہا۔ بھارت نے ابتدائی طور پر اقوامِ متحدہ کے ماہر کو تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنانے سے انکار کیا تھا، لیکن بعد میں ان کو مبصر کی حیثیت سے اجازت دے دی گئی۔</p>
<p>یہ حادثہ ٹاٹا گروپ کی جانب سے ایئر انڈیا کو جدید بنانے اور اس کی ساکھ بحال کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایک پارلیمانی کمیٹی نے بھی بدھ کے روز ہوابازی کی حفاظت پر اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں حالیہ حادثے پر سوالات اٹھائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274431</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Jul 2025 11:45:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/0911414582d31eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/0911414582d31eb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
