<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی بحران: منافع نجی شعبے کا، بوجھ عوام پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274424/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یعنی حکومت نے پچھلے مالی سال میں 8 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس سے نجی شعبے نے تقریباً 400 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا۔ اب وہی حکومت فوری طور پر سرکاری شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوں؟ کیونکہ چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے — رواں کیلنڈر سال کے آغاز سے اب تک 37 فیصد اور اس ہفتے سالانہ 26 فیصد اضافہ۔ یہ گزشتہ دہائی کے دوران دوسرا سب سے بڑا اضافہ ہے، جس سے صرف 2023 کا وہ تاریخی 50 فیصد اضافہ بڑا تھا، جب ہیڈ لائن مہنگائی 35 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس بار پس منظر بالکل مختلف ہے۔ 2023 میں قیمتوں کے طوفان کی وجہ 2022 کے مون سون سیلاب سے گنے کی فصل کی جزوی تباہی تھی، جس سے پیداوار میں 15 فیصد کمی آئی۔ اُس وقت پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے قریب تھی، زرِ مبادلہ کی قدر تیزی سے گر رہی تھی، اور اجناس کی قیمتیں بےقابو ہو چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/686de1d5a968d.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، آج چینی کی مقامی قیمتیں اس وقت بڑھ رہی ہیں جب ملک میں ”ڈس انفلیشن“ یعنی مہنگائی میں کمی کی فضا پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں خوراک کی مہنگائی منفی زون میں داخل ہو چکی ہے۔ ایکسچینج ریٹ نسبتاً مستحکم ہے، معمولی گراوٹ کے ساتھ۔ معاشی استحکام، کم از کم سطحی طور پر، بہتر نظر آ رہا ہے۔ دیگر بڑی اجناس کی قیمتیں یا تو کم ہو رہی ہیں یا ایک محدود دائرے میں گھوم رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر چینی اس سب سے الگ نظر آتی ہے۔ آئندہ کرشنگ سیزن کے آغاز میں ابھی چار ماہ باقی ہیں اور مانگ میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا جا رہا، مگر قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ چونکہ نجی شعبے نے پہلے ہی سالانہ پیداوار کا 15 فیصد ”برآمدات کے قابل سرپلس“ کے نام پر برآمد کر دیا ہے، اس لیے موجودہ سپلائی کی کمی اور موزوں وقت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ بالکل معقول طور پر زیادہ قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ کیونکہ جب پیداوار ایک محدود خام مال پر منحصر ہو، جو صرف ملک کے اندر سے حاصل کیا جا سکتا ہے، اور جب نجی شعبے کی درآمدات پر مکمل پابندی ہو، تو قیمتیں بڑھنا ہی تھیں — کیونکہ نظام نے ایسا ہونے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چینی کی برآمد کی اجازت دینا غلط فیصلہ تھا۔ دراصل اصل پالیسی ناکامی آزاد تجارت پر پابندی لگانا تھی۔ عالمی منڈی میں چینی کی قیمتیں گزشتہ اکتوبر سے اب تک تقریباً 100 ڈالر فی ٹن یعنی 20 فیصد کم ہو چکی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ برآمد کی اجازت دینا بذات خود کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا — بلکہ ایک دانشمندانہ قدم تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے ساتھ ہی درآمدات پر مکمل پابندی لگا دی۔ اس نے ملکی ذخائر کو ختم یا چھپا دیا، اور صارفین کو بین الاقوامی منڈی سے سستی چینی حاصل کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب درآمدات کی اجازت دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ شاید نہیں۔ اول، یہ درآمدات سرکاری شعبہ کرے گا، جس کے ساتھ نااہلی، خریداری میں تاخیر اور سرکاری طریقہ کار کی سست روی جیسے مسائل جُڑے ہوتے ہیں۔ نجی تاجر اگر کم قیمت پر خرید کر منافع کے حصول کی کوشش کرتے تو زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔ مگر اب یہ نقصان حکومت برداشت کرے گی۔ یعنی برآمدات سے حاصل منافع نجی شعبے نے حاصل کیا، اور اب درآمدات کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، ریٹیل قیمتیں عام طور پر اتنی تیزی سے کم نہیں ہوتیں جتنی تیزی سے بڑھتی ہیں۔ یعنی اگر درآمد شدہ چینی آنے کے بعد صارف قیمتوں میں کچھ کمی بھی ہوئی، تب بھی نئی قیمتوں کی نچلی حد پہلے سے بلند ہو چکی ہو گی۔ جس کا مطلب ہے کہ جب اگلا کرشنگ سیزن شروع ہو گا، تو ابتدائی قیمتیں پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، اس درآمدی فیصلے کا وقت بھی انتہائی غیر مناسب ہے۔ یہ درآمدات اسی وقت پہنچیں گی جب نئی فصل کی کٹائی شروع ہو گی۔ سستی درآمدی چینی کی آمد مقامی منڈی میں قیمتیں گرا دے گی۔ یہ کمی بالآخر خام مال یعنی گنے کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی۔ اگرچہ ممکن ہے کہ گنے کی قیمتیں کم نہ ہوں، لیکن وہ اس سطح تک بھی نہیں پہنچ پائیں گی جو بغیر درآمدات کے ممکن ہو سکتی تھیں۔ یوں، جب ملز اور تاجر ریکارڈ منافع کما چکے ہوں گے، کسانوں کو اُس وقت کم قیمتوں کا سامنا ہو گا جب اُن کا فصل بیچنے کا وقت آئے گا۔ اور یہ ہرگز انصاف نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم چاہیں تو ذخیرہ اندوزوں، تاجروں، مل مالکان اور دلالوں کو الزام دے سکتے ہیں۔ مگر نجی شعبے کی حرص یا دھوکہ دہی جتنا نقصان بھی کر لے، وہ اُس بربادی کے برابر نہیں ہو سکتی جو ناقص، غیر مربوط اور بے ترتیب پالیسی سازی سے ہوتی ہے۔ اور یہی اس پورے مسئلے کی اصل جڑ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یعنی حکومت نے پچھلے مالی سال میں 8 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس سے نجی شعبے نے تقریباً 400 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا۔ اب وہی حکومت فوری طور پر سرکاری شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>کیوں؟ کیونکہ چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے — رواں کیلنڈر سال کے آغاز سے اب تک 37 فیصد اور اس ہفتے سالانہ 26 فیصد اضافہ۔ یہ گزشتہ دہائی کے دوران دوسرا سب سے بڑا اضافہ ہے، جس سے صرف 2023 کا وہ تاریخی 50 فیصد اضافہ بڑا تھا، جب ہیڈ لائن مہنگائی 35 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔</p>
<p>لیکن اس بار پس منظر بالکل مختلف ہے۔ 2023 میں قیمتوں کے طوفان کی وجہ 2022 کے مون سون سیلاب سے گنے کی فصل کی جزوی تباہی تھی، جس سے پیداوار میں 15 فیصد کمی آئی۔ اُس وقت پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے قریب تھی، زرِ مبادلہ کی قدر تیزی سے گر رہی تھی، اور اجناس کی قیمتیں بےقابو ہو چکی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/686de1d5a968d.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کے برعکس، آج چینی کی مقامی قیمتیں اس وقت بڑھ رہی ہیں جب ملک میں ”ڈس انفلیشن“ یعنی مہنگائی میں کمی کی فضا پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں خوراک کی مہنگائی منفی زون میں داخل ہو چکی ہے۔ ایکسچینج ریٹ نسبتاً مستحکم ہے، معمولی گراوٹ کے ساتھ۔ معاشی استحکام، کم از کم سطحی طور پر، بہتر نظر آ رہا ہے۔ دیگر بڑی اجناس کی قیمتیں یا تو کم ہو رہی ہیں یا ایک محدود دائرے میں گھوم رہی ہیں۔</p>
<p>مگر چینی اس سب سے الگ نظر آتی ہے۔ آئندہ کرشنگ سیزن کے آغاز میں ابھی چار ماہ باقی ہیں اور مانگ میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا جا رہا، مگر قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ چونکہ نجی شعبے نے پہلے ہی سالانہ پیداوار کا 15 فیصد ”برآمدات کے قابل سرپلس“ کے نام پر برآمد کر دیا ہے، اس لیے موجودہ سپلائی کی کمی اور موزوں وقت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ بالکل معقول طور پر زیادہ قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ کیونکہ جب پیداوار ایک محدود خام مال پر منحصر ہو، جو صرف ملک کے اندر سے حاصل کیا جا سکتا ہے، اور جب نجی شعبے کی درآمدات پر مکمل پابندی ہو، تو قیمتیں بڑھنا ہی تھیں — کیونکہ نظام نے ایسا ہونے دیا۔</p>
<p>لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چینی کی برآمد کی اجازت دینا غلط فیصلہ تھا۔ دراصل اصل پالیسی ناکامی آزاد تجارت پر پابندی لگانا تھی۔ عالمی منڈی میں چینی کی قیمتیں گزشتہ اکتوبر سے اب تک تقریباً 100 ڈالر فی ٹن یعنی 20 فیصد کم ہو چکی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ برآمد کی اجازت دینا بذات خود کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا — بلکہ ایک دانشمندانہ قدم تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے ساتھ ہی درآمدات پر مکمل پابندی لگا دی۔ اس نے ملکی ذخائر کو ختم یا چھپا دیا، اور صارفین کو بین الاقوامی منڈی سے سستی چینی حاصل کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب درآمدات کی اجازت دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ شاید نہیں۔ اول، یہ درآمدات سرکاری شعبہ کرے گا، جس کے ساتھ نااہلی، خریداری میں تاخیر اور سرکاری طریقہ کار کی سست روی جیسے مسائل جُڑے ہوتے ہیں۔ نجی تاجر اگر کم قیمت پر خرید کر منافع کے حصول کی کوشش کرتے تو زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔ مگر اب یہ نقصان حکومت برداشت کرے گی۔ یعنی برآمدات سے حاصل منافع نجی شعبے نے حاصل کیا، اور اب درآمدات کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسرا، ریٹیل قیمتیں عام طور پر اتنی تیزی سے کم نہیں ہوتیں جتنی تیزی سے بڑھتی ہیں۔ یعنی اگر درآمد شدہ چینی آنے کے بعد صارف قیمتوں میں کچھ کمی بھی ہوئی، تب بھی نئی قیمتوں کی نچلی حد پہلے سے بلند ہو چکی ہو گی۔ جس کا مطلب ہے کہ جب اگلا کرشنگ سیزن شروع ہو گا، تو ابتدائی قیمتیں پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہوں گی۔</p>
<p>تیسرا، اس درآمدی فیصلے کا وقت بھی انتہائی غیر مناسب ہے۔ یہ درآمدات اسی وقت پہنچیں گی جب نئی فصل کی کٹائی شروع ہو گی۔ سستی درآمدی چینی کی آمد مقامی منڈی میں قیمتیں گرا دے گی۔ یہ کمی بالآخر خام مال یعنی گنے کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی۔ اگرچہ ممکن ہے کہ گنے کی قیمتیں کم نہ ہوں، لیکن وہ اس سطح تک بھی نہیں پہنچ پائیں گی جو بغیر درآمدات کے ممکن ہو سکتی تھیں۔ یوں، جب ملز اور تاجر ریکارڈ منافع کما چکے ہوں گے، کسانوں کو اُس وقت کم قیمتوں کا سامنا ہو گا جب اُن کا فصل بیچنے کا وقت آئے گا۔ اور یہ ہرگز انصاف نہیں۔</p>
<p>ہم چاہیں تو ذخیرہ اندوزوں، تاجروں، مل مالکان اور دلالوں کو الزام دے سکتے ہیں۔ مگر نجی شعبے کی حرص یا دھوکہ دہی جتنا نقصان بھی کر لے، وہ اُس بربادی کے برابر نہیں ہو سکتی جو ناقص، غیر مربوط اور بے ترتیب پالیسی سازی سے ہوتی ہے۔ اور یہی اس پورے مسئلے کی اصل جڑ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274424</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Jul 2025 11:05:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/0910184082cd436.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/0910184082cd436.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
