<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:43:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:43:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گزشتہ مالی سال بجٹ سپورٹ کیلئے قرضوں میں 30 فیصد کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274414/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کی مالی نظم و ضبط میں بہتری کے اہم اشارے کے طور پر گزشتہ مالی سال (25-2024) کے دوران بجٹ معاونت کے لیے لئے جانے والے قرض  میں بڑی کمی دیکھی گئی، جو کہ اخراجات پر سخت کنٹرول اور مالی نظم و ضبط کی بدولت ممکن ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے منگل کے روز یکم جولائی 2024 سے 27 جون 2025 کے عرصے کے دوران قرض گیری کے اعداد و شمار جاری کیے، جن کے مطابق وفاقی حکومت کی بجٹ معاونت کے لیے مجموعی قرض گیری (اسٹیٹ بینک اور شیڈیولڈ بینکوں سے) 7.89 کھرب روپے سے کم ہو کر 5.554 کھرب روپے پر آ گئی، یعنی 2.336 کھرب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ تقریباً 30 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر قرضے شیڈیولڈ بینکوں سے لیے گئے، کیونکہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک سے براہ راست قرض گیری پر کچھ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس عرصے کے دوران وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 276.5 ارب روپے کا قرض لیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 608.3 ارب روپے کا قرض واپس کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، شیڈیولڈ بینکوں سے بجٹ معاونت کے لیے قرضے میں بھی 38 فیصد یعنی 3.22 کھرب روپے کی نمایاں کمی ہوئی۔ مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر وفاقی حکومت نے شیڈیولڈ بینکوں سے 5.277 کھرب روپے قرض لیا، جو گزشتہ مالی سال کے 8.498 کھرب روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین معیشت کے مطابق ہدف سے کم ریونیو وصولی اور غیر ملکی مالی معاونت کے سست رفتار ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مقامی بینکنگ نظام پر انحصار کرنا پڑا۔ تاہم، مثبت پہلو یہ ہے کہ قرض گیری میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے حکومت کو منتقل کیے گئے 3.4 کھرب روپے کے ریکارڈ منافع کی بدولت ممکن ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کے منافع نے حکومت کو پہلی مرتبہ حکومتی سیکیورٹیز کی بائی بیک نیلامی کرانے کا موقع بھی فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے مالی ذمہ داری کے تحت ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے مالی سال 25-2024 میں 1.5 کھرب روپے کے عوامی قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کی۔ حال ہی میں اسٹیٹ بینک سے لیا گیا 500 ارب روپے کا قرض 2029 کی مقررہ مدت سے چار سال پہلے واپس کیا گیا، جبکہ مارکیٹ سے لیا گیا 1 کھرب روپے کا قرض دسمبر 2024 تک واپس کیا جا چکا ہے۔ ان ادائیگیوں سے پاکستان کے مالیاتی اشاریوں میں بہتری آئی اور قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 69 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کی بات کی جائے تو انہوں نے بھی 1 جولائی 2024 سے 27 جون 2025 کے دوران اسٹیٹ بینک اور شیڈیولڈ بینکوں کو 532 ارب روپے واپس کیے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے دوران واپس کیے گئے 387.5 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں صوبوں نے مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک کو 170 ارب روپے واپس کیے۔ انفرادی طور پر بلوچستان نے 8.2 ارب روپے، سندھ نے 145 ارب روپے، اور پنجاب نے 28.5 ارب روپے کی واپسی کی۔ تاہم خیبرپختونخوا نے اس عرصے میں مالی ضروریات کے لیے اسٹیٹ بینک سے 12 ارب روپے کا قرض لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، آزاد جموں و کشمیر حکومت نے 15 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان حکومت نے 7 ارب روپے کے قرضے واپس کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کی مالی نظم و ضبط میں بہتری کے اہم اشارے کے طور پر گزشتہ مالی سال (25-2024) کے دوران بجٹ معاونت کے لیے لئے جانے والے قرض  میں بڑی کمی دیکھی گئی، جو کہ اخراجات پر سخت کنٹرول اور مالی نظم و ضبط کی بدولت ممکن ہوئی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے منگل کے روز یکم جولائی 2024 سے 27 جون 2025 کے عرصے کے دوران قرض گیری کے اعداد و شمار جاری کیے، جن کے مطابق وفاقی حکومت کی بجٹ معاونت کے لیے مجموعی قرض گیری (اسٹیٹ بینک اور شیڈیولڈ بینکوں سے) 7.89 کھرب روپے سے کم ہو کر 5.554 کھرب روپے پر آ گئی، یعنی 2.336 کھرب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ تقریباً 30 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>زیادہ تر قرضے شیڈیولڈ بینکوں سے لیے گئے، کیونکہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک سے براہ راست قرض گیری پر کچھ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس عرصے کے دوران وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 276.5 ارب روپے کا قرض لیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 608.3 ارب روپے کا قرض واپس کیا گیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب، شیڈیولڈ بینکوں سے بجٹ معاونت کے لیے قرضے میں بھی 38 فیصد یعنی 3.22 کھرب روپے کی نمایاں کمی ہوئی۔ مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر وفاقی حکومت نے شیڈیولڈ بینکوں سے 5.277 کھرب روپے قرض لیا، جو گزشتہ مالی سال کے 8.498 کھرب روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p>ماہرین معیشت کے مطابق ہدف سے کم ریونیو وصولی اور غیر ملکی مالی معاونت کے سست رفتار ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مقامی بینکنگ نظام پر انحصار کرنا پڑا۔ تاہم، مثبت پہلو یہ ہے کہ قرض گیری میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے حکومت کو منتقل کیے گئے 3.4 کھرب روپے کے ریکارڈ منافع کی بدولت ممکن ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کے منافع نے حکومت کو پہلی مرتبہ حکومتی سیکیورٹیز کی بائی بیک نیلامی کرانے کا موقع بھی فراہم کیا۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے مالی ذمہ داری کے تحت ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے مالی سال 25-2024 میں 1.5 کھرب روپے کے عوامی قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کی۔ حال ہی میں اسٹیٹ بینک سے لیا گیا 500 ارب روپے کا قرض 2029 کی مقررہ مدت سے چار سال پہلے واپس کیا گیا، جبکہ مارکیٹ سے لیا گیا 1 کھرب روپے کا قرض دسمبر 2024 تک واپس کیا جا چکا ہے۔ ان ادائیگیوں سے پاکستان کے مالیاتی اشاریوں میں بہتری آئی اور قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 69 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>صوبائی حکومتوں کی بات کی جائے تو انہوں نے بھی 1 جولائی 2024 سے 27 جون 2025 کے دوران اسٹیٹ بینک اور شیڈیولڈ بینکوں کو 532 ارب روپے واپس کیے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے دوران واپس کیے گئے 387.5 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں صوبوں نے مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک کو 170 ارب روپے واپس کیے۔ انفرادی طور پر بلوچستان نے 8.2 ارب روپے، سندھ نے 145 ارب روپے، اور پنجاب نے 28.5 ارب روپے کی واپسی کی۔ تاہم خیبرپختونخوا نے اس عرصے میں مالی ضروریات کے لیے اسٹیٹ بینک سے 12 ارب روپے کا قرض لیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں، آزاد جموں و کشمیر حکومت نے 15 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان حکومت نے 7 ارب روپے کے قرضے واپس کیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274414</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Jul 2025 08:44:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/090842573868ce5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/090842573868ce5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
