<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:15:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:15:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا سالانہ 7.2 کھرب روپے قرض بوجھ ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ ہونا چاہیے، تھنک ٹینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274411/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی پالیسی و بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نامی تھنک ٹینک نے پاکستان کے قرضوں کے استعمال میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرض سے حاصل ہونے والے وسائل کو غیر پیداواری اخراجات کے بجائے معیشت کو ترقی دینے والی سرمایہ کاری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کا سالانہ 7.2 کھرب روپے کا قرض بوجھ بینکوں کے منافع اور ناکارہ سرکاری اداروں کو سبسڈی دینے کے بجائے ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یواین ڈی پی) کی تازہ رپورٹ میں شائع ہونے والے عالمی بینک کے مضمون نے اس موقف کی تائید کی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قرض ”زیادہ تر کھپت کے لیے استعمال ہوتا ہے، سرمایہ کاری کے لیے نہیں“، اور یہ کہ ”سرکاری قرضے نجی شعبے کے لیے دستیاب قرضوں کی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 28 فیصد کے برابر نیا قرض حاصل کرتا ہے لیکن اس میں سے صرف 2 فیصد ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ پچھلے 15 برسوں میں موجودہ اخراجات اور حقیقی ترقیاتی اخراجات کا تناسب 2.2:1 سے بگڑ کر 10.3:1 ہو گیا ہے، جو وسائل کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ موجودہ قرض پالیسی کے تحت سرکاری بانڈز کے ذریعے بینکوں کو منافع بخش اور یقینی منافع فراہم کیا جاتا ہے جبکہ ریاستی اداروں کو دی جانے والی سبسڈی معاشی منافع پیدا نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کا کہنا تھا کہ قرض کو پیداواری سرگرمیوں جیسے کہ صنعتی توسیع، برآمدی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اپنانے اور نجی شعبے کی ترقی پر خرچ کیا جانا چاہیے تاکہ روزگار پیدا ہو اور قرضوں کی واپسی کے قابل معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستانی کاروباروں کو اوسطاً 11 فیصد شرح سود پر فنانسنگ دستیاب ہے جو علاقائی اوسط (5.5 فیصد) سے دگنی ہے، جس سے ان کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے جبکہ بینک سرکاری فنڈز سے بغیر کسی رسک کے منافع کما رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کے مطابق اگر پالیسی ریٹ کو 11 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دیا جائے تو حکومت سالانہ تقریباً 3 ٹریلین روپے بچا سکتی ہے، جو کہ اس وقت بینکاری شعبے کو منتقل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے مزید کہا ہے کہ عالمی بینک کی تصدیق کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025 میں بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قرض کے استعمال کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے لیے مالی گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ علاقائی حریف ممالک قرض کو صنعتی ترقی اور کاروباری وسعت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے انہیں 6 فیصد سالانہ ترقی حاصل ہو رہی ہے جبکہ پاکستان بینکوں اور ناکام سرکاری اداروں کو سبسڈی دے کر قرض کے فوائد ضائع کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو دو میں سے ایک راستہ چننا ہوگا: یا تو قرض کے ضیاع کا وہ موجودہ طریقہ اختیار رکھے جو مالیاتی اداروں اور سرکاری اداروں کو فائدہ دیتا ہے، یا پھر قرض کو پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرے تاکہ معیشت کی اصل صلاحیت میں اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے زور دیا کہ پالیسی میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ حاصل کردہ قرض کو غیر پیداواری کھپت کے بجائے صنعتی ترقی، برآمدی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور نجی شعبے کی وسعت پر خرچ کیا جائے، جو نہ صرف پائیدار منافع دے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاشی پالیسی و بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نامی تھنک ٹینک نے پاکستان کے قرضوں کے استعمال میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرض سے حاصل ہونے والے وسائل کو غیر پیداواری اخراجات کے بجائے معیشت کو ترقی دینے والی سرمایہ کاری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔</strong></p>
<p>ای پی بی ڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کا سالانہ 7.2 کھرب روپے کا قرض بوجھ بینکوں کے منافع اور ناکارہ سرکاری اداروں کو سبسڈی دینے کے بجائے ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔</p>
<p>تھنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یواین ڈی پی) کی تازہ رپورٹ میں شائع ہونے والے عالمی بینک کے مضمون نے اس موقف کی تائید کی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قرض ”زیادہ تر کھپت کے لیے استعمال ہوتا ہے، سرمایہ کاری کے لیے نہیں“، اور یہ کہ ”سرکاری قرضے نجی شعبے کے لیے دستیاب قرضوں کی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں۔“</p>
<p>ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 28 فیصد کے برابر نیا قرض حاصل کرتا ہے لیکن اس میں سے صرف 2 فیصد ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ پچھلے 15 برسوں میں موجودہ اخراجات اور حقیقی ترقیاتی اخراجات کا تناسب 2.2:1 سے بگڑ کر 10.3:1 ہو گیا ہے، جو وسائل کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ موجودہ قرض پالیسی کے تحت سرکاری بانڈز کے ذریعے بینکوں کو منافع بخش اور یقینی منافع فراہم کیا جاتا ہے جبکہ ریاستی اداروں کو دی جانے والی سبسڈی معاشی منافع پیدا نہیں کرتی۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کا کہنا تھا کہ قرض کو پیداواری سرگرمیوں جیسے کہ صنعتی توسیع، برآمدی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اپنانے اور نجی شعبے کی ترقی پر خرچ کیا جانا چاہیے تاکہ روزگار پیدا ہو اور قرضوں کی واپسی کے قابل معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>تھنک ٹینک نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستانی کاروباروں کو اوسطاً 11 فیصد شرح سود پر فنانسنگ دستیاب ہے جو علاقائی اوسط (5.5 فیصد) سے دگنی ہے، جس سے ان کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے جبکہ بینک سرکاری فنڈز سے بغیر کسی رسک کے منافع کما رہے ہیں۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کے مطابق اگر پالیسی ریٹ کو 11 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دیا جائے تو حکومت سالانہ تقریباً 3 ٹریلین روپے بچا سکتی ہے، جو کہ اس وقت بینکاری شعبے کو منتقل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>تھنک ٹینک نے مزید کہا ہے کہ عالمی بینک کی تصدیق کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025 میں بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قرض کے استعمال کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے لیے مالی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ علاقائی حریف ممالک قرض کو صنعتی ترقی اور کاروباری وسعت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے انہیں 6 فیصد سالانہ ترقی حاصل ہو رہی ہے جبکہ پاکستان بینکوں اور ناکام سرکاری اداروں کو سبسڈی دے کر قرض کے فوائد ضائع کر رہا ہے۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو دو میں سے ایک راستہ چننا ہوگا: یا تو قرض کے ضیاع کا وہ موجودہ طریقہ اختیار رکھے جو مالیاتی اداروں اور سرکاری اداروں کو فائدہ دیتا ہے، یا پھر قرض کو پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرے تاکہ معیشت کی اصل صلاحیت میں اضافہ ہو۔</p>
<p>ادارے نے زور دیا کہ پالیسی میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ حاصل کردہ قرض کو غیر پیداواری کھپت کے بجائے صنعتی ترقی، برآمدی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور نجی شعبے کی وسعت پر خرچ کیا جائے، جو نہ صرف پائیدار منافع دے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274411</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 22:52:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/08223615e4ff5de.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/08223615e4ff5de.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
