<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 10:20:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 10:20:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِاعظم کی تاجر رہنماؤں سے ملاقات، جامع اقتصادی پالیسی کی یقین دہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کے روز ممتاز صنعت کاروں اور تاجر رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، برآمدات کے امکانات اور نجی شعبے کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم نے پائیدار اقتصادی ترقی اور سرمایہ کار دوست اصلاحات کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ معاشی استحکام ان کی اقتصادی ٹیم کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اب حکومت کی توجہ طویل المدتی ترقی، صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اپنے مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان کو اقتصادی خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے پالیسی سازی کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تاجر برادری سے باقاعدہ مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ میں ہر ماہ تاجر برادری کے نمائندوں سے ذاتی طور پر ملاقات کروں گا تاکہ ان کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے امید ظاہر کی کہ مستقبل کی ملاقاتیں بھی اسی طرح مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گی جیسا کہ آج کی نشست رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں شریک تاجر رہنماؤں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی اقتصادی کاوشوں کو سراہا، خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشکل اور طویل مذاکرات کے بعد کامیاب معاہدہ طے پانے کو سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حالیہ وفاقی بجٹ کو ”عوام دوست اور کاروبار نواز“ اقدام قرار دیا اور زور دیا کہ اقتصادی پالیسیوں کو تجارت، صنعت اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء نے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو مزید سہولتیں فراہم کرنے اور ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری رہنماؤں نے ٹیکس اصلاحات اور بندرگاہوں پر کسٹمز کلیئرنس نظام میں شفافیت کو سراہا اور صنعتی ترقی کی پالیسی سازی میں نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کرنے کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اویس لغاری، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، حنیف عباسی اور جنید انور چوہدری شریک تھے۔ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے زراعت احمد عمیر، ایف بی آر چیئرمین اور دیگر سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران حکام نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ کا بنیادی مقصد عام آدمی، کاروبار اور سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور یہ تمام اقدامات دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کے وافر مواقع موجود ہیں اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان رابطوں کو موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی گئی کہ پیداواری لاگت میں کمی، خصوصاً بجلی کے نرخ کم کرنے کے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی برآمدات کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے جاری ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کو کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری، ملک میں پہلی مرتبہ جدید آئی ٹی ماحولیاتی نظام کا نفاذ، اور زرعی و دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان سمیت نجی شعبے کے ساتھ مشاورت کو مزید مربوط بنایا جا رہا ہے تاکہ بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے اور گوادر پورٹ کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ٹیکسٹائل، زراعت، سیمنٹ اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں کی اہم کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کے روز ممتاز صنعت کاروں اور تاجر رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، برآمدات کے امکانات اور نجی شعبے کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم نے پائیدار اقتصادی ترقی اور سرمایہ کار دوست اصلاحات کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ معاشی استحکام ان کی اقتصادی ٹیم کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اب حکومت کی توجہ طویل المدتی ترقی، صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اپنے مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان کو اقتصادی خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے پالیسی سازی کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تاجر برادری سے باقاعدہ مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ میں ہر ماہ تاجر برادری کے نمائندوں سے ذاتی طور پر ملاقات کروں گا تاکہ ان کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جا سکے۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے امید ظاہر کی کہ مستقبل کی ملاقاتیں بھی اسی طرح مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گی جیسا کہ آج کی نشست رہی۔</p>
<p>ملاقات میں شریک تاجر رہنماؤں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی اقتصادی کاوشوں کو سراہا، خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشکل اور طویل مذاکرات کے بعد کامیاب معاہدہ طے پانے کو سراہا گیا۔</p>
<p>انہوں نے حالیہ وفاقی بجٹ کو ”عوام دوست اور کاروبار نواز“ اقدام قرار دیا اور زور دیا کہ اقتصادی پالیسیوں کو تجارت، صنعت اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔</p>
<p>شرکاء نے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو مزید سہولتیں فراہم کرنے اور ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>کاروباری رہنماؤں نے ٹیکس اصلاحات اور بندرگاہوں پر کسٹمز کلیئرنس نظام میں شفافیت کو سراہا اور صنعتی ترقی کی پالیسی سازی میں نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کرنے کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اویس لغاری، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، حنیف عباسی اور جنید انور چوہدری شریک تھے۔ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے زراعت احمد عمیر، ایف بی آر چیئرمین اور دیگر سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران حکام نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ کا بنیادی مقصد عام آدمی، کاروبار اور سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور یہ تمام اقدامات دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کے وافر مواقع موجود ہیں اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان رابطوں کو موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔</p>
<p>کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی گئی کہ پیداواری لاگت میں کمی، خصوصاً بجلی کے نرخ کم کرنے کے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی برآمدات کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنایا جا سکے۔</p>
<p>ایف بی آر کے جاری ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کو کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار قرار دیا گیا۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری، ملک میں پہلی مرتبہ جدید آئی ٹی ماحولیاتی نظام کا نفاذ، اور زرعی و دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>برآمد کنندگان سمیت نجی شعبے کے ساتھ مشاورت کو مزید مربوط بنایا جا رہا ہے تاکہ بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے اور گوادر پورٹ کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔</p>
<p>اجلاس میں ٹیکسٹائل، زراعت، سیمنٹ اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں کی اہم کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274410</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 22:10:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/08220121e348cb9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/08220121e348cb9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
