<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا الیکٹرک وہیکل شعبہ نوخیز، ترقی کے لیے وقت درکار ہے، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274400/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں نئی توانائی گاڑیوں (این ای ویز) کے حوالے سے ایک ابھرتی ہوئی تحریک دیکھنے کو مل رہی ہے، خاص طور پر حکومت کی نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 کے تناظر میں۔ تاہم، عالمی ای وی برانڈز جیسے ڈیپال، بی وائے جی اور ایم جی کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک ایسا جامع نظام موجود نہیں جو بڑی سطح پر ای وی اپنانے کو ممکن بنا سکے، مثلاً چارجنگ نیٹ ورکس اور دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل کنسلٹنٹ اور ماہر شفیق احمد شیخ نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں الیکٹرک وہیکل کا شعبہ بالکل ایک نوزائیدہ بچے کی مانند ہے۔ اگر ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ ایک یا دو دن میں یہ شعبہ ویسے ہی کارکردگی دکھانے لگے گا جیسے دہائیوں پرانا پٹرول گاڑیوں کا نظام، تو یہ غلط توقع ہے اور موزوں موازنہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وفاقی حکومت اس شعبے میں سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، اس کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کا مقصد ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا اور پائیدار نقل و حمل کو ممکن بنانا ہے۔ ایک اور ای وی پالیسی بھی زیر غور ہے، اور کئی سرمایہ کار حکومت کے ساتھ مل کر آسان رسائی والے اانفرااسٹرکچر پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفیق احمد شیخ نے مزید کہا کہ اگر حکومت کی معاونت اسی طرح جاری رہی  تو چند برسوں میں ہم یقینی طور پر ایک بہتر اور قابلِ بھروسہ انفرااسٹرکچر، معیاری اسپیئر پارٹس، خدمات اور جدید خصوصیات والی الیکٹرک گاڑیاں دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ دنیا بھر کی ای وی کمپنیاں پاکستان میں اپنے پلانٹس لگانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ای وی اور اس کے انفرااسٹرکچر کا مستقبل واقعی روشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;10 سالہ مستحکم، مراعات یافتہ فریم ورک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو انڈسٹری کے ماہر سید شبیر الدین — جنہیں دو دہائیوں سے زائد کا تجربہ ہے اور انہوں نے پاکستان میں کامیابی سے ای وی متعارف کرائی، کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ای وی پالیسی 2025 سمت کے لحاظ سے درست، مگر ساخت کے لحاظ سے کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ چونکہ عالمی سطح پر بیٹری کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے، اس لیے 2027 تک ای وی کی بڑے پیمانے پر منتقلی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ابھی قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ ہم پرانی ٹیکنالوجی کا ڈمپنگ گراؤنڈ بننے کا خطرہ مول لے رہے ہیں، صرف درآمد شدہ ای وی کی اسمبلنگ کافی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو چاہیے کہ وہ اہم اور قیمتی پرزہ جات جیسے ڈی سی چارجرز، چارجنگ کیبلز اور ای وی موٹرز کی مقامی تیاری پر توجہ دے، خاص طور پر جب ہمارے پاس تانبے (کاپر) جیسے خام مال موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شبیرالدین نے مزید کہا کہ ایسے اہم دہرے استعمال والے پرزے، جیسے بریکنگ سسٹمز اور آٹوموٹیو گریڈ کولڈ رولڈ کوائل (سی آر سی) اسٹیل، بھی مقامی سطح پر تیار کیے جانے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں کانٹیننٹل  اے جی، ایزن یا ویلیو جیسے سپلائرز کیوں موجود نہ ہوں، جیسے بھارت نے دہائیاں پہلے یہ قدم اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ  ہماری پالیسی سازی میں بنیادی خامی ہمارا قلیل مدتی وژن ہے۔ پانچ سالہ پالیسی سے صنعت کو بمشکل اتنا وقت ملتا ہے کہ وہ خود کو ہم آہنگ کر سکے اور پھر اگلی پالیسی کی تبدیلی ساری پیش رفت کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ ایک مستحکم اور مراعات سے بھرپور 10 سالہ فریم ورک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان اپنے علاقائی حریفوں سے مزید پیچھے رہ جائے گا، جو پہلے ہی ای وی انڈسٹری میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شہری ہوا کے معیار میں بہتری کی امید&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایم جی موٹرز پاکستان کے جنرل منیجر مارکیٹنگ  سید آصف احمد نے کہا ہے کہ جب نیو انرجی وہیکل (این ای وی) پالیسی 2025–30 کی منظوری ہو جائے گی، تو پاکستان کو زیرو ایمیشن وہیکلز کی درجہ بندی میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراجات میں نمایاں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اس وقت ملک میں فضائی آلودگی کے 43 فیصد حصے کے ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید آصف احمد نے کہا کہ زیرو ٹیل پائپ ایمیشن گاڑیوں کو فروغ دے کر یہ پالیسی شہری علاقوں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور سموگ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضا میں معلق ذرات کی کمی کا مطلب ہے کہ سانس کی بیماریوں میں کمی آئے گی اور عوامی صحت کے نتائج بہتر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسی پاکستان کے وسیع تر ماحولیاتی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے، جن میں 2060 تک ٹرانسپورٹ فلیٹ کو مکمل طور پر نیٹ زیرو کاربن پر منتقل کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ پاکستان کے 37 فیصد قابلِ تجدید توانائی پر مبنی بجلی کے نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے، تاکہ الیکٹرک گاڑیاں ”ماخذ سے سڑک تک“ صاف ستھری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای وی (نیو انرجی وہیکل) میں وہ تمام گاڑیاں شامل ہیں جو زیرو ایمیشن صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی)، مکمل الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) اور ہائیڈروجن سیل پر چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں آٹوموٹو کمپنیوں کے دباؤ کے تحت ترقی پذیر ممالک کو ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی این ای وی تسلیم کرنا پڑا تاکہ وہ ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے، یہ سبسڈیز نہ تو ماحول کے لیے مفید ثابت ہوئیں، نہ ہی عام صارف کو ان کا فائدہ پہنچا۔ اس کا اصل فائدہ صرف غیرملکی پرنسپل اور مقامی شراکت دار کو ہوا، جبکہ عوام، حکومت اور مقامی ماحول اس سے محروم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں (پی ایچ ای ویز) عام ہائبرڈز کے برعکس ایک بہتر شہری ٹرانسپورٹ حل ہیں کیونکہ یہ مکمل الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہیں۔
یہ ابتدائی صارفین کو طویل سفر کے دوران رینج اینگزائٹی (یعنی گاڑی کی بیٹری ختم ہونے کا خوف) سے بھی محفوظ رکھتی ہیں، کیونکہ بیٹری ختم ہونے کے بعد یہ خودکار طور پر ہائبرڈ موڈ میں چلی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے نیو انرجی وہیکل (این ای وی) اہداف ، جیسے زیرو ایمیشن اور ایندھن کی بچت — عالمی رحجانات کے مطابق ہیں، البتہ اس کا ٹائم فریم امریکہ، چین اور بھارت کے مقابلے میں کچھ سست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں پاکستان میں آٹوموبائل اسمبلرز، اپنے عالمی شراکت داروں کی مدد سے مزید پی ایچ ای ویز ویریئنٹس متعارف کرائیں گے، جس سے ملک کا ایندھن کا بل کم ہو گا اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی گھٹے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں سید آصف احمد نے کہا کہ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے دی گئی ٹیکس مراعات کا فائدہ صارفین تک پہنچتا ہے، یا وہ ایک بار پھر مہنگی ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں نئی توانائی گاڑیوں (این ای ویز) کے حوالے سے ایک ابھرتی ہوئی تحریک دیکھنے کو مل رہی ہے، خاص طور پر حکومت کی نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 کے تناظر میں۔ تاہم، عالمی ای وی برانڈز جیسے ڈیپال، بی وائے جی اور ایم جی کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک ایسا جامع نظام موجود نہیں جو بڑی سطح پر ای وی اپنانے کو ممکن بنا سکے، مثلاً چارجنگ نیٹ ورکس اور دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر۔</strong></p>
<p>آٹوموبائل کنسلٹنٹ اور ماہر شفیق احمد شیخ نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں الیکٹرک وہیکل کا شعبہ بالکل ایک نوزائیدہ بچے کی مانند ہے۔ اگر ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ ایک یا دو دن میں یہ شعبہ ویسے ہی کارکردگی دکھانے لگے گا جیسے دہائیوں پرانا پٹرول گاڑیوں کا نظام، تو یہ غلط توقع ہے اور موزوں موازنہ نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وفاقی حکومت اس شعبے میں سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، اس کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کا مقصد ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا اور پائیدار نقل و حمل کو ممکن بنانا ہے۔ ایک اور ای وی پالیسی بھی زیر غور ہے، اور کئی سرمایہ کار حکومت کے ساتھ مل کر آسان رسائی والے اانفرااسٹرکچر پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>شفیق احمد شیخ نے مزید کہا کہ اگر حکومت کی معاونت اسی طرح جاری رہی  تو چند برسوں میں ہم یقینی طور پر ایک بہتر اور قابلِ بھروسہ انفرااسٹرکچر، معیاری اسپیئر پارٹس، خدمات اور جدید خصوصیات والی الیکٹرک گاڑیاں دیکھیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ دنیا بھر کی ای وی کمپنیاں پاکستان میں اپنے پلانٹس لگانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ای وی اور اس کے انفرااسٹرکچر کا مستقبل واقعی روشن ہے۔</p>
<p><strong>10 سالہ مستحکم، مراعات یافتہ فریم ورک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا</strong></p>
<p>آٹو انڈسٹری کے ماہر سید شبیر الدین — جنہیں دو دہائیوں سے زائد کا تجربہ ہے اور انہوں نے پاکستان میں کامیابی سے ای وی متعارف کرائی، کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ای وی پالیسی 2025 سمت کے لحاظ سے درست، مگر ساخت کے لحاظ سے کمزور ہے۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ چونکہ عالمی سطح پر بیٹری کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے، اس لیے 2027 تک ای وی کی بڑے پیمانے پر منتقلی متوقع ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ابھی قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ ہم پرانی ٹیکنالوجی کا ڈمپنگ گراؤنڈ بننے کا خطرہ مول لے رہے ہیں، صرف درآمد شدہ ای وی کی اسمبلنگ کافی نہیں ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو چاہیے کہ وہ اہم اور قیمتی پرزہ جات جیسے ڈی سی چارجرز، چارجنگ کیبلز اور ای وی موٹرز کی مقامی تیاری پر توجہ دے، خاص طور پر جب ہمارے پاس تانبے (کاپر) جیسے خام مال موجود ہیں۔</p>
<p>شبیرالدین نے مزید کہا کہ ایسے اہم دہرے استعمال والے پرزے، جیسے بریکنگ سسٹمز اور آٹوموٹیو گریڈ کولڈ رولڈ کوائل (سی آر سی) اسٹیل، بھی مقامی سطح پر تیار کیے جانے چاہئیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں کانٹیننٹل  اے جی، ایزن یا ویلیو جیسے سپلائرز کیوں موجود نہ ہوں، جیسے بھارت نے دہائیاں پہلے یہ قدم اٹھایا۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ  ہماری پالیسی سازی میں بنیادی خامی ہمارا قلیل مدتی وژن ہے۔ پانچ سالہ پالیسی سے صنعت کو بمشکل اتنا وقت ملتا ہے کہ وہ خود کو ہم آہنگ کر سکے اور پھر اگلی پالیسی کی تبدیلی ساری پیش رفت کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ ایک مستحکم اور مراعات سے بھرپور 10 سالہ فریم ورک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان اپنے علاقائی حریفوں سے مزید پیچھے رہ جائے گا، جو پہلے ہی ای وی انڈسٹری میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p><strong>شہری ہوا کے معیار میں بہتری کی امید</strong></p>
<p>دوسری جانب ایم جی موٹرز پاکستان کے جنرل منیجر مارکیٹنگ  سید آصف احمد نے کہا ہے کہ جب نیو انرجی وہیکل (این ای وی) پالیسی 2025–30 کی منظوری ہو جائے گی، تو پاکستان کو زیرو ایمیشن وہیکلز کی درجہ بندی میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر دے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراجات میں نمایاں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اس وقت ملک میں فضائی آلودگی کے 43 فیصد حصے کے ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>سید آصف احمد نے کہا کہ زیرو ٹیل پائپ ایمیشن گاڑیوں کو فروغ دے کر یہ پالیسی شہری علاقوں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور سموگ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>فضا میں معلق ذرات کی کمی کا مطلب ہے کہ سانس کی بیماریوں میں کمی آئے گی اور عوامی صحت کے نتائج بہتر ہوں گے۔</p>
<p>یہ پالیسی پاکستان کے وسیع تر ماحولیاتی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے، جن میں 2060 تک ٹرانسپورٹ فلیٹ کو مکمل طور پر نیٹ زیرو کاربن پر منتقل کرنا شامل ہے۔</p>
<p>ساتھ ہی یہ پاکستان کے 37 فیصد قابلِ تجدید توانائی پر مبنی بجلی کے نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے، تاکہ الیکٹرک گاڑیاں ”ماخذ سے سڑک تک“ صاف ستھری رہیں۔</p>
<p>این ای وی (نیو انرجی وہیکل) میں وہ تمام گاڑیاں شامل ہیں جو زیرو ایمیشن صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی)، مکمل الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) اور ہائیڈروجن سیل پر چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔</p>
<p>ماضی میں آٹوموٹو کمپنیوں کے دباؤ کے تحت ترقی پذیر ممالک کو ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی این ای وی تسلیم کرنا پڑا تاکہ وہ ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>بدقسمتی سے، یہ سبسڈیز نہ تو ماحول کے لیے مفید ثابت ہوئیں، نہ ہی عام صارف کو ان کا فائدہ پہنچا۔ اس کا اصل فائدہ صرف غیرملکی پرنسپل اور مقامی شراکت دار کو ہوا، جبکہ عوام، حکومت اور مقامی ماحول اس سے محروم رہے۔</p>
<p>پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں (پی ایچ ای ویز) عام ہائبرڈز کے برعکس ایک بہتر شہری ٹرانسپورٹ حل ہیں کیونکہ یہ مکمل الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہیں۔
یہ ابتدائی صارفین کو طویل سفر کے دوران رینج اینگزائٹی (یعنی گاڑی کی بیٹری ختم ہونے کا خوف) سے بھی محفوظ رکھتی ہیں، کیونکہ بیٹری ختم ہونے کے بعد یہ خودکار طور پر ہائبرڈ موڈ میں چلی جاتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے نیو انرجی وہیکل (این ای وی) اہداف ، جیسے زیرو ایمیشن اور ایندھن کی بچت — عالمی رحجانات کے مطابق ہیں، البتہ اس کا ٹائم فریم امریکہ، چین اور بھارت کے مقابلے میں کچھ سست ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں پاکستان میں آٹوموبائل اسمبلرز، اپنے عالمی شراکت داروں کی مدد سے مزید پی ایچ ای ویز ویریئنٹس متعارف کرائیں گے، جس سے ملک کا ایندھن کا بل کم ہو گا اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی گھٹے گا۔</p>
<p>آخر میں سید آصف احمد نے کہا کہ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے دی گئی ٹیکس مراعات کا فائدہ صارفین تک پہنچتا ہے، یا وہ ایک بار پھر مہنگی ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274400</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 16:01:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/08152401d6d3542.gif" type="image/gif" medium="image" height="300" width="450">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/08152401d6d3542.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
