<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:46:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:46:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری سے گولڈن ویزا مل سکتا ہے؟ دبئی حکام نے وضاحت کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274399/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی حکام نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ گولڈن ویزا باقاعدہ طور پر منظور شدہ فریم ورک اور معیارات کے مطابق جاری کیا جاتا ہے، جس میں ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد شامل نہیں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ادارہ برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی سیکیورٹی (آئی سی پی)، سیکیورٹیز اینڈ کموڈیٹیز اتھارٹی (ایس سی اے) اور ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (وی اے آر اے) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ایسی خبروں کی تردید کی گئی ہے جو کچھ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی تھیں۔ ان خبروں میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ متحدہ عرب امارات ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو گولڈن ویزا جاری کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ”دی اوپن نیٹ ورک (ٹی او این) فاؤنڈیشن“ کے سی ای او میکس کراؤن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ٹی او این کوائن نے ایک انقلابی اقدام شروع کیا ہے، جس کے تحت یہ کوائن رکھنے والے افراد 10 سالہ گولڈن ویزا حاصل کر سکتے ہیں“ بشرطیکہ وہ 100,000 ڈالر مالیت کا ٹی او این کوائن تین سال کے لیے اسٹیک کریں، 35,000 ڈالر کی ایک مرتبہ فیس ادا کریں اور تین سال بعد رقم واپس حاصل کر لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بعد میں فاؤنڈیشن نے اپنی بلاگ پوسٹ میں وضاحت کی کہ یہ اقدام ایک نامعلوم پارٹنر کے ساتھ شراکت داری کا حصہ ہے جو بلاک چین انفراسٹرکچر اور ٹوکنائزڈ اثاثہ جات میں مہارت رکھتا ہے، اور یہ تسلیم کیا کہ اماراتی حکومت کا اس اقدام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی پی کے مطابق، گولڈن ویزا کے لیے اہل افراد میں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار، کاروباری افراد، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد، سائنسدان اور ماہرین، اعلیٰ طلبہ و فارغ التحصیل، انسان دوست کام کرنے والے، اور فرنٹ لائن ورکرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایس سی اے کا کہنا تھا کہ اس کے ضوابط شفافیت، اعتماد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، تاکہ متحدہ عرب امارات میں پائیدار سرمایہ کاری ماحول فروغ پا سکے۔ ادارے نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے الگ ضوابط موجود ہیں اور ان کا گولڈن ویزا سے کوئی تعلق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح وی اے آر اے نے بھی ڈیجیٹل اثاثہ جات میں سرمایہ کاری پر گولڈن ویزا کے اجراء سے متعلق خبروں کو مسترد کیا اور عوام کو مشورہ دیا کہ صرف لائسنس یافتہ اور ریگولیٹڈ کمپنیوں سے ہی معاملات کریں۔ ادارے نے یہ بھی وضاحت کی کہ ٹی او این کمپنی وی اے آر اے سے منظور شدہ یا لائسنس یافتہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں اداروں نے عوام اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹس اور مستند ذرائع سے رجوع کریں اور غیر تصدیق شدہ اشتہارات اور آن لائن پھیلنے والی پیشکشوں سے محتاط رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی حکام نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ گولڈن ویزا باقاعدہ طور پر منظور شدہ فریم ورک اور معیارات کے مطابق جاری کیا جاتا ہے، جس میں ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد شامل نہیں ہیں۔</strong></p>
<p>وفاقی ادارہ برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی سیکیورٹی (آئی سی پی)، سیکیورٹیز اینڈ کموڈیٹیز اتھارٹی (ایس سی اے) اور ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (وی اے آر اے) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ایسی خبروں کی تردید کی گئی ہے جو کچھ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی تھیں۔ ان خبروں میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ متحدہ عرب امارات ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو گولڈن ویزا جاری کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ”دی اوپن نیٹ ورک (ٹی او این) فاؤنڈیشن“ کے سی ای او میکس کراؤن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ٹی او این کوائن نے ایک انقلابی اقدام شروع کیا ہے، جس کے تحت یہ کوائن رکھنے والے افراد 10 سالہ گولڈن ویزا حاصل کر سکتے ہیں“ بشرطیکہ وہ 100,000 ڈالر مالیت کا ٹی او این کوائن تین سال کے لیے اسٹیک کریں، 35,000 ڈالر کی ایک مرتبہ فیس ادا کریں اور تین سال بعد رقم واپس حاصل کر لیں۔</p>
<p>تاہم بعد میں فاؤنڈیشن نے اپنی بلاگ پوسٹ میں وضاحت کی کہ یہ اقدام ایک نامعلوم پارٹنر کے ساتھ شراکت داری کا حصہ ہے جو بلاک چین انفراسٹرکچر اور ٹوکنائزڈ اثاثہ جات میں مہارت رکھتا ہے، اور یہ تسلیم کیا کہ اماراتی حکومت کا اس اقدام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>آئی سی پی کے مطابق، گولڈن ویزا کے لیے اہل افراد میں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار، کاروباری افراد، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد، سائنسدان اور ماہرین، اعلیٰ طلبہ و فارغ التحصیل، انسان دوست کام کرنے والے، اور فرنٹ لائن ورکرز شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، ایس سی اے کا کہنا تھا کہ اس کے ضوابط شفافیت، اعتماد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، تاکہ متحدہ عرب امارات میں پائیدار سرمایہ کاری ماحول فروغ پا سکے۔ ادارے نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے الگ ضوابط موجود ہیں اور ان کا گولڈن ویزا سے کوئی تعلق نہیں۔</p>
<p>اسی طرح وی اے آر اے نے بھی ڈیجیٹل اثاثہ جات میں سرمایہ کاری پر گولڈن ویزا کے اجراء سے متعلق خبروں کو مسترد کیا اور عوام کو مشورہ دیا کہ صرف لائسنس یافتہ اور ریگولیٹڈ کمپنیوں سے ہی معاملات کریں۔ ادارے نے یہ بھی وضاحت کی کہ ٹی او این کمپنی وی اے آر اے سے منظور شدہ یا لائسنس یافتہ نہیں ہے۔</p>
<p>تینوں اداروں نے عوام اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹس اور مستند ذرائع سے رجوع کریں اور غیر تصدیق شدہ اشتہارات اور آن لائن پھیلنے والی پیشکشوں سے محتاط رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274399</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 15:54:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/081525074d0537e.png" type="image/png" medium="image" height="1024" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/081525074d0537e.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
