<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:26:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:26:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتی شعبے سے سرمایہ کاری کا انخلا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274387/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری کردہ 25-2024 کے لیے سرمایہ کاری کے اعداد و شمار ایک انتہائی مایوس کن منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ ان میں معیشت میں اسٹاک (انوینٹریز) کے اضافے کو جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ مجموعی سرمایہ کاری 25-2024 میں جی ڈی پی کا 13.7 فیصد رہی، لہٰذا فکسڈ کیپیٹل فارميشن کی سطح صرف 12 فیصد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکسڈ کیپیٹل فارميشن کی جی ڈی پی میں شرح میں طویل المدتی کمی کا رجحان واضح ہے۔ 09-2008 میں یہ جی ڈی پی کا تقریباً 16 فیصد تھی۔ 16-2015 تک یہ کم ہو کر 14.2 فیصد رہ گئی اور اب یہ 12 فیصد پر آ چکی ہے۔ 24-2023 میں یہ سطح 11.4 فیصد تک گر گئی تھی جب سرمایہ کاروں کو تاریخ کی بلند ترین شرح سود کا سامنا تھا، جس سے اب معمولی بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی ضروری ہے کہ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کے الگ الگ رجحانات کو دیکھا جائے۔ سرکاری سرمایہ کاری میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ترقیاتی بجٹ اور ریاستی ملکیت کے اداروں کی پیداواری صلاحیت میں توسیع شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی سرمایہ کاری 09-2008 میں جی ڈی پی کے تقریباً 12 فیصد سے کم ہو کر 25-2024 میں 9 فیصد پر آ گئی ہے۔ اس کے برعکس، سرکاری سرمایہ کاری میں زیادہ تیزی سے کمی آئی ہے — یہ 09-2008 میں جی ڈی پی کا 4 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 2.9 فیصد رہ گئی ہے۔ 18-2017 میں یہ اپنے عروج پر پہنچ کر جی ڈی پی کا 4.7 فیصد ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی نے ملک کی مجموعی سرمایہ کاری کی ترکیب کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ 25-2024 میں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کے حصے بالترتیب 24 فیصد اور 76 فیصد ہیں، جب کہ 09-2008 میں یہ تناسب 33 فیصد اور 67 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کو مستقل رکھتے ہوئے، ملک میں مجموعی سرمایہ کاری میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت، 18-2017 میں مجموعی سرمایہ کاری 5,534 ارب روپے تھی، جو 25-2024 میں 4,524 ارب روپے ہو گئی ہے۔ یعنی، اصل معنوں میں 18 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری سرمایہ کاری میں یہ کمی کہیں زیادہ شدید ہے، جو 18-2017 کے مقابلے میں 36 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔ نجی سرمایہ کاری میں اسی دوران 10 فیصد کی کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سرمایہ کاری کی یہ کم سطح اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب اس کا تقابل دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے کیا جائے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، سری لنکا میں فکسڈ کیپیٹل فارميشن جی ڈی پی کا 20 فیصد، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 31 فیصد سے زائد ہے — اس کے برعکس پاکستان میں یہ صرف 12 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ موازنہ پاکستان کی معیشت میں کم شرح نمو کی ایک بنیادی وجہ کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کی اوسط شرح نمو 20-2019 سے 24-2023 کے دوران صرف 2.7 فیصد رہی، جبکہ انہی سالوں میں بنگلہ دیش کی اوسط شرح نمو 5.5 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی ترکیب پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ قومی معیشت کے مختلف شعبوں میں مستقل قیمتوں پر نجی سرمایہ کاری کی سطح میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ 25-2024 میں بڑی صنعتوں(ایل ایس ایم) میں نجی سرمایہ کاری کی سطح 2000-1999 کے مقابلے میں بھی 10 فیصد کم تھی۔ یہ صنعت سے نجی شعبے کے پیچھے ہٹنے کا واضح ثبوت ہے، جس کی وجوہات میں انتہائی بلند ٹیکس بوجھ، توانائی کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ، درآمدی خام مال پر پابندیاں، اور بینک قرضوں کی محدود دستیابی کے ساتھ بلند شرح سود شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ طویل المدتی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کا ایک اور چونکا دینے والا انکشاف جائیداد (ریئل اسٹیٹ) میں سرمایہ کاری کے بظاہر تیزی سے بڑھنے والے رجحان سے متعلق ہے، جس نے واضح طور پر صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی جگہ لے لی ہے۔ یہ اس امر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 25-2024 میں ریئل اسٹیٹ میں نجی سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ میں نجی سرمایہ کاری سے 71 فیصد زیادہ تھی۔ اس کے برعکس، 2000-1999 میں صنعتی شعبے میں نجی سرمایہ کاری، ریئل اسٹیٹ کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی سرمایہ کاری کی اس بنیادی ترکیب میں تبدیلی واضح کرتی ہے کہ پالیسیوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صنعت میں سرمایہ کاری کی کمی کے باعث برآمدات پر مبنی مضبوط معاشی ترقی کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے، جیسا کہ ”اُڑان“ منصوبے میں تصور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جائیداد کی قیمتوں، کیپیٹل گینز اور جائیداد سے حاصل آمدن پر جامع ٹیکس نظام نافذ کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس وقت ملک میں ریئل اسٹیٹ پر ٹیکس کا بوجھ صرف جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے برابر ہے، جبکہ بڑی صنعتوں پر یہ بوجھ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر جائیداد سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں اضافہ کیا جائے تو اس کے ایک حصے کو صنعت پر ٹیکس ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی حکمت عملی زرعی شعبے اور تھوک و پرچون تجارت کے شعبے پر بھی اپنائی جانی چاہیے تاکہ ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری سرمایہ کاری کی سطح اور ساخت کا جائزہ لیں تو واضح ہے کہ اس میں جی ڈی پی کے تناسب سے شدید کمی آئی ہے۔ 18-2017 میں یہ سطح 4.7 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 2.9 فیصد پر آ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقل قیمتوں پر اگر دیکھا جائے تو 18-2017 کے بعد ریاستی اداروں (ایس او ایز) کی سرمایہ کاری میں 62 فیصد جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ریاستی ادارے منافع کی کمی اور قرض تک محدود رسائی کی وجہ سے سرمایہ کاری جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس نے ایک اور منفی رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ 18-2017 کے بعد سے صوبائی حکومتوں کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری مستقل قیمتوں پر 50 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی اور اوسط عمر میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;معیشت میں سرمایہ کاری کے حوالے سے منفی رویے کی ایک بڑی میکرو اکنامک مجبوری رہی ہے — اور وہ ہے گزشتہ چند برسوں میں انتہائی بلند شرح سود اور روپے کی تیز رفتار قدر میں کمی۔ یہ دونوں عوامل سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ مجبوری دراصل سرمایہ کاری اور بچت کے درمیان فرق  کو کم کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ فرق زیادہ ہو جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ آتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2017-18 میں جب سرمایہ کاری بلند ترین سطح پر تھی، تو یہ خلا جی ڈی پی کا 5.4 فیصد تھا۔ سخت مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے 24-2023 میں یہ خلا گھٹ کر 0.5 فیصد پر آ گیا۔ پچھلے سال تو قومی بچت سرمایہ کاری سے 0.3 فیصد زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، اس لیے سرمایہ کاری اور بچت کے درمیان توازن برقرار رکھنا آئندہ بھی ناگزیر رہے گا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس کا بوجھ تمام شعبوں میں منصفانہ انداز میں تقسیم کرنا ہوگا، جبکہ شرح سود اور زر مبادلہ کی شرح کے درمیان بھی توازن پیدا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، ایک اہم مسئلہ جس پر فوری توجہ درکار ہے وہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت بانڈز کے اجرا کے ذریعے بینکوں سے اتنی زیادہ رقم قرض لے رہی ہے کہ نجی شعبے کے لیے فنانسنگ کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ اس رجحان کو کم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے اور ملکی معیشت کو 2.5 سے 3.5 فیصد کی کم شرح نمو سے نکال کر آئندہ چند برسوں میں 5 فیصد کے قریب لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری کردہ 25-2024 کے لیے سرمایہ کاری کے اعداد و شمار ایک انتہائی مایوس کن منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ ان میں معیشت میں اسٹاک (انوینٹریز) کے اضافے کو جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ مجموعی سرمایہ کاری 25-2024 میں جی ڈی پی کا 13.7 فیصد رہی، لہٰذا فکسڈ کیپیٹل فارميشن کی سطح صرف 12 فیصد ہے۔</strong></p>
<p>فکسڈ کیپیٹل فارميشن کی جی ڈی پی میں شرح میں طویل المدتی کمی کا رجحان واضح ہے۔ 09-2008 میں یہ جی ڈی پی کا تقریباً 16 فیصد تھی۔ 16-2015 تک یہ کم ہو کر 14.2 فیصد رہ گئی اور اب یہ 12 فیصد پر آ چکی ہے۔ 24-2023 میں یہ سطح 11.4 فیصد تک گر گئی تھی جب سرمایہ کاروں کو تاریخ کی بلند ترین شرح سود کا سامنا تھا، جس سے اب معمولی بہتری آئی ہے۔</p>
<p>یہ بھی ضروری ہے کہ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کے الگ الگ رجحانات کو دیکھا جائے۔ سرکاری سرمایہ کاری میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ترقیاتی بجٹ اور ریاستی ملکیت کے اداروں کی پیداواری صلاحیت میں توسیع شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>نجی سرمایہ کاری 09-2008 میں جی ڈی پی کے تقریباً 12 فیصد سے کم ہو کر 25-2024 میں 9 فیصد پر آ گئی ہے۔ اس کے برعکس، سرکاری سرمایہ کاری میں زیادہ تیزی سے کمی آئی ہے — یہ 09-2008 میں جی ڈی پی کا 4 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 2.9 فیصد رہ گئی ہے۔ 18-2017 میں یہ اپنے عروج پر پہنچ کر جی ڈی پی کا 4.7 فیصد ہو گئی تھی۔</p>
<p>سرکاری سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی نے ملک کی مجموعی سرمایہ کاری کی ترکیب کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ 25-2024 میں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کے حصے بالترتیب 24 فیصد اور 76 فیصد ہیں، جب کہ 09-2008 میں یہ تناسب 33 فیصد اور 67 فیصد تھا۔</p>
<p>قیمتوں کو مستقل رکھتے ہوئے، ملک میں مجموعی سرمایہ کاری میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت، 18-2017 میں مجموعی سرمایہ کاری 5,534 ارب روپے تھی، جو 25-2024 میں 4,524 ارب روپے ہو گئی ہے۔ یعنی، اصل معنوں میں 18 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>سرکاری سرمایہ کاری میں یہ کمی کہیں زیادہ شدید ہے، جو 18-2017 کے مقابلے میں 36 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔ نجی سرمایہ کاری میں اسی دوران 10 فیصد کی کمی آئی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں سرمایہ کاری کی یہ کم سطح اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب اس کا تقابل دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے کیا جائے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، سری لنکا میں فکسڈ کیپیٹل فارميشن جی ڈی پی کا 20 فیصد، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 31 فیصد سے زائد ہے — اس کے برعکس پاکستان میں یہ صرف 12 فیصد ہے۔</p>
<p>یہ موازنہ پاکستان کی معیشت میں کم شرح نمو کی ایک بنیادی وجہ کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کی اوسط شرح نمو 20-2019 سے 24-2023 کے دوران صرف 2.7 فیصد رہی، جبکہ انہی سالوں میں بنگلہ دیش کی اوسط شرح نمو 5.5 فیصد رہی۔</p>
<p>نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی ترکیب پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ قومی معیشت کے مختلف شعبوں میں مستقل قیمتوں پر نجی سرمایہ کاری کی سطح میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ 25-2024 میں بڑی صنعتوں(ایل ایس ایم) میں نجی سرمایہ کاری کی سطح 2000-1999 کے مقابلے میں بھی 10 فیصد کم تھی۔ یہ صنعت سے نجی شعبے کے پیچھے ہٹنے کا واضح ثبوت ہے، جس کی وجوہات میں انتہائی بلند ٹیکس بوجھ، توانائی کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ، درآمدی خام مال پر پابندیاں، اور بینک قرضوں کی محدود دستیابی کے ساتھ بلند شرح سود شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ طویل المدتی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کا ایک اور چونکا دینے والا انکشاف جائیداد (ریئل اسٹیٹ) میں سرمایہ کاری کے بظاہر تیزی سے بڑھنے والے رجحان سے متعلق ہے، جس نے واضح طور پر صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی جگہ لے لی ہے۔ یہ اس امر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 25-2024 میں ریئل اسٹیٹ میں نجی سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ میں نجی سرمایہ کاری سے 71 فیصد زیادہ تھی۔ اس کے برعکس، 2000-1999 میں صنعتی شعبے میں نجی سرمایہ کاری، ریئل اسٹیٹ کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھی۔</p>
<p>نجی سرمایہ کاری کی اس بنیادی ترکیب میں تبدیلی واضح کرتی ہے کہ پالیسیوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صنعت میں سرمایہ کاری کی کمی کے باعث برآمدات پر مبنی مضبوط معاشی ترقی کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے، جیسا کہ ”اُڑان“ منصوبے میں تصور کیا گیا تھا۔</p>
<p>ایسے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جائیداد کی قیمتوں، کیپیٹل گینز اور جائیداد سے حاصل آمدن پر جامع ٹیکس نظام نافذ کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس وقت ملک میں ریئل اسٹیٹ پر ٹیکس کا بوجھ صرف جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے برابر ہے، جبکہ بڑی صنعتوں پر یہ بوجھ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد کے برابر ہے۔</p>
<p>اگر جائیداد سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں اضافہ کیا جائے تو اس کے ایک حصے کو صنعت پر ٹیکس ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی حکمت عملی زرعی شعبے اور تھوک و پرچون تجارت کے شعبے پر بھی اپنائی جانی چاہیے تاکہ ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو سکے۔</p>
<p>سرکاری سرمایہ کاری کی سطح اور ساخت کا جائزہ لیں تو واضح ہے کہ اس میں جی ڈی پی کے تناسب سے شدید کمی آئی ہے۔ 18-2017 میں یہ سطح 4.7 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 2.9 فیصد پر آ چکی ہے۔</p>
<p>مستقل قیمتوں پر اگر دیکھا جائے تو 18-2017 کے بعد ریاستی اداروں (ایس او ایز) کی سرمایہ کاری میں 62 فیصد جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ریاستی ادارے منافع کی کمی اور قرض تک محدود رسائی کی وجہ سے سرمایہ کاری جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>پی بی ایس نے ایک اور منفی رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ 18-2017 کے بعد سے صوبائی حکومتوں کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری مستقل قیمتوں پر 50 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی اور اوسط عمر میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی جا رہی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>معیشت میں سرمایہ کاری کے حوالے سے منفی رویے کی ایک بڑی میکرو اکنامک مجبوری رہی ہے — اور وہ ہے گزشتہ چند برسوں میں انتہائی بلند شرح سود اور روپے کی تیز رفتار قدر میں کمی۔ یہ دونوں عوامل سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتے رہے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>یہ مجبوری دراصل سرمایہ کاری اور بچت کے درمیان فرق  کو کم کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ فرق زیادہ ہو جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ آتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>2017-18 میں جب سرمایہ کاری بلند ترین سطح پر تھی، تو یہ خلا جی ڈی پی کا 5.4 فیصد تھا۔ سخت مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے 24-2023 میں یہ خلا گھٹ کر 0.5 فیصد پر آ گیا۔ پچھلے سال تو قومی بچت سرمایہ کاری سے 0.3 فیصد زیادہ رہی۔</p>
<p>چونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، اس لیے سرمایہ کاری اور بچت کے درمیان توازن برقرار رکھنا آئندہ بھی ناگزیر رہے گا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس کا بوجھ تمام شعبوں میں منصفانہ انداز میں تقسیم کرنا ہوگا، جبکہ شرح سود اور زر مبادلہ کی شرح کے درمیان بھی توازن پیدا کرنا ہوگا۔</p>
<p>آخر میں، ایک اہم مسئلہ جس پر فوری توجہ درکار ہے وہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت بانڈز کے اجرا کے ذریعے بینکوں سے اتنی زیادہ رقم قرض لے رہی ہے کہ نجی شعبے کے لیے فنانسنگ کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ اس رجحان کو کم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے اور ملکی معیشت کو 2.5 سے 3.5 فیصد کی کم شرح نمو سے نکال کر آئندہ چند برسوں میں 5 فیصد کے قریب لایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274387</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 10:24:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/08102316a86c605.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/08102316a86c605.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
