<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹیرف کی ڈیڈلائن قریب، ٹرمپ نے تجارتی معاہدوں کے لئے دباؤ بڑھا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274373/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسی اس ہفتے ایک نازک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے کیونکہ امریکی صدر اُن دو طرفہ معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا وہ وعدہ کر چکے ہیں، اس سے پہلے کہ درجنوں ملکوں پر دوبارہ بھاری محصولات عائد کرنے کی ڈیڈلائن تبدیل ہو جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق دوپہر (عالمی وقت کے مطابق شام کے چار بجے) تک پندرہ کے قریب تجارتی شراکت داروں کو ابتدائی خطوط بھیجنے والے ہیں، جن میں خبردار کیا جائے گا کہ اگر متعلقہ حکومتیں واشنگٹن سے معاہدے کرنے میں ناکام رہیں، تو امریکی درآمدات پر ٹیرف ایک بار پھر بلند سطح پر واپس آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اختتامِ ہفتہ پر کہا ہے کہ یہ ٹیرف یکم اگست سے پہلے دوبارہ نافذ نہیں ہوں گے، یہ مہلت بظاہر فریقین کو معاہدوں کے لیے مزید وقت دینے کے لیے رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے رواں سال اپریل کے اوائل میں تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیاہے، تاہم کچھ معیشتوں، بشمول یورپی یونین، پر اس شرح میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ اس وقت منڈیوں میں شدید مندی آئی تھی، اس لیے ٹرمپ نے ان بھاری ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا تھا تاکہ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔ یہ مہلت بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ نے پیر کو سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کئی اہم اعلانات متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے اب مذاکرات سے متعلق اپنا لہجہ بدل لیا ہے۔ گزشتہ رات میرے ان باکس میں نئی پیشکشوں اور تجاویز کی بھرمار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مختلف ممالک پر بلند نرخوں والے ٹیرف یکم اگست سے قبل نافذ نہیں کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کی ڈیڈلائن کو باضابطہ طور پر توسیع دینے سے متعلق وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ٹرمپ کی جانب سے بھیجے جانے والے خطوط کے بارے میں پوچھا گیا تو بیسنٹ نے کہا کہ ان خطوط میں تجارتی شراکت داروں کو آگاہ کیا جائے گا کہ اگر وہ امریکہ سے تجارت کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مصنوعات پر کون سے ٹیرف لاگو ہوں گے،سوائے اس کے کہ  وہ واپس آئیں اور مذاکرات کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محدود نتائج؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے جولائی کے اوائل تک درجنوں معاہدے کرنے کی امید ظاہر کی ہے، اب تک نتائج محدود ہی رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے اب تک صرف برطانیہ اور ویت نام کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جبکہ امریکہ اور چین نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر عائد تین ہندسوں تک پہنچنے والے ٹیرفز کو عارضی طور پر کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسینٹ نے پیر کو سی این بی سی کو بتایا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے اب تک جنیوا اور لندن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بدلے کی بنیاد پر عائد ٹیرفز کی معطلی وسط اگست میں ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک اب تک ہونے والے تجارتی معاہدوں کی تعداد پر مایوسی کا تعلق ہے، ٹرمپ کے تجارتی مشیر پیٹر ناروو نے کہا کہ وہ ہماری پیشرفت سے خوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پیر کو سی این بی سی کو بتایا کہ ہر وہ ملک جس کے ساتھ ہمارا بڑا تجارتی خسارہ ہے، مکمل طور پر مذاکرات میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کی رات ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ واشنگٹن پیر کو مختلف ممالک کو ٹیرف خطوط یا معاہدے بھیجے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی رات ایک اور پوسٹ میں، ٹرمپ نے ان ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی جو ابھرتے ہوئے برکس (برکس) ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں اینٹی امریکن پالیسیاں اپنانے کا الزام دیتے ہوئے، جنہوں نے ایک سمٹ میں اس کے ٹیرفز کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال، شراکت دار ٹرمپ کے ٹیرف سے بچنے کے لیے دوڑ میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لائیین اور ٹرمپ کے درمیان اتوار کو تجارت پر اچھا تبادلہ خیال ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جاپان کے وزیر اعظم شیگیری ایشیبا نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں آسانی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسی اس ہفتے ایک نازک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے کیونکہ امریکی صدر اُن دو طرفہ معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا وہ وعدہ کر چکے ہیں، اس سے پہلے کہ درجنوں ملکوں پر دوبارہ بھاری محصولات عائد کرنے کی ڈیڈلائن تبدیل ہو جائے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق دوپہر (عالمی وقت کے مطابق شام کے چار بجے) تک پندرہ کے قریب تجارتی شراکت داروں کو ابتدائی خطوط بھیجنے والے ہیں، جن میں خبردار کیا جائے گا کہ اگر متعلقہ حکومتیں واشنگٹن سے معاہدے کرنے میں ناکام رہیں، تو امریکی درآمدات پر ٹیرف ایک بار پھر بلند سطح پر واپس آ جائیں گے۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اختتامِ ہفتہ پر کہا ہے کہ یہ ٹیرف یکم اگست سے پہلے دوبارہ نافذ نہیں ہوں گے، یہ مہلت بظاہر فریقین کو معاہدوں کے لیے مزید وقت دینے کے لیے رکھی گئی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے رواں سال اپریل کے اوائل میں تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیاہے، تاہم کچھ معیشتوں، بشمول یورپی یونین، پر اس شرح میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔</p>
<p>چونکہ اس وقت منڈیوں میں شدید مندی آئی تھی، اس لیے ٹرمپ نے ان بھاری ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا تھا تاکہ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔ یہ مہلت بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔</p>
<p>بیسنٹ نے پیر کو سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کئی اہم اعلانات متوقع ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے اب مذاکرات سے متعلق اپنا لہجہ بدل لیا ہے۔ گزشتہ رات میرے ان باکس میں نئی پیشکشوں اور تجاویز کی بھرمار تھی۔</p>
<p>انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مختلف ممالک پر بلند نرخوں والے ٹیرف یکم اگست سے قبل نافذ نہیں کیے جائیں گے۔</p>
<p>بدھ کی ڈیڈلائن کو باضابطہ طور پر توسیع دینے سے متعلق وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>جب ٹرمپ کی جانب سے بھیجے جانے والے خطوط کے بارے میں پوچھا گیا تو بیسنٹ نے کہا کہ ان خطوط میں تجارتی شراکت داروں کو آگاہ کیا جائے گا کہ اگر وہ امریکہ سے تجارت کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مصنوعات پر کون سے ٹیرف لاگو ہوں گے،سوائے اس کے کہ  وہ واپس آئیں اور مذاکرات کی کوشش کریں۔</p>
<p><strong>محدود نتائج؟</strong></p>
<p>اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے جولائی کے اوائل تک درجنوں معاہدے کرنے کی امید ظاہر کی ہے، اب تک نتائج محدود ہی رہے ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن نے اب تک صرف برطانیہ اور ویت نام کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جبکہ امریکہ اور چین نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر عائد تین ہندسوں تک پہنچنے والے ٹیرفز کو عارضی طور پر کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>بیسینٹ نے پیر کو سی این بی سی کو بتایا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے اب تک جنیوا اور لندن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے ہیں۔</p>
<p>تاہم واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بدلے کی بنیاد پر عائد ٹیرفز کی معطلی وسط اگست میں ختم ہو جائے گی۔</p>
<p>جہاں تک اب تک ہونے والے تجارتی معاہدوں کی تعداد پر مایوسی کا تعلق ہے، ٹرمپ کے تجارتی مشیر پیٹر ناروو نے کہا کہ وہ ہماری پیشرفت سے خوش ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پیر کو سی این بی سی کو بتایا کہ ہر وہ ملک جس کے ساتھ ہمارا بڑا تجارتی خسارہ ہے، مکمل طور پر مذاکرات میں مصروف ہے۔</p>
<p>اتوار کی رات ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ واشنگٹن پیر کو مختلف ممالک کو ٹیرف خطوط یا معاہدے بھیجے گا۔</p>
<p>اسی رات ایک اور پوسٹ میں، ٹرمپ نے ان ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی جو ابھرتے ہوئے برکس (برکس) ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں اینٹی امریکن پالیسیاں اپنانے کا الزام دیتے ہوئے، جنہوں نے ایک سمٹ میں اس کے ٹیرفز کی مخالفت کی تھی۔</p>
<p>فی الحال، شراکت دار ٹرمپ کے ٹیرف سے بچنے کے لیے دوڑ میں ہیں۔</p>
<p>یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لائیین اور ٹرمپ کے درمیان اتوار کو تجارت پر اچھا تبادلہ خیال ہوا ہے۔</p>
<p>تاہم جاپان کے وزیر اعظم شیگیری ایشیبا نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں آسانی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274373</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Jul 2025 22:29:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/07221057f31a1f2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/07221057f31a1f2.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
