<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کو تنازع میں گھسیٹنے کا بھارتی دعویٰ کیمپ پالیٹکس کی ناکام چال ہے، آرمی چیف عاصم منیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیر کے روز اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے نیشنل سیکیورٹی اور وار کورس کے گریجویٹ ہونے والے افسران سے اہم خطاب کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق اس کورس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے افسران نے شرکت کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر صدر این ڈی یو نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں انہوں نے جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے خدوخال کے تناظر میں ذہنی مضبوطی، تزویراتی وضاحت اور ادارہ جاتی پیشہ ورانہ صلاحیت کی اہمیت پر زور دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ این ڈی یو سول و عسکری ہم آہنگی کے فروغ اور ایسے افسران کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو روایتی، ہائبرڈ اور ابھرتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے کی بدلتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل منیر نے بھارت کی حالیہ ناکام عسکری مہم آپریشن سندور کا بے لاگ تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کا اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل نہ کر پانا، اور بعد ازاں ان کی ناکامی کا جواز گھڑنا، نئی دہلی میں اسٹریٹجک سوچ اور آپریشنل گہرائی کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس انہوں نے پاکستان کے کامیاب آپریشن بنیان مرصوص کو اعلیٰ منصوبہ بندی، مربوط حکمتِ عملی اور موثر عمل درآمد کی روشن مثال قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر بیرونی معاونت کے الزامات کو دوٹوک انداز میں بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور اسٹریٹجک انکار کی علامت قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات نہ صرف حقیقت کے منافی ہیں بلکہ بھارت کی پاکستان کی مقامی صلاحیت اور ادارہ جاتی تیاری کو تسلیم نہ کرنے کی مستقل روش کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بھارتی قیادت کی اس کوشش کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت وہ داخلی سیکورٹی کی ناکامیوں کو بین الاقوامی رنگ دے کر اپنی عسکری کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ دو طرفہ معاملات میں تیسرے فریق کو ملوث دکھانے کی یہ حکمتِ عملی محض کیمپ پالیٹکس ہے، جو نہ حقائق بدل سکتی ہے اور نہ ہی خطے کی حقیقت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل منیر نے بھارت کے علاقائی سیکورٹی کے ضامن کے طور پر خود ساختہ دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطہ نئی دہلی کی ہندوتوا پر مبنی انتہا پسندی اور توسیع پسندانہ عزائم سے بخوبی واقف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ سفارت کاری پر کاربند ہے اور اسی اصولی طرزِ عمل نے نہ صرف پاکستان کی شراکت داری کو مضبوط کیا ہے بلکہ اسے خطے میں استحکام کی ایک قوت کے طور پر نمایاں بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے دفاعی نظریے کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، شہری مراکز، عسکری اثاثوں یا اقتصادی شاہراہوں پر کسی بھی حملے کا جواب نہایت شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کی ذمہ داری مکمل طور پر اس جارح ملک پر عائد ہو گی جو ایک ایٹمی ریاست کے ساتھ مخاصمت کے نتائج کو نظر انداز کرنے کی جسارت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جنگیں درآمد شدہ ہتھیاروں، جذباتی نعروں یا میڈیا مہمات سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ وہ ایمان، پیشہ ورانہ مہارت اور ادارہ جاتی مضبوطی سے جیتی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی مسلح افواج کے جذبے، تیاری اور صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فارغ التحصیل افسران کو تلقین کی کہ وہ دیانت، ایثار اور ملکی وقار کے تحفظ کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا نصب العین بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیر کے روز اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے نیشنل سیکیورٹی اور وار کورس کے گریجویٹ ہونے والے افسران سے اہم خطاب کیا۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق اس کورس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے افسران نے شرکت کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر صدر این ڈی یو نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔</p>
<p>اپنے خطاب میں انہوں نے جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے خدوخال کے تناظر میں ذہنی مضبوطی، تزویراتی وضاحت اور ادارہ جاتی پیشہ ورانہ صلاحیت کی اہمیت پر زور دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ این ڈی یو سول و عسکری ہم آہنگی کے فروغ اور ایسے افسران کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو روایتی، ہائبرڈ اور ابھرتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>خطے کی بدلتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل منیر نے بھارت کی حالیہ ناکام عسکری مہم آپریشن سندور کا بے لاگ تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کا اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل نہ کر پانا، اور بعد ازاں ان کی ناکامی کا جواز گھڑنا، نئی دہلی میں اسٹریٹجک سوچ اور آپریشنل گہرائی کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس انہوں نے پاکستان کے کامیاب آپریشن بنیان مرصوص کو اعلیٰ منصوبہ بندی، مربوط حکمتِ عملی اور موثر عمل درآمد کی روشن مثال قرار دیا۔</p>
<p>فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر بیرونی معاونت کے الزامات کو دوٹوک انداز میں بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور اسٹریٹجک انکار کی علامت قرار دیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات نہ صرف حقیقت کے منافی ہیں بلکہ بھارت کی پاکستان کی مقامی صلاحیت اور ادارہ جاتی تیاری کو تسلیم نہ کرنے کی مستقل روش کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بھارتی قیادت کی اس کوشش کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت وہ داخلی سیکورٹی کی ناکامیوں کو بین الاقوامی رنگ دے کر اپنی عسکری کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ دو طرفہ معاملات میں تیسرے فریق کو ملوث دکھانے کی یہ حکمتِ عملی محض کیمپ پالیٹکس ہے، جو نہ حقائق بدل سکتی ہے اور نہ ہی خطے کی حقیقت۔</p>
<p>فیلڈ مارشل منیر نے بھارت کے علاقائی سیکورٹی کے ضامن کے طور پر خود ساختہ دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطہ نئی دہلی کی ہندوتوا پر مبنی انتہا پسندی اور توسیع پسندانہ عزائم سے بخوبی واقف ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ سفارت کاری پر کاربند ہے اور اسی اصولی طرزِ عمل نے نہ صرف پاکستان کی شراکت داری کو مضبوط کیا ہے بلکہ اسے خطے میں استحکام کی ایک قوت کے طور پر نمایاں بھی کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے دفاعی نظریے کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، شہری مراکز، عسکری اثاثوں یا اقتصادی شاہراہوں پر کسی بھی حملے کا جواب نہایت شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کی ذمہ داری مکمل طور پر اس جارح ملک پر عائد ہو گی جو ایک ایٹمی ریاست کے ساتھ مخاصمت کے نتائج کو نظر انداز کرنے کی جسارت کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جنگیں درآمد شدہ ہتھیاروں، جذباتی نعروں یا میڈیا مہمات سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ وہ ایمان، پیشہ ورانہ مہارت اور ادارہ جاتی مضبوطی سے جیتی جاتی ہیں۔</p>
<p>اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی مسلح افواج کے جذبے، تیاری اور صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فارغ التحصیل افسران کو تلقین کی کہ وہ دیانت، ایثار اور ملکی وقار کے تحفظ کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا نصب العین بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274368</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Jul 2025 18:26:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/0718121552689e0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/0718121552689e0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
