<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:18:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:18:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>10 جولائی تک شدید مون سون بارشیں متوقع، دریائی و اچانک سیلاب کا خطرہ ہے، این ای او سی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274367/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تحت کام کرنے والے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں 10 جولائی 2025 تک معتدل سے شدید مون سون بارشیں متوقع ہیں، جو مختلف علاقوں میں دریائی اور اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق خلیج بنگال اور بحیرۂ عرب سے آنے والی مرطوب ہوائیں ایک طاقتور مغربی ہوائی نظام کے ساتھ مل کر 10 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں معتدل سے شدید بارشوں کا باعث بنیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی کی پیش گوئی کے مطابق ان بارشوں کے باعث دریائے کابل، سندھ، جہلم اور چناب سمیت تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس وقت دریائے سندھ پر تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلی سطح کے سیلاب کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جبکہ تونسہ بھی جلد اسی سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ دریائے چناب پر مرالہ اور کھنکی کے مقامات پر نچلی سطح کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے کابل نوشہرہ کے مقام پر بھی پانی کی سطح بلند ہو کر نچلے درجے کے سیلاب تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں میں پانی کی آمد میں اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں مقامی نوعیت کے اچانک سیلاب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی آمد نچلی سطح کے سیلاب کی حد تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی نے دریاؤں، نالوں اور برساتی ندیوں کے قریب رہنے والے افراد کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پانی کی سطح میں ممکنہ اچانک اضافے، خاص طور پر رات کے وقت یا شدید بارش کے دوران، چوکس اور محتاط رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ بروقت تیاری اور امدادی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء  پیر کے روز این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ شدید مون سون بارشوں اور اچانک سیلاب کے مختلف واقعات میں اب تک 66 افراد جاں بحق اور 127 زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا، جہاں 24 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 11 بچے شامل ہیں۔ صرف سوات وادی میں گزشتہ ہفتے ایک اچانک سیلاب کے دوران 14 افراد پانی میں بہہ گئے۔ مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 31 بچے، 22 مرد اور 13 خواتین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تحت کام کرنے والے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں 10 جولائی 2025 تک معتدل سے شدید مون سون بارشیں متوقع ہیں، جو مختلف علاقوں میں دریائی اور اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق خلیج بنگال اور بحیرۂ عرب سے آنے والی مرطوب ہوائیں ایک طاقتور مغربی ہوائی نظام کے ساتھ مل کر 10 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں معتدل سے شدید بارشوں کا باعث بنیں گی۔</p>
<p>این ای او سی کی پیش گوئی کے مطابق ان بارشوں کے باعث دریائے کابل، سندھ، جہلم اور چناب سمیت تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس وقت دریائے سندھ پر تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلی سطح کے سیلاب کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جبکہ تونسہ بھی جلد اسی سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ دریائے چناب پر مرالہ اور کھنکی کے مقامات پر نچلی سطح کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے کابل نوشہرہ کے مقام پر بھی پانی کی سطح بلند ہو کر نچلے درجے کے سیلاب تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں میں پانی کی آمد میں اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں مقامی نوعیت کے اچانک سیلاب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی آمد نچلی سطح کے سیلاب کی حد تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>این ای او سی نے دریاؤں، نالوں اور برساتی ندیوں کے قریب رہنے والے افراد کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پانی کی سطح میں ممکنہ اچانک اضافے، خاص طور پر رات کے وقت یا شدید بارش کے دوران، چوکس اور محتاط رہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ بروقت تیاری اور امدادی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>دریں اثناء  پیر کے روز این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ شدید مون سون بارشوں اور اچانک سیلاب کے مختلف واقعات میں اب تک 66 افراد جاں بحق اور 127 زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ادارے کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا، جہاں 24 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 11 بچے شامل ہیں۔ صرف سوات وادی میں گزشتہ ہفتے ایک اچانک سیلاب کے دوران 14 افراد پانی میں بہہ گئے۔ مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 31 بچے، 22 مرد اور 13 خواتین شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274367</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Jul 2025 17:23:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/071704321ff0e50.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/071704321ff0e50.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
