<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمیاتی تبدیلی اور آبی قلت سے آم کی پیداوار متاثر، کاشتکاروں کی حکومت سے مدد کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274359/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کسانوں اور غذائی ماہرین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آم کے تحفظ کیلئے حکومت کو جدید طریقے و ٹیکنالوجی اپنانا ہونگے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ چیمبر آف ایگریکلچر (ایس سی اے) کے سینئر نائب صدر نبی بخش سٹھیو نے کہا کہ رواں سال آم کی پیداوار کم ہوئی جن کی کئی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے گرد اور آندھیوں سے تقریباً 15 سے 20 فیصد پھل قبل از وقت درختوں سے جھڑ گیا، دوسرا پھل لگنے کے وقت پانی کی شدید قلت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نبی بخش سٹھیو نے کہا کہ موسمی تبدیلی اور پانی کی قلت دونوں نے آم کی پیداوار اور سائز پر شدید منفی اثر ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں آم کے باغات تقریباً 1 لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ روایتی طور پر صوبے کے پانچ بڑے آم پیدا کرنے والے اضلاع میرپورخاص، ٹنڈو الہٰ یار، مٹیاری، خیرپور اور حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو جام ہیں جہاں سندھ کے 90 فیصد آم کاشت کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پنجاب میں 70 فیصد آم ملتان میں کاشت کیے جاتے ہیں جبکہ باقی 30 فیصد آم بہاولپور اور دیگر علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی پیداوار کے لحاظ سے سندھ ملک کے 60 فیصد سے زائد آم فراہم کرتا ہے جبکہ باقی آم — خصوصاً چونسہ — پنجاب میں کاشت کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ آم کی مختلف اقسام جیسے سندھڑی، چونسہ، انور رٹول، لنگڑا، دسہری، بینگن پھلی، گلاب خاص اور دیگر کے لیے مشہور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آم یکم مئی سے 31 جولائی تک مارکیٹوں میں آنا شروع ہوجاتے ہیں، جولائی کے بعد کولڈ اسٹوریج میں رکھے گئے آم یا ملتان کی اقسام دستیاب ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے نبی بخش سٹھیو نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (آئی آر ایس اے) محکمہ آبپاشی سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ آم کے موسم کے دوران باغات کو 100 فیصد پانی کی فراہمی یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آم کی کٹائی کا دورانیہ صرف ڈیڑھ ماہ کا ہوتا ہے جبکہ کسان تقریباً 10 ماہ تک ایک اچھی آمدنی کے انتظار میں رہتے ہیں۔ پھل کو مکمل طور پر پکنے میں 90 سے 100 دن لگتے ہیں اور اس دوران کم از کم چار مرتبہ پانی دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ پھل کی افزائش، مٹھاس، وزن اور سائز درست طریقے سے ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی آموں کی بین الاقوامی منڈی میں بڑی مانگ ہے۔ سندھ کے آم زیادہ تر برآمد کیے جاتے ہیں، جبکہ پنجاب کے آم زیادہ تر جوس بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور صرف 2 سے 3 فیصد آم ہی برآمد کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ زرعی یونیورسٹی (ایس اے یو) کے انسٹیٹیوٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آسیہ اکبر پنهور نے کہا کہ آم کی برآمد صرف پکے ہوئے پھلوں کے انتخاب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سائنس ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ کٹائی کے بعد کی معمولی سی غلطیاں بھی بین الاقوامی بندرگاہوں پر آم کی بڑی تعداد میں مستردگی کا سبب بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ادارے نے کسانوں کو درست کٹائی کے طریقہ کار کی تربیت دینا شروع کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرم پانی سے علاج (ایچ ڈبلیو ٹی) اب ایک لازمی مرحلہ بن چکا ہے، یہ عمل پھل میں موجود مکھی کے لاروے کو ختم کرتا ہے اور جاپان، امریکہ جیسے ممالک کے ائیٹو سینیٹری (نباتاتی تحفظ) کے عالمی معیارات پر پورا اترنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے کھیت کی مٹی اور دیگر ذرات کو صاف کرنے کے لیے مکینیکل برشنگ متعارف کرائی ہے اور آم کو داغ دھبوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کنٹرولڈ ڈی سیپنگ کا طریقہ اپنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ پیکجنگ کا معیار اعلیٰ ہو، جو پھل کی نمی کو برقرار رکھے، نقصان کے امکانات کو کم کرے اور ہر آم کی شناخت اور نگرانی (ٹریس ایبلٹی) کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ حکومت کو آم کی بڑی پیداوار والے علاقوں جیسے میرپورخاص، ٹنڈو جام، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مرکزی سطح کے آم پروسیسنگ اور ٹریٹمنٹ مراکز قائم کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان علاقوں کے بیشتر چھوٹے کسانوں کو کٹائی کے بعد درکار بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں جن میں گرم پانی سے علاج (ایچ ڈبلیو ٹی) یونٹس، خودکار گریڈنگ اور چھانٹی کی لائنیں اور برآمدی معیار کی پیکجنگ کے نظام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے ایسی سہولیات میں کی جانے والی سرمایہ کاری نہ صرف فائیٹو سینیٹری کے معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی بلکہ کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں بھی کمی لائے گی اور پاکستانی آموں کی عالمی منڈی میں فروخت کی صلاحیت میں نمایاں بہتری پیدا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام نہ صرف آم کی برآمدات میں اضافہ کا باعث بنے گا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری لائے گا اور پاکستان کو عالمی پھل منڈی میں ایک مضبوط مقام دلانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں یہ مراکز تربیتی اور نمائش کے مراکز کے طور پر بھی کام کرسکتے ہیں جو کاشتکاروں، پیکنگ کرنے والوں اور برآمدکنندگان میں بہتر زرعی اور کٹائی کے بعد کی عملی تکنیکوں کے بارے میں آگاہی اور ان کے استعمال کو فروغ دیں گے، یوں آم کی رسد کا ایک مضبوط، پائیدار اور قدر افزا نظام قائم ہوسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آموں کا تحفظ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آم کو مربوط انسدادِ کیڑے (آئی پی ایم)، بروقت کٹائی اور کٹائی کے بعد کے حفاظتی اقدامات کے ذریعے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کٹائی سے قبل آموں کے تحفظ کے لیے پھلوں کو تھیلیوں میں لپیٹنا، فیرومون ٹریپس کا استعمال اور حیاتیاتی کنٹرول جیسے طریقے اپنائے جاتے ہیں تاکہ کیڑوں سے ہونے والے نقصان کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر کٹائی کے بعد آموں کوآرام سے سنبھالنا چاہیے تاکہ چوٹ لگنے سے بچ سکیں اور گلنے سڑنے سے بچاؤ کے لیے انہیں گرم پانی یا فنگس کش ادویات سے ٹریٹ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولڈ چین مینجمنٹ، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق پیکنگ اور کنٹرول شدہ درجہ حرارت میں ترسیل، معیار کو مزید تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کاشتکاروں کو بہترین طریقہ کار اور مانیٹرنگ سسٹمز کے بارے میں آگاہی اور تربیت بھی نقصانات کم کرنے، پھلوں کی حفاظت بہتر بنانے اور برآمدی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فائیٹو سینیٹری پروٹوکولز کیا ہوتے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائیٹو سینیٹری پروٹوکولز سائنسی اقدامات ہوتے ہیں جو کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیے جاتے ہیں، اور یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آم کی برآمدات کے لیے یہ پروٹوکولز ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ  ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ، کیڑوں سے پاک علاقے کی تصدیق، مناسب دستاویزات اور ٹریس ایبلٹی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ ضوابط انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے تحت نافذ کیے جاتے ہیں اور ہر درآمدی ملک کے لحاظ سے مختلف ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ضوابط پر عملدرآمد یہ یقینی بناتا ہے کہ برآمد کیے جانے والے آم قرنطینہ کے تحت آنے والے کیڑوں جیسے فروٹ فلائی اور فنگس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے پاک ہوں، معیار کی پابندی مسترد کیے جانے کے خطرے کو کم کرتی ہے، درآمدی ملک کے حیاتیاتی تحفظ کو برقرار رکھتی ہے اور برآمد کنندہ ملک کی تجارتی ساکھ اور مارکیٹ تک رسائی کو محفوظ بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کسانوں اور غذائی ماہرین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آم کے تحفظ کیلئے حکومت کو جدید طریقے و ٹیکنالوجی اپنانا ہونگے۔</strong></p>
<p>سندھ چیمبر آف ایگریکلچر (ایس سی اے) کے سینئر نائب صدر نبی بخش سٹھیو نے کہا کہ رواں سال آم کی پیداوار کم ہوئی جن کی کئی وجوہات ہیں۔</p>
<p>سب سے پہلے گرد اور آندھیوں سے تقریباً 15 سے 20 فیصد پھل قبل از وقت درختوں سے جھڑ گیا، دوسرا پھل لگنے کے وقت پانی کی شدید قلت تھی۔</p>
<p>نبی بخش سٹھیو نے کہا کہ موسمی تبدیلی اور پانی کی قلت دونوں نے آم کی پیداوار اور سائز پر شدید منفی اثر ڈالا ہے۔</p>
<p>سندھ میں آم کے باغات تقریباً 1 لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ روایتی طور پر صوبے کے پانچ بڑے آم پیدا کرنے والے اضلاع میرپورخاص، ٹنڈو الہٰ یار، مٹیاری، خیرپور اور حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو جام ہیں جہاں سندھ کے 90 فیصد آم کاشت کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>ادھر پنجاب میں 70 فیصد آم ملتان میں کاشت کیے جاتے ہیں جبکہ باقی 30 فیصد آم بہاولپور اور دیگر علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>مجموعی پیداوار کے لحاظ سے سندھ ملک کے 60 فیصد سے زائد آم فراہم کرتا ہے جبکہ باقی آم — خصوصاً چونسہ — پنجاب میں کاشت کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سندھ آم کی مختلف اقسام جیسے سندھڑی، چونسہ، انور رٹول، لنگڑا، دسہری، بینگن پھلی، گلاب خاص اور دیگر کے لیے مشہور ہے۔</p>
<p>آم یکم مئی سے 31 جولائی تک مارکیٹوں میں آنا شروع ہوجاتے ہیں، جولائی کے بعد کولڈ اسٹوریج میں رکھے گئے آم یا ملتان کی اقسام دستیاب ہوتی ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے نبی بخش سٹھیو نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (آئی آر ایس اے) محکمہ آبپاشی سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ آم کے موسم کے دوران باغات کو 100 فیصد پانی کی فراہمی یقینی بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آم کی کٹائی کا دورانیہ صرف ڈیڑھ ماہ کا ہوتا ہے جبکہ کسان تقریباً 10 ماہ تک ایک اچھی آمدنی کے انتظار میں رہتے ہیں۔ پھل کو مکمل طور پر پکنے میں 90 سے 100 دن لگتے ہیں اور اس دوران کم از کم چار مرتبہ پانی دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ پھل کی افزائش، مٹھاس، وزن اور سائز درست طریقے سے ممکن ہو سکے۔</p>
<p>مقامی آموں کی بین الاقوامی منڈی میں بڑی مانگ ہے۔ سندھ کے آم زیادہ تر برآمد کیے جاتے ہیں، جبکہ پنجاب کے آم زیادہ تر جوس بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور صرف 2 سے 3 فیصد آم ہی برآمد کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سندھ زرعی یونیورسٹی (ایس اے یو) کے انسٹیٹیوٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آسیہ اکبر پنهور نے کہا کہ آم کی برآمد صرف پکے ہوئے پھلوں کے انتخاب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سائنس ہے</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ کٹائی کے بعد کی معمولی سی غلطیاں بھی بین الاقوامی بندرگاہوں پر آم کی بڑی تعداد میں مستردگی کا سبب بنتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ادارے نے کسانوں کو درست کٹائی کے طریقہ کار کی تربیت دینا شروع کردی ہے۔</p>
<p>گرم پانی سے علاج (ایچ ڈبلیو ٹی) اب ایک لازمی مرحلہ بن چکا ہے، یہ عمل پھل میں موجود مکھی کے لاروے کو ختم کرتا ہے اور جاپان، امریکہ جیسے ممالک کے ائیٹو سینیٹری (نباتاتی تحفظ) کے عالمی معیارات پر پورا اترنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے کھیت کی مٹی اور دیگر ذرات کو صاف کرنے کے لیے مکینیکل برشنگ متعارف کرائی ہے اور آم کو داغ دھبوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کنٹرولڈ ڈی سیپنگ کا طریقہ اپنایا ہے۔</p>
<p>اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ پیکجنگ کا معیار اعلیٰ ہو، جو پھل کی نمی کو برقرار رکھے، نقصان کے امکانات کو کم کرے اور ہر آم کی شناخت اور نگرانی (ٹریس ایبلٹی) کو یقینی بنائے۔</p>
<p>مزید یہ کہ حکومت کو آم کی بڑی پیداوار والے علاقوں جیسے میرپورخاص، ٹنڈو جام، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مرکزی سطح کے آم پروسیسنگ اور ٹریٹمنٹ مراکز قائم کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p>تاہم ان علاقوں کے بیشتر چھوٹے کسانوں کو کٹائی کے بعد درکار بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں جن میں گرم پانی سے علاج (ایچ ڈبلیو ٹی) یونٹس، خودکار گریڈنگ اور چھانٹی کی لائنیں اور برآمدی معیار کی پیکجنگ کے نظام شامل ہیں۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے ایسی سہولیات میں کی جانے والی سرمایہ کاری نہ صرف فائیٹو سینیٹری کے معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی بلکہ کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں بھی کمی لائے گی اور پاکستانی آموں کی عالمی منڈی میں فروخت کی صلاحیت میں نمایاں بہتری پیدا کرے گی۔</p>
<p>یہ اقدام نہ صرف آم کی برآمدات میں اضافہ کا باعث بنے گا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری لائے گا اور پاکستان کو عالمی پھل منڈی میں ایک مضبوط مقام دلانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>علاوہ ازیں یہ مراکز تربیتی اور نمائش کے مراکز کے طور پر بھی کام کرسکتے ہیں جو کاشتکاروں، پیکنگ کرنے والوں اور برآمدکنندگان میں بہتر زرعی اور کٹائی کے بعد کی عملی تکنیکوں کے بارے میں آگاہی اور ان کے استعمال کو فروغ دیں گے، یوں آم کی رسد کا ایک مضبوط، پائیدار اور قدر افزا نظام قائم ہوسکے گا۔</p>
<p><strong>آموں کا تحفظ</strong></p>
<p>آم کو مربوط انسدادِ کیڑے (آئی پی ایم)، بروقت کٹائی اور کٹائی کے بعد کے حفاظتی اقدامات کے ذریعے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔</p>
<p>کٹائی سے قبل آموں کے تحفظ کے لیے پھلوں کو تھیلیوں میں لپیٹنا، فیرومون ٹریپس کا استعمال اور حیاتیاتی کنٹرول جیسے طریقے اپنائے جاتے ہیں تاکہ کیڑوں سے ہونے والے نقصان کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکے۔</p>
<p>ادھر کٹائی کے بعد آموں کوآرام سے سنبھالنا چاہیے تاکہ چوٹ لگنے سے بچ سکیں اور گلنے سڑنے سے بچاؤ کے لیے انہیں گرم پانی یا فنگس کش ادویات سے ٹریٹ کرنا چاہیے۔</p>
<p>کولڈ چین مینجمنٹ، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق پیکنگ اور کنٹرول شدہ درجہ حرارت میں ترسیل، معیار کو مزید تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کاشتکاروں کو بہترین طریقہ کار اور مانیٹرنگ سسٹمز کے بارے میں آگاہی اور تربیت بھی نقصانات کم کرنے، پھلوں کی حفاظت بہتر بنانے اور برآمدی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p><strong>فائیٹو سینیٹری پروٹوکولز کیا ہوتے ہیں</strong></p>
<p>فائیٹو سینیٹری پروٹوکولز سائنسی اقدامات ہوتے ہیں جو کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیے جاتے ہیں، اور یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔</p>
<p>آم کی برآمدات کے لیے یہ پروٹوکولز ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ  ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ، کیڑوں سے پاک علاقے کی تصدیق، مناسب دستاویزات اور ٹریس ایبلٹی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ ضوابط انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے تحت نافذ کیے جاتے ہیں اور ہر درآمدی ملک کے لحاظ سے مختلف ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>ان ضوابط پر عملدرآمد یہ یقینی بناتا ہے کہ برآمد کیے جانے والے آم قرنطینہ کے تحت آنے والے کیڑوں جیسے فروٹ فلائی اور فنگس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے پاک ہوں، معیار کی پابندی مسترد کیے جانے کے خطرے کو کم کرتی ہے، درآمدی ملک کے حیاتیاتی تحفظ کو برقرار رکھتی ہے اور برآمد کنندہ ملک کی تجارتی ساکھ اور مارکیٹ تک رسائی کو محفوظ بناتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274359</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Jul 2025 14:52:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/071222559374b3d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/071222559374b3d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
